شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو…

شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو وہ کیا کرے گا؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 3

شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو وہ کیا کرے گا؟

جواب1: وہ آ کر سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ اور سیدہ عائشہؓ سے انتقام لے گا۔
شیعہ علماء نے بڑی صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ان کا امام مہدی منتظر جب آئے گا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زندہ کرے گا پھر انہیں کھجور کے تنے کے ساتھ سولی پر چڑھائے گا اور انہیں ہر روز ایک ہزار مرتبہ قتل کرے گا پھر انہیں ایک درخت کے ساتھ سولی دے گا۔ پھر ایک آگ کو حکم دے گا وہ زمین سے نکل کر ان دونوں کو درخت سمیت جلا دے گی پھر وہ ہوا کو حکم دے گا تو انہیں سمندر میں پھینک دے گی۔
مفضل نے کہا یا سیدی کیا یہ ان دونوں کی آخری سزا ہو گی فرمایا اے مفضل بالکل نہیں۔
(مختصر بصائر الدرجات: صفحہ، 417 رقم 516 بحار الانوار: جلد، 53 صفحہ، 14 باب ما يكون عند ظہوره الأنوار النعمانية: جلد، 2 صفحہ، 85 نور فی كيفية رجعته)
شیعہ علماء نے کئی دعائیں تصنیف کی ہیں جو کہ مہدی اپنے ظہور کے لیے ہر روز مانگتا ہے تاکہ وہ ان دو حضرات سے انتقام لے۔
(مختصر بصائر الدرجات: جلد، 430 رقم 514 الشيعہ والرجعة: صفحہ، 139)
مجلسی کہتا ہے جب مہدی ظاہر ہو گا تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زندہ کر کے اس کو حد لگائے گا۔
(حق اليقين: صفحہ، 347)
2: عربوں کا قتل: نعمانی روایت کرتا ہے کہ ابو عبداللہؒ نے فرمایا ہمارے اور عرب کے درمیان صرف ذبح کرنا باقی رہ گیا ہے۔
(الغيبة: صفحہ، 241 ح، 24 باب ما روى من صفة و سيرته و فعله وما نزل من القرآن فيه بحار الأنوار: جلد، 52 صفحہ، 349 ح، 101 باب سیره و أخلاقه و عدد أصحابه و خصائص زمانه و احوال اصحابه)
اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔
تعلیق:
ملاحظہ فرمائیں اس قتل و غارت گری میں تمام عربوں کو شامل کیا گیا ہے۔ شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں کیا گیا حالانکہ عربوں میں شیعہ بھی پائے جاتے ہیں اسی لیے ایرانی شیعہ علماء نے ابو عبداللہؒ کے نام پر روایت کر لی ہے کہ انہوں نے فرمایا عربوں سے بچو کیونکہ ان کے بارے میں بڑی بری خبر ہے۔خبردار امام قائم کے ساتھ عربوں میں سے کوئی نہ ہوگا۔
(الغيبة للطوسی: صفحہ، 308 فصل: فی ذكر طرف من صفاته ومنازله و سيرته بحار الأنوار: جلد، 52 صفحہ، 333 ح، 62 میں ہے کہ ان میں سے اس کے ساتھ کوئی نہیں نکلے گا۔ باب سيره و اخلاقه و عدد أصحابه
خمینی کی عراقی عوام کے خلاف جنگ اسی اصول کی عملی شکل تھی جس میں شیعہ سنی کی کوئی تفریق روا نہیں رکھی گئی یعنی اصل مقصد یہ تھا کہ صرف عربوں کو قتل کرو۔
اے شیعانِ عرب کیا آپ کے لیے غور و فکر کرنے کا وقت نہیں آیا کہ تم جان لو کہ تمہارے دین کا بانی اور موجد عبداللہ بن سبا یہودی تھا اور اس کے مجوسی بھائی تھے۔ غور کرو مہدی کے خروج کے ساتھ تمہیں کیسی دھمکیاں دی جا رہی ہیں غور کرو کس طرح تمہارے مذہب کے علماء نے اپنے اصلی دین مجوسیت اور یہودیت کو تمہارا مذہب بنا دیا ہے تمہارے مذہبی علماء روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین سیدنا علیؓ بن ابی طالب نے تمہارے مذہب کے بادشاہ کسریٰ کو زندہ کیا اور اس کی کھوپڑی سے کہا اے کھوپڑی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے ضرور بتاؤ کہ میں کون ہوں اور تم کون ہو؟ کھوپڑی نے فصیح زبان میں کہا تم امیر المومنین سید الوصیین امام المتقین ہو اور میں اللہ کا بندہ اللہ کی بندی کا بیٹا کسریٰ بن أنو شیروان ہوں۔ لیکن اس کفر کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مجھے جہنم سے بچا لیا ہے اور جہنم کی آگ مجھ پر حرام ہے۔
(بحار الأنوار: جلد، 41 صفحہ، 214 تاريخ امير المومنين مستدرك الوسائل: جلد، 18 صفحہ، 168 عام نمبر، 22410 خاص نمبر، 1 باب حكم الغلاة والقدرية)
اس مہدی مزعوم کی تلوار صرف عرب میں ہی کام کیوں کرے گی؟
کیا رسول اللہﷺ عربی نہیں؟ کیا امیر المومنین رضی اللہ عنہ اور تمہارے ائمہ عربی نہیں؟ کیا تمہارا مہدی منتظر عربی نہیں؟ یا وہ اصفہان کے یہودی فقہاء میں سے ہے؟  
ابو عبداللہؒ سے روایت کرتے ہیں امام مہدی کا ظہور دس میں سے نو حصے لوگوں کے فوت ہونے تک نہیں ہو گا۔
(الغبية للنعمانی صفحہ، 283 ح، 53 باب ماجاء فی العلامات التی تكون قبل قيام القائم و يدل على ان ظہوره يكون بعدها كما قالت الائمة- بحار الأنوار: جلد، 52 صفحہ، 244 ح، 120- باب علامات ظہوره)
تعارض:
انہوں نے ایک اور افتراء پردازی کی ہے کہ محمد بن مسلم اور ابو بصیر دونوں ابو عبداللہؒ ہی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا مہدی کا ظہور اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کہ دو دہائی لوگ ختم نہ ہو جائیں۔
(كتاب الغبية: صفحہ، 229 فصل فی ذكر العلة المانعة لصاحب الأمر من الظہور)
3: صفا اور مروہ کے درمیان حجاج کرام کو قتل کرنا: روایت کرتے ہیں کہ گویا حمران بن أعین اور میسر بن عبدالعزیز کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان حاجیوں کو اپنی تلواروں کے ساتھ قتل کر رہے ہیں۔
(بحار الأنوار: جلد، 53 صفحہ، 40- ح، 7 ابواب النصوص من الله تعالٰى و من آياته عليه السلام، باب الرجعة صفحہ، 29) 
خمینی جس کی رائے میں شیعی فقیہ امام غائب کا نائب ہوتا ہے اس نے اپنے پیروکاروں کے ذریعے 1407ھ کے حج کے دوران قتل و غارت کے اس خواب کی تعبیر کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تمناؤں کو خاک میں ملا دیا تھا پھر اس کے اتباع نے 1409ھ کے حج کے دوران بم دھماکے کیے جس میں پر امن حجاج شہید ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے گھر کا حج و عمرہ کرنے والوں کی حفاظت فرمائے۔ (آمین) 
4: مسجد حرام، مسجد نبوی اور نبی مکرمﷺ کے حجرہ کو منہدم کرنا: 
شیعہ علماء روایت کرتے ہیں کہ ابو عبداللہؒ نے فرمایا القائم مسجد حرام کو منہدم کر کے اس کو اصلی بنیادوں پر لٹا دے گا اور رسول اللہﷺ کی مسجد کو بھی گرا کر اس کی اصلی بنیادوں پر قائم کر دے گا۔ 
(كتاب الغیبة: صفحہ، 306 فصل فی ذكر طرف من صفاته و منازله و سیرته بحار الانوار: جلد، 53 صفحہ، 338 ح، 80 باب سیره و اخلاقه و عدد اصحابه)
صفحہ 1 از 3