شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو…

شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو وہ کیا کرے گا؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3
جب ان کے مہدی کا خروج متاخر ہوتا گیا تو قرامطہ نے 317ھ میں مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے حجر اسود کو اکھیڑ لیا لیکن وہ اسے لے کر قم نہیں گئے بلکہ بحرین لے گئے اور پھر 22 سال تک یہ انہی کے پاس رہا۔
مسجد حرام کو کیوں منہدم کیا جائے گا؟ لوگوں کا قبلہ کہاں ہو گا؟
روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنینؓ نے کوفے کی مسجد میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے اہل کوفہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو فضل و شرف عطا کیا ہے وہ کسی اور کو عطا نہیں کیا تمہاری یہ مسجد حضرت آدم علیہ السلام کا گھر ہے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کا گھر ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مسجد ہے۔ اور دن اور رات کی گردش ختم ہونے سے قبل حجر اسود اس میں نصب کیا جائے گا۔
(من لا يحضره الفقيه: جلد، 1 صفحہ، 92 ح، 696 باب فضل المساجد و حرمتہا وسائل الشيعة: جلد، 3 صفحہ، 309- ح، 18 باب تاكد استحباب قصد مسجد الاعظم بالكوفة و لو من بعيد كتاب الوافی جلد، 14 صفحہ، 1447 باب فضل الكوفة الخ)
ان کا دعویٰ ہے کہ ان مہدی نے یہ فرمایا ہے میں یثرب آؤں گا اور حجرے کو گرا دوں گا۔
(دلائل الامامة: صفحہ، 546 ح 522 معرفة من شاہد صاحب الزمان فی حال الغيبة و عرفه من اصحابنا مختصر بصائر الدرجات: صفحہ، 392 ح، 50 تتمة ما تقدم من احاديث الرجعة۔ بحار الأنوار: جلد، 53 صفحہ، 104 ح، 131 باب الرجعة)
عہدِ حاضر کے شیعہ عالم اور ان کے آیت اللہ حسین الخراسانی کا کہنا ہے کہ بے شک شیعہ گروہ ہر وقت انتظار میں ہے کہ وہ دن آنے ہی والا ہے جب ایک مرتبہ پھر ان کے لیے مقدس علاقے فتح ہوں گے تاکہ وہ پورے اطمینان اور امن کے ساتھ مقدس علاقوں میں داخل ہو سکیں اپنے رب کے گھر کا طواف کریں مناسکِ حج ادا کریں اور اپنے سادات و مشائخ کی قبروں کی زیارت کریں۔ اور ان علاقوں میں کوئی ظالم بادشاہ نہیں ہو گا جو ان کی عزت میں گستاخی کر سکے اور اسلامی حرمت کو تار تار کر سکے اور ان کے محفوظ خون کو بہا سکے۔ یا ظلم سرکشی کرتے ہوئے ان کے اموال لوٹ سکے اللہ ہماری آرزوئیں پوری فرمائے۔ 
(الاسلام على ضوء التشيع: صفحہ، 132، 133- یہ کتاب دارالقریب قاہرہ کو ہدیہ کی گئی۔ اس کے غلاف میں لکھا ہے کہ وہ کتاب عربی فارسی اور انگریزی میں نشر کی گئی ہے۔ اور ایرانی وزارت معارف کی طرف سے اسے سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔) 
خمینی کے انقلاب کی حمایت کے لیے 17 مارچ 1979ء موافق 18/ 4/ 1399 کو عبادان میں سرکاری طور پر ایک جلسہ عام انعقاد کیا گیا ہے اس میں ان کے عالم ڈاکٹر محمد مہدی صادقی نے تقریر کرتے ہوئے کہا مشرق و مغرب میں رہنے والے میرے مسلمان بھائیو میں پوری وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ کا حرم ہے جس پر یہودیوں کا ایک گروہ قبضہ کرے گا اور انہیں فتح کا وعدہ دیا۔
(یہ خطبہ 17 مارچ 1979ء کو عبدان کے ریڈیو آواز اسلامی انقلاب عبدان سے دن 12 بجے نشر کیا گیا)
اسی طرح خمینی حکومت کے ذرائع ابلاغ میں اس عقیدے کی منظر کشی پر مشتمل تصاویر بکثرت شائع اور نشر کی جاتی ہیں۔ مثلاً ایک تصویر میں دائیں جانب مسجد حرام اور بائیں جانب مسجد اقصیٰ جبکہ ان کے درمیان میں ایک ہاتھ میں بندوق دکھائی گئی ہے اور اس کے نیچے لکھا ہے ہم عنقریب دونوں قبلے آزاد کرائیں گے۔
(مجلة الشہيد الايرانية: شمارہ نمبر 36، بتاريخ 16/ 10/ 1400ھ دیکھیے: جريدة المدينة السعودية: 27/ 11/ 1400ھ)
5: آل داؤد کے حکم کا نفاذ: یعنی وہ دین اسلام کو منسوخ کر کے یہودی مذہب کی طرف لوٹ جائیں گے۔ شیعہ مذہب کے ثقہ عالم کلینی نے اپنی کتاب میں یہ عنوان قائم کیا ہے باب جب ائمہ کا غلبہ ہو جائے گا تو وہ داؤد اور آلِ داؤد کا حکم نافذ کریں گے۔ اور ان سے دلیل طلب نہیں کی جائے گی پھر روایت بیان کی کہ سیدنا علی بن حسینؓ سے پوچھا گیا تم کس قانون کے مطابق فیصلہ کرو گے انہوں نے جواب دیا آلِ داؤد کے قانون کے مطابق اور اگر کسی چیز نے ہمیں پریشان کیا تو وہ روح القدس جبرائیل علیہ السلام بتا دیں گے۔ 
(اصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 300 كتاب الحجة: ح، 4، باب فی الأئمة انهم اذا ظهر امرهم حكموا بحكم داود و آلِ دواد)
تضاد بیانی:
انہوں نے ایک اور افتراء پردازی بھی کی ہے کہ سیدنا ابو جعفرؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا۔ امام القائم بعض فیصلے کرے گا تو ان کے کچھ ساتھی اسے ناپسند کریں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے پہلے لوگوں کی گردنیں حضرت آدم علیہ السلام کے حکم پر کاٹی جا چکی ہوں گی لہٰذا القائم ان کے پاس آئے گا اور ان کی گردنیں کاٹ دے گا پھر وہ دوسری مرتبہ فیصلہ کرے گا تو کچھ ساتھی اسے ماننے سے انکار کر دیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے اباء حضرت داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے مطابق تلوار سے قتل کیے جا چکے ہوں گے۔ لہٰذا القائم ان کے پاس آ کر انہیں بھی قتل کر دے گا پھر تیسرا فیصلہ کرے گا تو جو کچھ اصحاب اسے تسلیم نہیں کریں گے یہ وہ افراد ہوں گے جن کے سلف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قضا پر قتل ہوئے تھے لہٰذا القائم ان کے پاس آئیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے پھر چوتھا فیصلہ کریں گے جو محمدﷺ کی قضا کے مطابق ہو گا تو کوئی شخص انکار نہیں کرے گا۔
(بحار الأنوار: جلد، 52 صفحہ، 389 ح، 207 باب سیره و أخلاقه)
تعارض:
خود شیعہ علماء نے یہ روایت کی ہے کہ جب اہلِ بیتؓ کا القائم آئے گا تو انصاف سے فیصلے کرے گا رعایا میں عدل کرے گا جو شخص اس کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے القائم کی نافرمانی کی تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ بلاشبہ انہیں مہدی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک پوشیدہ امر کی طرف ہدایت دیں گے وہ انطاکیہ کی ایک غار سے تورات اور اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں نکال لائیں گے پھر اہلِ تورات کے فیصلے تورات کے مطابق اہلِ انجیل کے جھگڑوں کا فیصلہ انجیل کے مطابق اہلِ زبور کے مقدمات کا فیصلہ زبور کے مطابق اور اہلِ قرآن کے فیصلے قرآن کے مطابق کریں گے۔
(الغيبة: صفحہ، 243 ح، 26 باب 113 ما روی صفته و سيرته بحار الأنوار: جلد، 25 صفحہ، 351 ح، 103 باب سيره و أخلاقه و عدد أصحابه)
صفحہ 2 از 3