شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو…

شیعہ عقیدہ کے مطابق ان کا بارہواں مزعوم امام جب آئے گا تو وہ کیا کرے گا؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 3
یعنی وہ ماسونیہ فرقے کی دعوت کا پرچم بلند کریں گے جو ایک عالمی مذہب (اتحاد بین المذاہب) کی علمبردار ہے؟
سیدنا باقرؒ پر الزام تراشی کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ مقامِ ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان بیٹھ کر لوگوں سے ایک نئی کتاب پر بیعت لے رہے ہیں وہ کتاب عربوں پر بڑی سخت اور بھاری ہے۔ 
(بلکہ شریف رضی نے اپنی کتاب خصائص امیر المومنین علی بن ابی طالبؓ صفحہ، 31 میں افتراء کرتے ہوئے لکھا ہے سیدنا علیؓ بن ابی طالب کہا کرتے تھے اگر میرے لیے یہ سلطنت اکٹھی کر دی گی تو میں اہلِ تورات میں تورات اور اہلِ انجیل میں انجیل اور اہلِ زبور میں زبور اور اہلِ قرآن میں قرآن کے مطابق فیصلے کروں گا۔ 
(الغيبة: صفحہ، 200 ح، 1 باب، 11 ما روى فيما امر به الشيعة من الصبر و الكف والانتظار للفرج وترك الاستعجال بامر الله و تبدبيره، بحار الأنوار: جلد، 25 صفحہ، 135 ح، 40۔ باب فضل انتظار الفرج و مدح الشيعة ف زمان الغيبة)
تعلیق:
اے مسکین عرب شیعہ اس کے باوجود کہ تمہاری سابقہ روایت اعتراف کرتی ہے کہ تمہارا امام مہدی ایسی کتاب نکالے گا جو مسلمانوں کے موجودہ قرآن کے سوا کوئی اور ہو گی اور یہ بھی کہ وہ رسول اللہﷺ حضرت علیؓ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی سیرت پر نہیں چلے گا بجار الانوار میں لکھا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو باعثِ رحمت بنا کر بھیجا تھا اور القائم عذاب بنا کر بھیجے جائیں گے۔
(علل الشرائع: جلد، 2 صفحہ، 566 ح، 19 باب 385 نوادر العلل تفسير الصافی: جلد، 3 صفحہ، 359 ح، 107 سورة الأنبياء ابحار الأنوار: جلد، 52 صفحہ، 314 ح، 9 باب سیره و اخلاقه و عدد اصحابه و خصائص زمانه و احوال اصحابه)
زرارہ نے ابو جعفرؒ سے القائم کے بارے میں سوال کیا۔ کیا القائم حضرت محمدﷺ کی سیرت پر چلیں گے؟
اس نے جواب دیا بالکل نہیں یہ نا ممکن ہے اے ضرارہ وہ ان کی سیرت پر نہیں چلیں گے۔
میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان وہ کیوں؟
انہوں نے جواب دیا بے شک رسول اللہﷺ اپنی امت کے لوگوں پر احسان اور نرمی کرتے تھے اور ان کے دل اپنے ساتھ ملاتے تھے جب کہ القائم انہیں قتل کرے گا اور کسی کی بھی توبہ نہیں مانے گا۔
(الغيبة: صفحہ، 236 ح، 14 باب نمبر، 13 ما روى فی صفته وسيرته بحار الأنوار: جلد، 52 صفحہ، 353 ح، 109 باب سيره وأخلافة)
ان روایات کا تقاضا یہ ہے کہ القائم رسول اللہﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت پر نہیں چلے گا؟ اے شیو کہیں تمہارا القائم منتظر یہودی ریاست اسرائیل کا قیام یا مسیح دجال تو نہیں آخر آلِ داؤد کے حکم کی تنقید ہی کیوں کریں گے؟ کیا یہ اس بات کا اشارہ نہیں کہ شیعہ مذہب کا اصل یہودیت ہے؟ کیونکہ اسرائیلی حکومت کے قیام سے آل داؤد کے حکم کی تنقید لازمی ہے ۔اور جب اسرائیلی حکومت قائم ہوئی تو اس کے ابتدائی اعمال میں سے مسلمانوں کا قتل اور خصوصاً عربوں کا قتل تھا بنی اسرائیل کی حکومت مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کو منہدم کرنے کے خواب بھی دیکھتی ہے ان کی تمنا ہے کہ وہ قرآنِ مجید کے بدلے میں ایک نئی کتاب منظر عام پر لائیں شیعہ مذہب کے مؤسسین کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے 12 ائمہ کی تعداد بنی اسرائیل کے 12 اسباط کے موافق ہے وہ جبرائیل علیہ السلام کو نا پسند کرتے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں۔ 
قُلۡ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِيۡلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏۞ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓئِکَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰٮلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ۞
(سورۃ البقرة: آیت، 97، 98)
ترجمہ: (اے پیغمبر) کہہ دو کہ اگر کوئی شخص جبرئیل کا دشمن ہے تو (ہوا کرے) انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے تمہارے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے، اور ایمان والوں کے لیے مجسم ہدایت اور خوش خبری ہے اگر کوئی شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا، اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ 
6: وراثت کے قانون میں تبدیلی: سیدنا صادقؒ پر بہتان بازی کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں کے درمیان مواخات قائم کی ہے یہ بھائی چارہ ان کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا اگر اہلِ بیت کا قائم آ گیا تو وہ اپنے اسی بھائی کو اپنا وارث بنائیں گے جن کے ساتھ بھائی چارہ قائم ہوا تھا وہ اپنے خونی بھائی کو وارث نہیں بنائیں گے۔
(الاعتقادات: صفحہ، 48 باب الاعتقادات فی النفوس والأرواح)

صفحہ 3 از 3