Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

احکام کو محفوظ کرنا اور ان پر گواہ بنانا

  علی محمد الصلابی

رابعاً: احکام کو محفوظ کرنا اور ان پر گواہ بنانا

عہد اموی میں پہلی بار قاضیوں کے صادر کردہ احکام کو رجسٹر اور دیوان محکمہ میں محفوظ کرنے کا رواج ہوا، تاکہ قاضی بوقت ضرورت ان کی طرف رجوع کر سکے اور سب سے پہلے یہ کام عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں مصر کے قاضی سلیم بن عنز تجیبی نے کیا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب میراث کی تقسیم کے سلسلے میں کچھ لوگ ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے تو انہوں نے ان کے درمیان فیصلہ کر دیا۔ وہ ایک عرصہ تک غائب رہے پھر باہم اختلاف کیا اور ان کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہ دوبارہ ان کے پاس آئے اور ان سے دوسری دفعہ فیصلہ کروانا چاہا۔ مگر قاضی کو ان کا واقعہ یاد آ گیا۔ جب انہوں نے ان کے سامنے ساری تفصیل بیان کی تو انہوں نے اس کا اعتراف کر لیا۔ اس پر قاضی سلیم بن عنز نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ وہ عدالتی احکامات کو تحریری طور سے محفوظ بنائے، آپ نے انہیں اپنا فیصلہ لکھ کر دیا اور اس پر گواہ بنائے۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 180)

کندی فرماتے ہیں: سلیم بن عنز مصر میں پہلے قاضی تھے جنہوں نے اپنے فیصلے تحریری طور پر محفوظ کیے۔

(ایضاً صفحہ 180)

 ہم تک پہنچنے والی معلومات کی رو سے سلیم تجیبی پہلے قاضی تھے جنہوں نے عدالتی احکامات کی توثیق اور ان سے انکار کا راستہ بند کرنے کے لیے ان پر گواہ بنائے۔ بعد ازاں عباسی دور حکومت میں اس میں مزید وسعت آ گئی۔

( ایضاً: صفحہ 180)