Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نگرانی اور مسلسل جائزہ

  علی محمد الصلابی

سادساً: نگرانی اور مسلسل جائزہ

خلفاء اور ولاۃ الامور کا ازخود فیصلے کرنے کے عمل سے علیحدگی اختیار کرنے اور صرف قضاۃ کی تقرری اور معزولی کے اختیارات استعمال کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ قاضیوں کے اعمال کی نگرانی اور ان کی طرف سے صادر ہونے والے فیصلوں سے بھی الگ تھلگ ہو جائیں، اس لیے کہ اصلاً خلیفہ ہی قضاء اور دین و دنیا کے حوالے سے امت اور افراد امت کے جملہ معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ قضاء کو قاضیوں کے حوالے کر دینے سے خلیفہ دنیا و آخرت میں اس کی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خلفاء قاضیوں کے اعمال کی نگرانی کرتے اور ان کی طرف سے جاری کردہ احکامات کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے تھے اور اگر انہیں اس میں کوئی خلل، نقص یا انحراف نظر آتا تو اسے درست کرتے۔

(ایضاً: صفحہ 186)

معاویہ بن صخر نے منصب اقتدار سنبھالنے کے بعد قاضیوں کی نگرانی کے حوالے سے سابقہ طریق کار کو بحال رکھا اور وہ اس بارے میں اپنے سے قبل کے خلفاء کے نقش قدم پر گامزن رہا۔

(ایضاً: صفحہ 186)