اموی دور حکومت میں عدالتی احکامات کے مصادر
علی محمد الصلابیسابعاً: اموی دور حکومت میں عدالتی احکامات کے مصادر
عہد اموی کے قاضی حضرات انہی مصادر پر اعتماد کرتے تھے جن پر عہد خلافت راشدہ کے قضاۃ کیا کرتے تھے، یعنی کتاب و سنت، اجماع، گزشتہ عدالتی فیصلے اور اجتہاد، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا التزام وہ اصل اساس ہے جس کا خلافت التزام کرتی اور اسی پر بیعت مکمل ہوتی تھی، عدالتی فیصلے جاری کرتے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اور ان کی طرف سے صادر کردہ فیصلوں کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے، اس لیے کہ وہ زمانی طور پر مدرسہ نبوت اور نزول وحی کے قریب ترین تھے اور ان کا ولی کے ساتھ گہرا ربط و ضبط تھا اور خاص طور سے خلفائے راشدینؓ کے جاری کردہ فیصلے ان سے بہت قریب تھے، پھر چونکہ خلافت امویہ کے طول و عرض میں مختلف نسلوں اور عادات و اطوار کے لوگ آباد تھے، حکام کے جاری کردہ فیصلوں پر عرف اور عادت کے اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے، اس بنا پر قاضی حضرات اقوال، دعویٰ جات، قسموں اور تہمتوں کا اس اصلیت کی رو سے جائزہ لیتے جو ان الفاظ اور اصطلاحات کا مفہوم و معنٰی متعین کرتیں۔
(المدخل الفقہی: جلد ض صفحہ 150)
فقہاء، قضاۃ اور خلفاء نے جن نقول اور احادیث پر اعتماد کرنا ہوتا ان کے صحیح اور یقینی ہونے کا بڑا اہتمام کرتے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جھوٹی احادیث پر اعتماد کرنے سے خبردار کرتے ہوئے قریش کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو نہ تو کتاب اللہ میں ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی منقول ہیں، یہ تمہارے جاہل لوگ ہیں۔
(علام الموقعین: جلد 1 صفحہ 63)
قاضی حضرات اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے خلفاء اور ولاۃ الامور سے بھی معاونت لیا کرتے تھے، انہیں بجز ان امور کے جن میں نصوص وارد ہوں یا ان پر اجماع امت ہو اپنی اجتہادی آراء کی روشنی میں فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل تھی، مزید برآں وہ کسی حد تک گزشتہ عدالتی فیصلوں اور اقوال صحابہ سے بھی استفادہ کیا کرتے تھے۔ چونکہ اس وقت فقہی مذاہب کا ظہور نہیں ہوا تھا اور نہ فقہی احکام مرتب ہی ہوئے تھے، لہٰذا وہ مختلف فقہاء، علماء اور مجتہدین کے ساتھ مشاورت کے بعد جس نتیجے پر پہنچتے اس کے مطابق فیصلہ صادر کرتے، جبکہ کبھی ان کی ذاتی فقہی رائے بھی فیصلے کی بنیاد بن جایا کرتی تھی۔
(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 190)