عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی
علی محمد الصلابیثامناً: عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی
اموی دور حکومت میں دولت اسلامیہ میں وسعت آنے، انسانی آبادی بڑھ جانے، خلفاء کے اسلامی فتوحات میں مصروف ہو جانے، حکومتی انتظامات چلانے اور اندرونی فتنوں کو کچلنے میں مشغول ہو جانے کی وجہ سے خلفاء خود قضاء سے الگ ہو گئے اور اسے قاضیوں کے حوالے کر دیا۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے زخموں، قتل اور قصاص کے تمام مقدمات قاضیوں کے سپرد کیے اور خود ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ چنانچہ انہوں نے مصر کے قاضی سلیم بن عتر کو زخموں کے مقدمات کا جائزہ لینے اور انہیں صاحب دیوان کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا، زخموں کے مقدمات کا جائزہ لینے اور ان کے بارے فیصلے کرنے والے سلیم پہلے قاضی تھے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو زخمی کر دیتا تو وہ قاضی کے سامنے پیش ہوتا، زخمی کرنے والے کے خلاف گواہ پیش کرتا اور پھر وہ اس کی گواہی کی روشنی میں مقدمات اور مجرم کے ذمے واجب الاداء جرمانہ تین سالوں میں بالاقساط وصول کرتا۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ: صفحہ 256)
عہد اموی میں قاضی حضرات حقوق، اموال، وراثت، قصاص، حدود اور خاندانی احکام کے معاملات کا جائزہ لیتے اور ان کے بارے میں فیصلے صادر کرتے۔ اس دور میں قاضیوں کی سیرت و کردار، ان کے احکامات اور عدالتی طریق کار کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے وکیع کی ’’اخبار القضاۃ‘‘ اور کندی کی ’’الولاۃ و القضاۃ‘‘
(تاریخ القضاۃ فی الاسلام: صفحہ 193 )
گراں قدر تالیفات ہیں۔ عہد اموی میں بعض دیگر امور بھی قاضیوں کے سپرد کر دیے گئے تھے۔ مثلاً یتامیٰ کے اقوال کا جائزہ لینا، اوقاف اور افتاء کی نگرانی کرنا وغیرہ۔
(ایضاً: صفحہ 193، 194)