Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاضی حضرات کی اضافی ذمہ داریاں

  علی محمد الصلابی

تاسعاً: قاضی حضرات کی اضافی ذمہ داریاں

چونکہ قاضی حضرات پر اعتماد کیا جاتا تھا اور وہ عدل برائی سے اجتناب اور ورع و تقویٰ جیسے اوصاف حمیدہ سے متصف ہوتے تھے، لہٰذا عہد اموی کے خلفاء نے انہیں کچھ دیگر ذمہ داریاں بھی تفویض کر دی تھیں، مثلاً:

1۔ پولیس: قاضیوں کو ان کی عدالتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ پولیس کی سربراہی کی اضافی ذمہ داری بھی تفویض کر دی جاتی تھی اور ایسا متعدد اسلامی شہروں میں ہوا۔ وکیع روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے 53ھ یا 54 ھ میں سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے معزول کر دیا، پھر مروان بن حکمؒ نے اسے واپس بلا لیا اور ابوسلمہ کو معزول کر دیا اور اس کے بھائی مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوفؒ کو قاضی مقرر کر دیا اور اسے پولیس کی ذمہ داریاں بھی تفویض کر دیں۔ اس نے لوگوں پر بڑی سختیاں روا رکھیں۔

(اخبار القضاۃ: جلد 1 صفحہ 118)

کندی مسلمہ بن حکم کے بارے میں رقمطراز ہیں: مروانؒ نے ابوسلمہ کو معزول کر کے اس کی جگہ مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوفؒ کو قاضی مقرر کر کے پولیس کو بھی اس کے ماتحت کر دیا جب اس نے پولیس کی سربراہی سنبھالی تو اس نے لوگوں پر بڑی سختی کی۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 118)

کندی مسلمہ بن مخلد کے بارے میں لکھتے ہیں: مسلم فسطاط آیا تو آتے ہی سائب بن عنز کو قضاء سے معزول کر کے عدالتی اختیارات بھی عابس کے سپرد کر دئیے، مسلمہ پہلا شخص تھا جس نے 60ھ میں عابس کا ان دونوں عہدوں پر بیک وقت تقرر کیا۔

(تاریخ القضاء: عرنوس: صفحہ 26۔ الولاء و القضاء: صفحہ 311، 313)

پھر جب عبدالرحمٰن بن عتبہ بن جحدم فہری مصر کا امیر بن کر آیا تو اس نے بھی عابس کو ان دونوں عہدوں پر برقرار رکھا۔ کندی بتاتے ہیں کہ والی مصر مسلمہ بن مخلد نے عابس بن سعید کا پولیس پر تقرر کیا پھر اس کے لیے قضاء اور پولیس کو یکجا کر دیا، یہ 61ھ کی بات ہے۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 196)

2۔ امارت: بعض اوقات بعض قضاۃ کو ولایت کی ذمہ داریاں بھی تفویض کی جاتیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ جب خلیفہ دمشق سے باہر جاتا تو وہ قاضی کو اپنا نائب مقرر کر کے جاتا، اکثر وُلاۃ الامور قاضی کو اپنا قائم مقام بناتے اور اپنی عدم موجودگی میں انہیں اپنے اختیارات سونپ جاتے۔ ابوزرعہ کہتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صفین گئے تو قاضی فضالہ بن عبید کو دمشق پر اپنا نائب مقرر کر گئے۔

( اخبار القضاۃ: جلد 3 صفحہ 199، 201۔ تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 198)