ایک لڑکے نے شیعہ کے مکان میں سکونت اختیار کی اُن کی طرح…

ایک لڑکے نے شیعہ کے مکان میں سکونت اختیار کی اُن کی طرح لباس اختیار کیا ان کی طرح عبادت کرنے لگا وہیں کھاتا پیتا رہا ہے ایسے لڑکے کا کیا حکم؟ اور ایک سال سے اپنی بیوی بچہ کے پاس بھی نہیں آیا اور بیوی بچہ کا نان و نفقہ بھی بھیجا نہیں ہے، اس صورتِ مسئولہ می


صفحہ 2 از 2

اسی میں ہے غلاة الروافض و من ضاها هم فان امثالهم لم يحصل منهم بذل وسع في الاجتهاد فان من يقول بأن علياً هو اله او بان جبرئيل عليه السلام غلط ونحو ذلك من السخف انما هو متبع محض الهوى وهو اسراً حالا ممن قال ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفى فلا يتأتى من مثل الامامين العظيمين ان لا يحكم بأنهم من أكفر الكفرة وانا كلامهما في مثل من له شبهة فيما ذهب اليه وان كان ما ذهب اليه عند التحقيق في حد ذاته كفرا كمنكر الرؤية وعذاب القبر ونحو ذلك فانه فيه انكار حكم النصوص المشهورة والاجماع الا انهم شبهة قياس الغائب على الشاهد ونحو ذلك مما علم في الكلام وكمنكر خلافة الشيخينؓ والساب لهما فان فيه انكار حكم الاجماع القطعي الا انهم ينكرون حجة الاجماع باتهامهم الصحبة فكان لهم شبهة في الجملة وان كانت ظاهرة البطلان بالنظر إلى الدليل فبسبب تلك الشبهة التي ادى اليها اجتهادهم لم حكم بكفرهم مع ان معتقدهم كفر احتياطاً بخلاف مثل من ذكرنا من الغلاة فتأمل

شفاء قاضی عیاض و در مختار وغیرہ معتمدات اسفار میں ایسے کے بارے میں جس کا کفر قطعی ہو فرمایا: من شك في كفره و عذابه فقد كفر

تو اگر کوئی رافضی (شیعہ) ایسا ہو جو خود ان کفریات قطعیہ کا معتقد نہ ہو ممکن ہے مگر ان میں ایسا کوئی نہ نکلے گا جو ان عقائد کفریہ رکھنے والے کو کافر جانے اور ان اپنے مجتہدین کو جو ان کفریات کے معتقد ہیں امام و پیشوا اور مجتہد نہ مانے۔

یہ شخص اگر ان کفریات اور ان کے مثل مثلاً تحریف قرآن و تبدل و تنقیص قرآن یا تفصیل سیدنا علیؓ واہل بیت و اطہارؓ پر انبیاء سوا سید الانبیاء علیہ و علیہم السلام کا معتقد نہ مانا جائے اور نہ یہ کہ وہ قذف سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا مرتکب ہوا نہ یہ کہ اس نے سبّ شیخینؓ یا انکار صحبت و خلافت کا ارتکاب کیا کہ پہلے کفریات کی بنا پر اجماعی قطعی کافر کہا جاتا اور سبّ و انکار صحبت و خلافت پر بھی اکثر فقہاء کے طور پر کافر ٹھہرتا مگر جب وہ اُن میں ایسا گھلا ملا تو لا اقل اس پر اتنا الزام ضرور آیا کہ وہ روافض (شیعہ) کو کافر نہیں جانتا بلکہ ان کی طرح عبادت کا اختیار بھی بتاتا ہے کہ وہ انہیں کو حق پر مانتا ہے جب تو اپنا طریقہ چھوڑ کر اُن کا پکڑتا ہے تو یہی اس کے کافر ہونے کو بس ہے۔

مگر ممکن ہے کہ وہ یہ دعا کرے کہ مجھے روافض کے ان عقائد خبیثہ کفریات قطعیہ کا علم نہ تھا اتنا ہی جانتا تھا کہ روافض سبّ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے اور خلافت شیخینؓ سے انکار رکھتے ہیں بس اس ادعا سے اگرچہ اس پر اجماعی حکم نہ ہو گا مگر حکم رفض ضرور ہوگا کہ انہیں اہلِ حق مانا اس حکم بینونت زوجہ میں کوئی فرق نہ ہو گا کہ سبّ و انکار صحبت و خلافت شیخینؓ ضرور کفر ہے اگرچہ مرتکب کو شبہہ کا فائدہ دیا جائے اور لفظ کافر کا اطلاق نہ کیا جائے، شبہہ کا فائدہ اتنا ہی ہے کہ وہ لفظ اسے نہ کہا جائے گا مگر اس قول و فعل کی بنا پر جس کا وہ مرتکب ہوا اس پر حکم توبہ تجدیدِ ایمان و نکاح یقیناً ہو گا۔

فتح القدير و حاشيه شامى على التبيين وغنيه وغیرہ میں ہے ذلك المعتقد في نفسه كفر فالقائل به قائل بما هو كفر و ان لم يكفر مجمع الانهر وغیرہ میں ہے ما يكون كفرا بالاتفاق يوجب احباط العمل كما في المرتد و تلزم اعادة الحج و يكون وطؤه حيننذ مع امرأته زنا والولد الحاصل منه في هذه الحالة ولد زنا

بلکہ جس کا کفر ہونا مختلف فیہ ہو ایسے کفر کے ارتکاب پر بھی علماء حکم توبہ تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح فرماتے ہیں اسی میں ہے ما کان في كونه كفرا اختلاف يؤمر قائله بتجديد النكاح وباالتوبة والرجوع عن ذلك احتياطاً۔

اگر فی الواقع وہ ان کے ان عقائد کفریہ میں شریک نہیں اسے وہ عقائد معلوم ہی نہیں اور معلوم ہونے پر وہ بے تکان انہیں کافر و مرتد جانے نہ اس سے تبرا واقع ہوا وہ تبرا کو ملعون جانتا اور تبرائی کو مذہب سے خارج مانتا ہے نہ اس سے انکار خلافت و صحبت واقع ہوا انکار کرنے والے کو گمراہ جانتا ہے دل سے سنی مذہب کے علاوہ ہر مذہب کو باطل جانتا ہے؟ اب بھی قضاء ضرور یہی حکم ہو گا کہ سبّ شیخینؓ و انکار خلافت بلکہ قذف سیدہ عائشہ صدیقہؓ مشہور و معروف اور روافض کا طریقہ عبادت ان کا شعار اور بے اکراہ بے فائدہ اس کا اختیار اس کے حکم کیلئے کافی اور عورت کالقاضی وہ ہرگز نہ مانے گی بلکہ دیانتاً بھی اور عدت وہی تین حیض کے بعد طلاق شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے جو عدت طلاق ہے وہی اس کی عدت ہے۔

(فتاویٰ مصطفويہ: صفحہ، 354)


صفحہ 2 از 2