Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے قاضیوں کے نام

  علی محمد الصلابی

عاشراً: عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے قاضیوں کے نام

1- دمشق کے مشہور قاضی:

ا: فضالہ بن عبیدؓ: انہیں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے ابو درداء کی تجویز پر شام کا قاضی مقرر کیا تھا۔ وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں 53ھ میں اپنی وفات تک اسی منصب پر فائز رہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خود ان کے جنازہ میں شریک ہوئے، جنازے کو کندھا دیا۔ وہ جب بھی دمشق سے باہر جاتے انہیں اس پر اپنا نائب مقرر کر کے جاتے۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 199)

ب: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ: ابو ادریس نعمان بن بشیر بن سعد انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ، شرف صحابیت سے مشرف تھے، آپ کو فضالہ کی وفات کے بعد شام کا قاضی مقرر کیا گیا۔ انہیں 64 ھ میں حمص کے قریب شہید کر دیا گیا۔

(ایضاً: صفحہ 199)

2۔ مدینہ منورہ کے قاضی:

ا: مشہور صحابی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے قاضی رہے۔ وکیع نعیم سے ان کا یہ بیان روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو لوگوں میں فیصلے کرتے دیکھا، انہوں نے حکم دیا کہ فریقین کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے، انہوں نے تنگ دست مقروض کو قید میں ڈالنے سے انکار کر دیا اور بداخلاقی کی تہمت لگانے والے کو اسی کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 59 ھ میں اپنی وفات تک مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 200۔ اخبار القضاۃ: جلد 1 صفحہ 110، 114)

غالباً انہیں عبداللہ بن حارث سے پہلے قاضی مقرر کیا گیا تھا۔

ب: عبداللہ بن حارث بن نوفلؒ: آپ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں مدینہ منورہ کے پہلے قاضی تھے، اس وقت اس مقدس شہر کا والی مروان بن الحکمؒ تھا، وہ پہلے قاضی تھے جنہوں نے آل مروان کے خلاف فیصلہ دیا جس سے مروان بن حکمؒ کی نظروں میں ان کی عزت میں مزید اضافہ ہو گیا، عبداللہ بن حارث قسم اور گواہ کی بنیاد پر فیصلہ کیا کرتے تھے، ان کی وفات 84ھ میں ہوئی، آپ کا شمار مسلمانوں کے صالحین اور فقہاء میں ہوتا تھا۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 201)

ج: ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوفؒ (متوفی 94ھ): آپ کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے، ان کا اپنے بارے میں خیال تھا کہ وہ سب لوگوں سے بڑے فقیہ ہیں، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے والی سعید بن العاص نے انہیں مدینہ منورہ کا قاضی مقرر کیا، وہ صاحب حق سے ایک گواہ کے ساتھ حلف لیا کرتے تھے۔

(اخبار القضاء: جلد 1 صفحہ 116 تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 201)

د: مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوفؒ (متوفی 64ھ): اسے مروان بن حکمؒ نے 53ھ یا 54ھ میں قاضی مقرر کیا اور قضاء کے ساتھ شرطہ کو بھی اس کے سپرد کر دیا گیا تو اس نے شہر میں قتل کے جرائم کا قلع قمع کرنے کے لیے لوگوں پر بڑی سختی کی۔

(اخبار القضاء: جلد 1 صفحہ 118۔ تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 201)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید نے منصب خلافت سنبھالا اور اس نے عثمان بن محمد بن ابوسفیان کو مدینہ منورہ کا عامل مقرر کیا تو اس نے مدینہ منورہ کے لیے طلحہ بن عبداللہ بن عوف کو قاضی متعین کیا۔ یہ بہت بڑے فیاض تھے، ان کی اس عظیم خوبی کی وجہ سے انہیں طلحہ الجواد کہا جاتا تھا۔

(ایضاً: صفحہ 201)

3۔ بصرہ کے قاضی

بصرہ میں بہت سارے لوگ منصب قضاء پر فائز رہے، جن میں سے ہم عمیرہ بن یثربی ضبی کا ذکر کرنا چاہیں گے، انہیں بصرہ پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عامل عبداللہ بن عامر بن کریز نے اس کا قاضی مقرر کیا، وہ اپنے عہدہ پر 45ھ تک فائز رہے۔ جب زیاد بصرہ کا والی بن کر آیا تو اس نے انہیں معزول کر کے ان کی جگہ عمران بن حصینؒ کا تقرر کر دیا، اس کے بعد عبداللہ بن فضالہؒ، پھر ان کے بھائی عاصم بن فضالہ اور پھر زرارہ بن اوفی اس منصب پر فائز رہے۔

(اخبار القضاء: جلد 2 صفحہ 3۔ تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 204)

4۔ کوفہ کے قاضی

کوفہ دیگر علمی شہروں کے مقابلے میں زیادہ متحرک تھا۔ جب سے اس شہر کی بنیاد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی یہ شہر اسی دن سے حرکت و نشاط اور علم کا مرکز چلا آ رہا تھا، اس شہر کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دار الحکومت قرار دے دیا تھا، کوفہ کے قاضیوں میں سے سب سے زیادہ شہرت قاضی شریح کے حصے میں آئی، آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سے لے کر عہد راشدہ کے پورے عرصے اور اموی عہد حکومت میں پینتیس سال سے زائد عرصہ تک منصب قضاء پر فائز رہے۔ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ایام میں کچھ دیر کے لیے توقف کیا اور پھر دوبارہ یہ ذمہ داری سنبھال لی۔ آخر انہوں نے 78ھ میں حجاج بن یوسف سے اس بارے معذرت کی تو اس نے انہیں اس عہدہ سے الگ ہونے کی اجازت دے دی۔ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوفہ کے قاضیوں میں مسروق بن اجدع ہمدانی کا نام بھی آتا ہے۔ آپ زیاد کی امارت کے دوران کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ مسروق کا شمار طبقہ فضلاء میں ہوتا ہے۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 207)

5۔ مصر کے قاضی:

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت کے مشہور قاضیوں میں سلیم بن عنز تجیبی کا نام آتا ہے۔ 40 ھ میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ایام میں یہ مصر کے قاضی بننے والے پہلے شخص تھے۔

(ایضاً: صفحہ 209)

ان کے ساتھ عابس بن سعید مرادی کا نام آتا ہے جنہیں مسلمہ بن مخلد نے شرطہ پر متعین کیا تھا، اس نے سلیم بن عنز کو قضاء سے الگ کر کے اسے عابس کے سپرد کر دیا اور یوں اس نے قضاء اور شرطہ کے دونوں عہدے عابس کے حوالے کر دئیے۔

(ایضاً صفحہ 209)

یہ تھے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے دور حکومت کے مشہور ترین قاضی حضرات۔