شیعہ علماء کا اہل سنت کے بارے میں عقیدہ کیا ہے، جنہیں وہ…

شیعہ علماء کا اہل سنت کے بارے میں عقیدہ کیا ہے، جنہیں وہ نواصب اور العامتہ کے نام دیتے ہیں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 3

شیعہ علماء کا اہلِ سنت کے بارے میں عقیدہ کیا ہے، جنہیں وہ نواصب اور العامتہ کے نام دیتے ہیں؟

(شیعہ عالم حسین آلِ عصفور اپنى كتاب المحاسن النفسانية فی أجوبة المسائل الخراسانية میں لکھتا ہے: چھٹا مسئلہ 147 ائمہ کی روایات اعلان کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ناصبی سے مراد سنی ہے اور اس میں کوئی کلام نہیں کہ ناصبہ سے مراد سنی ہیں)

جواب: شیعہ کا اجماع ہے کہ سنی مسلمان جہنمی ہیں البتہ دنیا میں ظاہری طور پر ان پر مسلمانوں والے احکام لاگو ہوں گے زین العابدین بن علی العاملی جس کا لقب الشہید الثانی (دوسرا شہید) ہے وہ کہتا ہے جن علماء نے اہلِ خلاف کو مسلمان کہا ہے، وہ اس لحاظ سے ہے کہ ظاہر میں ان پر مسلمان والے احکام لاگوں ہوں گے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ حقیقت میں بھی مسلمان ہیں۔ اسی لیے شیعہ علماء نے ان کے جہنمی ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔

مجلسی اہلِ سنت کے بارے میں کہتا ہے بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے بلکہ بہت ساری روایات کہتی ہیں کہ:

اہلِ سنت دنیا میں بھی کافروں کے حکم میں ہیں لیکن جب اللہ کو علم ہوا کہ جابر حکمران اور ان کے پیرو کار شیعہ پر غالب آجائیں گے اور شیعہ ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ان سے بچنا ناممکن اور ان کے ساتھ رہنا، سہنا اور ان کے ساتھ شادیاں کرنا شیعہ کی مجبوری ہوگی، تو اللہ نے شیعہ کے لیے آسانی کرتے ہوئے ان کو مسلمانوں کا حکم دیا ہے۔ لیکن جب القائم کا ظہور ہوگا تو وہ ان پر تمام معاملات میں کافروں والے احکامات نافذ کریں گے۔

اور آخرت میں کافروں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اس طرح تمام روایات کا معنیٰ متحد ہو جائے گا جیسا کہ المفید اور الشہید الثانی نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔

(بحار الأنوار: جلد، 8 صفحہ، 368 ح، 370 باب ذكر من فی النار و من يخرج منها)

تعارض:

شیعہ کے امام اکبر خمینی کہتے ہیں: ابنِ تیمیہ اور اس کے پیروکاران اہلِ علم و معرفت اور اہلِ دین کے طریق کار سے خارج لوگ ہیں اور ان سے دینی اور دنیاوی حقوق ساقط ہیں۔

(كشف الأسرار 158 السؤال الأول و الإجابة عليه)

2: شیعہ اجماع کے مطابق سنی مسلمان کافر اور نجس ہیں۔ ان کے علماء اہلِ سنت کے بارے میں لکھتے ہیں: بلاشبہ سنی نجس ہیں اور وہ یہودی، عیسائی اور مجوسی سے بھی بدتر ہیں اور وہ شیعہ امامیہ کے اجماع کے مطابق کافر ہیں۔

(الأنوار النعمانية: جلد، 2 صفحہ، 306 ظلمة حالكة فی بيان أحوال الصوفية والنواصب الحدائق الناضرة: جلد، 5 صفحہ، 178حكم المخالفين) 

علامہ نراقی لکھتا ہے: یہ لوگ کتے سے بھی بڑھ کر پلید ہیں۔

(مستند الشيعة: جلد، 14 صفحہ، 163)

 علامہ سبزداری لکھتا ہے: رہے خوارج تو ان کے کفر کے بارے میں اجماع منقول ہے۔ حالانکہ ہر خارجی ناصبی بھی ہوتا ہے۔ اور نواصب کے نجس اور پلید ہونے پر وہ حکایت کردہ اجماع دلالت کرتے ہیں جن کے خلاف کوئی دوسری چیز منقول نہیں جس سے اس مؤقف کو مزید تقویت ملتی ہے۔

(مهذب الأحكام: جلد، 1 صفحہ، 384 نجاسة الخوارج والنواصب)

خمینی کہتا ہے: ان کے نجس ہونے پر کئی چیزیں دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے وہ مشہور روایات بھی ہیں جن سے ان کا کافر ہونا ثابت ہوتا ہے مزید برآں یہ بھی کہتا ہے: کسی مومن عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ناصبی سے نکاح کرے اور ایسے ہی کسی مومن کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ کسی ناصبی یا غالی عورت سے نکاح کرے اس لیے کہ یہ دونوں کفار ہیں اگرچہ اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

(كتاب الطهارة: جلد، 2 صفحہ، 84 تحرير الوسيلة: جلد، 2 صفحہ، 260 القول فی الكفر: مسئلہ 7 للخمينی)

علامہ خوئی کہتا ہے: مخالفین کے نجس ہونے پر تین چیزوں سے استدلال کرنا ممکن ہے: پہلی چیز: وہ مشہور و کثیر تعداد روایات جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کے مخالفین کافر ہیں۔

(كتاب الطهارة للخوئی: جلد، 2 صفحہ، 84)

مزید برآں اس نے یہ بھی کہا ہے کہ: ظاہر قول یہ ہے کہ ناصبی کافروں کے حکم میں ہے اگرچہ وہ شہادتین کا اقرار بھی کرتا ہو اور آخرت کے دن پر ایمان بھی رکھتا ہو۔

(النصب والنواصب: صفحہ، 609 طهارة الناصبی و نجاسته)

اور ان کی جملہ ارشادات میں سے یہ بھی ہے کہ: بلکہ ان کے کافر ہونے میں شبہ ہے اس لیے کہ ولایت اور امامت کا انکار، حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کی امامت کا انکار اور ان کے خلاف کسی دوسرے کی امامت پر اعتقاد رکھنے سے کفر اور زندیقیت واجب ہوتے ہیں اس پر بہت ساری متواتر روایات دلالت کرتی ہیں، جن سے منکر ولایت کا کفر ظاہر ہوتا ہے۔

(مصباح الفقاهة فی المعاملات تقرير أبحاث الخوئی: جلد، 2 صفحہ، 11 للميرزا توحيدی)

3: سنیوں کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان کا ذبیحہ کھانا حلال نہیں۔

شیعہ کے امام خمینی کا کہنا ہے کہ: صحیح مؤقف یہ ہے کہ ہر مسلمان کی نمازِ جنازہ ادا کرنا واجب ہے اگرچہ وہ حق کا مخالف ہو اور کافر کی تمام اقسام حتیٰ کہ مرتد کا جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں ہے اور ان لوگوں کا جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں جن پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے اور وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں مثلاً نواصب۔ 

(تحرير الوسيلة: جلد، 1 صفحہ، 74 القول فی الصلاة على الميت)

مزید لکھا ہے تمام اسلامی فرقوں کا ذبیحہ حلال ہے سوائے ناصبیوں (سنیوں) کے اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کریں۔

(تحرير الوسيلة: جلد، 1 صفحہ، 136 القول فی الذباحة والكلام المسألة الأولىٰ)

ممکن ہے کہ کوئی سوال کرنے والا یہ سوال کرے کہ مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی میں ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ اہلِ سنت کی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں آخر کیوں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ان جنازوں میں شرکت اس لیے کرتے ہیں کہ ان فوت ہونے والوں کے لیے بد دعا کریں۔

(فروع الكافی: جلد، 3 صفحہ، 122 كتاب الجنائز باب الصلاة على الناصب اس باب میں نے 17 احادیث ذکر کی ہیں)

شیعہ کا استاد ابنِ بابویہ القمی لکھتا ہے:  جب میت مخالف۔

صفحہ 1 از 3