شیعہ علماء کا اہل سنت کے بارے میں عقیدہ کیا ہے، جنہیں وہ…

شیعہ علماء کا اہل سنت کے بارے میں عقیدہ کیا ہے، جنہیں وہ نواصب اور العامتہ کے نام دیتے ہیں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3

(مخالف سے شیعہ کی مراد وہ لوگ ہیں جو سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ سے محبت کرتے ہیں شیعہ کے عظیم آیت اللہ محمد سید العیم اپنی الحکم فی أصول الفقہ جلد، 6 صفحہ، 194 میں لکھتا ہے ظاہر یہ ہے کہ العامة سے مراد وہ مخالفین ہیں جو شیخینؓ سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خلافت کو شرعی تسلیم کرتے ہیں اس میں تمام فرقوں کے لوگ شامل ہیں اور ان کے علامہ یوسف البحرانی کتاب الشهاب الثاقب فی بيان معنى المناصب: صفحہ، 254 میں کہتے ہیں: مخالف کا لفظ جب بھی مطلق بولا جائے تو اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو سیدنا علیؓ کی امامت میں مخالفت کرتے اور دوسروں کو ان پر مقدم کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں: ان کے مخالفین وہ ہیں جنہوں نے ان کے احکام پر عمل نہیں کیا اور سیدنا علیؓ کی امامت و عصمت کے قائل نہیں، بلکہ انہیں بھی سب خلفاء میں شامل کرتے ہیں الشهاب الثاقب: صفحہ، 228)

کی ہو تو چوتھی تکبیر میں یہ دعا مانگ: اے اللہ! اپنے اس بندے، اپنے بندے کے اس بیٹے کو ذلیل و رسوا کر، اے اللہ اسے آگ میں ڈال دے۔ اے اللہ! اسے اپنا دردناک عذاب دے اور اسے شدید سزا دے۔ اسے جہنم رسید کر دے اس کے پیٹ کو آگ سے بھر دے اس کی قبر تنگ کر دے کیونکہ یہ تیرے اولیاء کا دشمن اور تیرے دشمنوں کا دوست تھا اے پروردگار! اس سے عذاب کم نہ کرنا، اس پر عذاب کے پہاڑ توڑ دے پھر جب اس کا جنازہ اٹھایا جائے تو کہو: اے اللہ تو اسے اوپر نہ اٹھانا اور نہ اسے پاک کرنا۔ 

(فقه الرضا: صفحہ، 178 باب الصلاة على الميت)

مزید برآں وہ لکھتا ہے: کسی اہلِ ایمان۔

(شیعہ علماء کے نزدیک اہلِ ایمان سے مراد اہلِ سنت نہیں جیسا کہ ان کے محدث یوسف الجرانی نے بیان کیا ہے، وہ کہتا ہے کہ: ایمان امام کی معرفت اور اس کی امامت کے قبول کرنے کا نام ہے الشهاب الثاقب: صفحہ، 98 نیز لکھتا ہے اخبار جس چیز پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ امامیہ کے سوا کسی کو اہلِ ایمان کہنا درست نہیں جیسا کہ پہلے بھی اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ امامیہ کے علاوہ دوسرے بھی دنت میں داخل ہوں گے لیکن اس قول کا قائل کوئی نہیں۔ (الحدائق الناضرة فی الحکام العشرہ الطاهرة: جلد، 22 صفحہ، 204 كتاب الوقوف والصدقات تحقيق معنى الايمان)  کے لیے جائز نہیں کہ وہ ولایت کے بارے میں حق کی مخالفت کرنے والے شخص کی میت کو غسل دے۔

اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھے، الا یہ کہ تقیہ کی ضرورت اس کا جنازہ پڑھنے کا تقاضا کرے تو پڑھ لے۔ اور اسے اہلِ خلاف کے طریقے کے مطابق غسل دے اور اس کے ساتھ سبز شاخ مت رکھے اور جب اس کی نماز پڑھے تو اس کے لیے بد دعائیں کرے اور اس کے حق میں دعائے خیر نہ کرے۔ 

(المقنعة: صفحہ، 58 باب تليقين المحتضرين تهذيب الأحكام: جلد، 1 صفحہ، 220 ح، 14 باب تلقين المحتضرين) 

4: اہلِ سنت زنا کی پیدائش ہیں: شیعہ کے استاذ الاساتذہ کلینی نے ابو جعفرؒ پر بہتان بازی کرتے ہوئے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم! اے حمزہ! ہمارے شیعہ کے سوا تمام لوگ بدکار عورتوں (کنجریوں) کی اولاد ہیں۔

(الروضة من الكافی: جلد، 8 صفحہ، 2109 كتاب الروضة: ح، 431 حديث نوح عليه السلام يوم القيامة بحار الأنوار: جلد، 23 صفحہ،311 ح، 17 باب جوامع تأويل مانزل فيهم عليهم السلام و نوادرها) 

عیاشی روایت کرتا ہے جعفر بن محمدؒ نے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے پاس ابلیس حاضر ہوتا ہے اگر اللہ کو علم ہو کہ یہ بچہ ہمارے شیعہ کا ہے تو اللہ اسے شیطان سے بچا لیتے ہیں اور وہ بچہ ہمارے شیعہ میں سے نہ ہو تو وہ شیطان اپنی شہادت کی انگلی اس بچے کی دبر میں ڈال دیتا ہے جس سے وہ بچہ بدکار ہو جاتا ہے اور اگر وہ بچی تھی تو اس فرج میں انگلی ڈالتا ہے جس سے وہ فاجرہ بن جاتی ہے۔

(تفسير العياشی: جلد، 2 صفحہ، 234 ح، 73 سورة الرعد بحار الانوار: جلد، 4 صفحہ، 121 ح، 63 باب: البداء و النسخ)

5: سنی مسلمان بندر اور خزیر ہیں۔

(بحار الأنوار: جلد، 27 صفحہ، 30 ح، 2 باب أنهم يقدرون على احياء الموتى وابراء الاكمه والأبرص و جميع معجزات الانبياء)

6: سنی مسلمانوں کو قتل کرنا اور دھوکہ دینا واجب ہے ابنِ فرقد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتا ہے میں نے ابو عبداللہؒ سے پوچھا آپ ناصبی کو قتل کرنے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اسے قتل کرنا حلال ہے لیکن مجھے تیرے بارے میں ڈر لگتا ہے لہٰذا اگر تم سنی کو قتل کرنے کے لیے اس پر دیوار گرا سکو یا اسے پانی میں غرق کر سکو تو کر دو تاکہ تمہارے خلاف کوئی گواہی نہ مل سکے۔

(علل الشرائع: جلد، 2 صفحہ، 585 ح، 57 باب، 375 نوادر العمل وسائل الشيعة: جلد، 18 صفحہ، 268 ح، 5 باب قتل من سب علياً أو غيره من الائمة عليهم السلام و مطلق الناصب مع الامن بحار الأنوار: جلد، 27صفحہ، 231 جلد، 39 باب ذم مبغضهم و انه كافر حلال الدم وثواب اللعن على اعدائهم الحدائق الناضرة: جلد، 18 صفحہ، 156 فی أن المخالف ليس سلما على الحقيقة اخبار شرق الاوسط میں بروز اتوار الموافق 1418/5/13ھ میں یہ خبر نشر ہوتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کو برآمد کیے جانے والے ایرانی پستہ میں سرطان کے خطرناک جراثیم کی آمیزش کی گئی تھی)

شیعہ علامہ یوسف البحرانی لکھتا ہے: مشہور اور کثرت روایات کی بنا پر حق اور ظاہر بات یہ ہے کہ مخالف اپنے ناصبی اور مشرک ہونے کی وجہ سے کافر ہے۔ اور اس کا مال اور خون حلال ہے۔

(الحدائق الناظرة: جلد، 10 صفحہ، 360 الصلاة على المؤمن دون الخارجی ونحوه)

مزید برآں یہ بھی کہا ہے کہ: پس اس صورت میں ان احادیث کی دلالت کے بموجب اور اس لیے کہ ہمارے نیک شعار علماء نے بھی اس کی تصریح کی ہے کہ اگر کوئی اس پر قدرت رکھتا ہو کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو دھوکہ سے جانی و مالی نقصان پہنچانے بشرطیکہ اس سے اس کی جان کو یا اس کے کسی دوسرے بھائی کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو اس کے لیے ایسا کرنا عنداللہ جائز ہے؟ یہ اس کے اور رب کے مابین معاملہ ہے۔

(الشهاب الثاقب: جلد، 266)

مضحکہ خیز بات: شیعہ علماء نے عام شیعہ پر چڑیا کو مار کر کھانا اس لیے بھی واجب کیا ہے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق چڑیا اہلِ سنت سے محبت کرتی ہے۔

صفحہ 2 از 3