Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ اور عہد اموی میں امتیازات قضاء

  علی محمد الصلابی

الحادی عشر: عہد معاویہ رضی اللہ عنہ اور عہد اموی میں امتیازات قضاء

اموی دور حکومت میں قضاء مندرجہ ذیل امتیازات و خصوصیات کا حامل تھا:

1۔ عہد اموی میں قضاء اپنے اساسی معامل، جو مصری تنظیم اور وسائل و اہداف میں اسی طرح قائم رہا جس طرح وہ عہد خلافت راشدہ میں قائم تھا اور وہ اقامت حق و عدل، برائی اجتناب اور موضوعیت کے اعتبار سے گزشتہ ایام کا تسلسل ہی تھا۔ البتہ اموی خلافت کے دوران جو ترقی اور وسعت دیکھنے میں آئی اس کا بھی لحاظ کیا جاتا تھا۔

2۔ عہد اموی میں قاضی حضرات اثباتِ دعویٰ کے لیے انہیں شرعی وسائل کو استعمال کیا کرتے تھے جن پر عہد خلافت راشدہ میں عمل کیا جاتا تھا۔ البتہ حق کی نقاب کشائی اور عدل و صواب تک رسائی کے لیے فراست میں وسعت آ گئی اور ملزم کے خلاف مختلف طریقوں کا استعمال ہونے لگا۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 213)

3۔ عہد اموی میں عدالتی فیصلوں کے کچھ نئے مصادر سامنے آئے اور وہ تھے: صحابی کا قول اور اہل مدینہ کا اجماع۔ جبکہ عہد نبوی کے اصلی مصادر قرآن و سنت اور عہد خلافت راشدہ کے اجتہادی مصادر جو کہ اجماع، قیاس، سابقہ عدالتی نظائر اور رائے سے عبارت ہیں، بھی معمول بہا تھے۔

(تأریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 214)

4۔ اموی خلفاء شام میں قضاۃ کا خود تقرر کرتے اور بعض قاضیوں کے نام صوبوں کے لیے بھی تجویز کرتے۔ جبکہ شہروں میں قاضیوں کی تقرری اور معزولی کا اختیار ان شہروں کے والیوں کے پاس تھا۔

5۔ خلفاء اور ولاۃ منصب قضاء کے لیے علماء، فقہاء، شرفاء اور اچھی شہرت کے لوگوں میں سے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا کرتے جو قاضی کی شرعی صفات سے متصف ہوتے، ان کے دلوں میں خوفِ الہٰی ہوتا، حق اور شریعت کا التزام کرنے والے اور لوگوں میں عدل قائم کرنے والے ہوتے۔

6۔ اموی دور حکومت میں شعبہ قضاء میں کچھ ایسی واضح تبدیلیاں بھی آئیں جنہیں پہلی بار نظام قضاء میں شامل کیا گیا اور وہ تھیں:

الف: نسیان کے خوف اور انکار کے سدباب کے لیے عدالتی احکامات کو تحریری شکل میں محفوظ بنانا اور انہیں دیوان خاص میں سنبھال کر رکھنا۔

ب: اوقاف کی نگرانی کرنا تاکہ معاملات کو درست رکھا جا سکے۔

ج: یتیم بچوں کے اقوال پر نظر اور اوصیاء کی نگرانی کرنا۔

د: دعویٰ جات کو ترتیب دینا اور لوگوں کو عدالت میں ترتیب سے بلانا۔

ھ: قاضیوں کی معاونت کے لیے پولیس میں اور دربان کا تقرر کرنا۔

و: عدالتی احکامات کی تنفیذ کے لیے پولیس کی مدد حاصل کرنا۔

7۔ قاضی حضرات عدالتی احکامات صادر کرنے کے لیے بڑی محنت اور کاوش کرتے، انہیں کتاب و سنت، مقاصد شریعہ اور بقیہ مصادر سے استنباط کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی، وہ نہ تو خلفاء کی رائے کے پابند تھے اور نہ ہی کسی فقہی مذہب کے، مگر یہ چیز ان کے لیے علماء و فقہاء سے مشاورت اور ان کی عدالتی مجالس میں شرکت سے مانع نہیں تھی۔

(تأریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ 213، 215)

8۔ قاضی حضرات حکام اور خلفاء کی سیاست سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنے فعل و عمل میں آزاد تھے اور ان پر سیاسی رجحانات، شورشیں، فکری اختلافات اور داخلی مسائل و فتن اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 215)