عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں پولیس کا نظام
علی محمد الصلابیعہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں پولیس کا نظام
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت نے ملکی سطح پر ایک سرکاری ادارے کی حیثیت سے پولیس کے نظام میں بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا۔ ان کے دور میں یہ ادارہ انتہائی مضبوط اور مؤثر بھی تھا اور اس سے وابستہ لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ یہ ادارہ مملکت کے تمام اسلامی شہروں میں امن و امان کی صورت حال کو قائم رکھنے اور ملکی نظام کو پائیدار بنانے کا براہ راست ذمہ دار تھا۔ پولیس ایک ایسی امن قائم کرنے والی قوت تھی جس پر حکمرانوں کی ذاتی حفاظت اور اندرونی امن و امان کی حفاظت کے حوالے سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والیوں کو پورا پورا اعتماد حاصل تھا، اموی حکمرانوں کے خوارج و روافض جیسے مخالف گروہوں سے دفاع کی ذمہ داری بھی پولیس پر عائد ہوتی تھی۔ یہ لوگ اموی حکومت کو گرانے اور حکمرانوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم عمل تھے اور جس کے لیے وہ مختلف طریقے اختیار کیا کرتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پولیس کو اپنے خصوصی حفاظتی دستے کے طور پر استعمال کیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے خوارج نے جو ناکام کوششیں کی ان کا آئندہ کے لیے سدباب کرنے کے لیے انہیں اپنی ذاتی حفاظت کے لیے پولیس پر اعتماد کرنا پڑا۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ث عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف سے اس قسم کی مذموم کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تو شہید بھی کر دیا گیا۔ اس روح فرسا واقعہ کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ ذاتی حفاظتی انتظامات کے بغیر باہر نہیں نکلا کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے پہرے دار نماز کے اوقات میں بھی انہیں ان کے مخالفین کے حملوں سے بچانے کے لیے ان کے قریب کھڑے رہتے۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 65۔ الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 36)