Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پولیس دوسرے صوبوں میں

  علی محمد الصلابی

ثانیاً: پولیس دوسرے صوبوں میں

اگر ہم مصر کا دیگر اسلامی شہروں مثلاً بصرہ کے ساتھ موازنہ کریں تو ہمیں پولیس کا وہ کردار یہاں نظر نہیں آئے گا جو بصرہ میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ مصر کا ان داخلی اضطرابات سے محفوظ ہونا تھا جو عموماً خوارج کی طرف سے پیدا کیے جاتے تھے۔ تاریخی مصادر ذکر کرتے ہیں کہ شہروں کے والی حضرات پولیس کے سربراہ کے انتخاب کے بڑے حریص ہوتے تھے، مثلاً والی مدینہ مروان بن حکمؒ نے مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوفؒ کو پولیس اور قضاء کے دونوں عہدوں پر بیک وقت متعین کیا اور یہ عہد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہوا۔

(ایضاً)

ابن سعد روایت کرتے ہیں کہ مصعب بن عبدالرحمٰن کا رویہ جرائم پیشہ اور قانون شکن لوگوں کے لیے بڑا سخت تھا۔

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 158)

مصعب مدینہ منورہ کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتا تھا جبکہ شہر میں اس کے لیے پولیس کی نفری کافی نہیں تھی، لہٰذا اس نے والی شہر مروان بن حکمؒ سے پولیس کی نفری میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ مروان نے اس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے مزید دو سو پولیس اہلکار بھجوا دئیے۔

(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 43۔ الاغانی: جلد 5 صفحہ 74 )

مصعب اس منصب پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک برقرار رہا۔

(ایضاً: صفحہ 43)