Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کچھ دیگر قوتیں اور ادارے اور ان کا پولیس کے ساتھ تعلق

  علی محمد الصلابی

رابعاً: کچھ دیگر قوتیں اور ادارے اور ان کا پولیس کے ساتھ تعلق

پولیس کو دولت امویہ میں امن و امان قائم کرنے والی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی، جس کی اصل ذمہ داری داخلی امن و امان کی حفاظت کرنا تھا، عصر اموی میں پولیس کے علاوہ کچھ دیگر ادارے بھی موجود تھے جن کی ذمہ داریاں بھی تقریباً پولیس جیسی ہی تھیں۔ مثلاً:

1۔ شاہی محافظ: عصر اموی کے آغاز میں لفظ ’’حرس‘‘ ہر اس شخص کے لیے استعمال ہوتا تھا جو کسی بھی جگہ یا شخص کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتا ہو۔ جبکہ اموی دور حکومت میں اس لفظ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا تھا جو خلفاء اور گورنروں کی حفاظت پر مامور تھے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اموی خلفاء نے سب سے پہلے اپنی ذاتی حفاظت کے لیے محافظوں کا تقرر کیا اور یہ اس لیے کہ انہیں خوارج وغیرہ سے حملوں کا خطرہ تھا۔ پھر ان کی خلافت کے ایام میں مختلف شہروں کے والیوں نے بھی پولیس کے ساتھ ساتھ داخلی امن کی قوت کے طور پر محافظین کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ زیاد بن ابیہ نے اپنی ذاتی حفاظت کے لیے پانچ سو افراد کا تقرر کیا اور ان کا سربراہ بنو سعد کے ایک آدمی کو مقرر کیا۔ جسے صاحب الحرس کہا جاتا تھا۔

(تاریخ طبری نقلا عن الشرطۃ فی العصر الامو: صفحہ 128)

اس مقصد کے لیے اموی خلفاء انتہائی قابل اعتماد لوگوں کا تقرر کیا کرتے تھے۔

(السرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 128)

 اور یہ پولیس کے ضمن میں نہیں آتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 130)

بلکہ یہ دونوں الگ الگ ادارے تھے۔

(الحیوان: جاحظ: جلد 3 صفحہ 158۔ الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 130)

2۔ غیر عرب شاہی محافظین: دولت امویہ کے قیام سے قبل عرب لوگ بعض ایسے غیر عربی الفاظ سے آشنا تھے جن کا اطلاق بصرہ میں بیت المال کی حفاظت کرنے والے لوگوں پر ہوتا تھا۔

(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 130)

اور وہ الفاظ تھے: 

اساورہ، سیابجہ اور زطّ۔ ان الفاظ کے تشریح کرتے ہوئے بلاذری رقمطراز ہیں کہ اساورہ کا تعلق اہل فارس کے ساتھ تھا جبکہ سیابجہ اور زط ہندوستانی تھے۔

(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 130)

خلافت امویہ کی تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف شہروں کے والی وقتاً فوقتاً مختلف عناصر کی طرف سے اٹھائی جانے والی تحریکوں کو کچلنے کے لیے ایک اور فورس کا استعمال بھی کیا کرتے تھے جس کے عناصر پر ’’بخاریہ‘‘ کے لفظ کا اطلاق ہوتا تھا، بلاذری ہی کی روایت میں بتایا گیا ہے کہ والی خراسان عبیداللہ بن زیاد نے کسی معرکہ میں اہل بخاریٰ میں سے بہت سارے لوگوں کو قیدی بنایا، انہیں بصرہ میں ٹھہرایا اور انہیں بھی عرب قبائل کی طرح عطیات سے نوازا، اس وقت ابن زیاد عراق کا والی تھا۔

(ایضاً: صفحہ 130)

پھر اس نے اس نئی قوت کو عراق میں خوارج کی شورشوں کو کچلنے کے لیے پولیس کی قوت کے ساتھ شامل کر دیا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 6۔صفحہ 219۔ الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 131)

ابن سعد نے ذکر کیا ہے کہ آغاز کار میں بخاریہ کو والی عراق عبیداللہ کے والد کے ہاتھوں امن کی قوت کے طور پر استعمال کیا گیا، انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ زیاد نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے بخاریہ کو استعمال کیا۔

(طبقات ابن سعد نقلا عن الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 131)

بلاذری بخاریہ کی تیر اندازی کی مہارت کے بڑے مداح ہیں۔

(الانساب نقلا عن الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 131)

تاریخی مصادر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی قوت کے طور سے اس گروہ کا استعمال امراء و ولاۃ کے لیے ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ اشرافیہ کی خدمت کا فریضہ بھی ادا کیا کرتا تھا، مثال کے طور سے بصرہ میں سابقہ والی عراق عبداللہ بن عامر کے بیٹے بخاریہ کو اپنی ذاتی حفاظت کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 131)

3۔ عرفاء(رئیس): چونکہ عرفاء کو گورنروں کے ہاں بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہوتا تھا، لہٰذا جن امور کو سرانجام دینے کی انہیں استطاعت حاصل ہوتی تھی وہ دوسروں کو نہیں تھی، اور چونکہ عریف عوام الناس کی نگرانی کرنے اور مقتدر قوتوں کو لوگوں کی مشکوک سرگرمیوں اور ان افراد کے بارے اطلاعات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے جن کی ان سے وفاداری مشکوک ہو، لہٰذا یہ منصب کوئی قبائلی منصب نہیں تھا اس منصب پر بڑے بڑے لوگ فائز رہے۔ ابن سعد نے اپنی طبقات میں بہت سارے ایسے نام وارد کیے ہیں جو اس منصب کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

(ایضاً: صفحہ 133)

4۔ صاحب استخراج: اموی عہد حکومت نے ایک ایسے مخصوص ادارے کا بھی مشاہدہ کیا جس کی ذمہ داری سرکاری عہدوں پر فائز لوگوں سے وہ مال وصول کرنا تھا جو وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ناجائز طور سے حاصل کیا کرتے تھے، ناجائز ذرائع سے مال کمانے والوں سے مال برآمد کرنے اور اس کی جگہ معلوم کرنے کے لیے ان پر سختی کرنے پر مامور شخص کو ’’صاحب الاستخراج‘‘ کہا جاتا تھا۔ ابن قتیبہ روایت کرتے ہیں کہ یہ ادارہ زیاد بن ابیہ کے عہد میں قائم ہوا، زیاد خیانت کے مرتکب کسی شخص کو اس کے منصب سے معزول کرنے میں دیر نہیں لگاتا تھا، وہ انہیں معزول کرنے کے علاوہ انہیں اس کی سزا بھی دیا کرتا تھا۔

(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 55۔ الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 134)

اکثر مورخین ایسے ولاۃ کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے ’’صاحب استخراج‘‘ کو غاصب اور خائن عہدے داروں سے غصب شدہ مال نکلوانے کے لیے استعمال کیا۔ مثال کے طور سے والی عراق عبیداللہ بن زیاد نے اپنے معاونین میں عبدالرحمٰن نامی آدمی کو اس کے عہدے سے معزول کر کے اس سے دو لاکھ درہم برآمد کروائے۔

(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 134)

اسی طرح اس نے ایک ادارے میں کام کرنے والے ایک شخص سے ایک لاکھ درہم برآمد کروائے۔

(ایضاً: صفحہ 134 نقلا عن الانساب للبلاذری)

5۔ احتسابی مشینری: اس ادارے کا کام بازاروں، مارکیٹوں اور ان میں تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنا تھا، دولت امویہ کے محتسب کی ذمہ داری سیل ٹیکس وصول کرنا اور ریاست کی ملکیتی دکانوں کا کرایہ وصول کرنا تھا۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 223)

علاوہ ازیں کاروباری حوالے سے اس کی کچھ اور ذمہ داریاں بھی تھیں جن میں سے اہم تر مندرجہ ذیل ہیں: 

(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 223)

الف: لین دین میں بددیانتی کے سدباب کے لیے مارکیٹ میں استعمال ہونے والے وزن، ماپ اور پیمائش کے آلات کے صحیح ہونے کو یقینی بنانا۔

ب: ضروری اشیائے صرف کی قیمتوں کو حد سے بڑھنے سے روکنا۔

ج: ذخیرہ اندوزی کو روکنا، اور ذخیرہ کردہ اشیاء کے مالکوں کو انہیں فروخت کرنے پر مجبور کرنا۔

اس مفہوم کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت امویہ کے آغاز میں اقتصادی زندگی بالکل سادہ تھی، مختلف صوبوں کے والی خلافت راشدہ کے انداز پر ہی گامزن تھے، ہر والی اپنے صوبے میں خود احتساب کرتا تھا۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 223)

مگر یہ زیاد کے عہد ولایت (53، 45ھ) کے دوران مصر میں مارکیٹ کے عامل کی ذمہ داری سے مانع نہیں تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ نظام احتساب عصر اموی کے آغاز سے ہی موجود تھا اگرچہ اس پر لفظ احتساب کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے اموی دورِ حکومت کے پورے عرصہ میں محتسب کا کردار کسی نہ کسی انداز سے موجود رہا۔ پھر جیسے جیسے تجارت اور تجارتی سرگرمیاں بڑھتی چلی گئیں اس نظام میں نمو آتا چلا گیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آغاز کار میں والی شہر احتسابی اعمال خود سرانجام دیتا پھر بات آگے بڑھی تو بازاروں کی نگرانی کے لیے کسی شخص کی تقرری کی ضرورت پڑی، پھر جب اس میں مزید ترقی ہوئی تو اس کے لیے کچھ معاونین کی ضرورت پڑی جو احتسابی عمل میں اس کا ہاتھ بٹا سکیں۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 222)

6۔ مراقبہ کا نظام: یہ نظام سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دمشق میں قائم کیا گیا اور اس کی متعدد صورتیں تھیں:

الف: بعض سیاسی مخالفین کو معینہ اوقات پر مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنے کا پابند بنانا۔

(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ 125 )

عصر حاضر میں بھی بعض ممالک میں بعض مخصوص لوگوں کو طے شدہ اوقات میں پولیس کے مراکز میں حاضر ہونے کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

(ایضاً: صفحہ 125)

ب: بعض سیاسی مخالفین کو دمشق اور دوسرے شہروں میں تیار کردہ گھروں میں ٹھہرانا، تاکہ ان کی نگرانی میں آسانی رہے۔

ج: دارالسلام میں داخل ہونے والے غیر ملکی لوگوں کی ذاتی نگرانی کو سخت بنانا۔

(ایضاً: صفحہ 125)

7۔ مؤسسہ درک: اصطلاحاً درک سے مراد ایسا ادارہ تھا جو بڑے بڑے شہروں کی حدود سے باہر امن و امان کے قیام کا ذمہ دار تھا۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 2 صفحہ 643)

طبری کی ایک نص سے معلوم ہوتا ہے کہ زیاد 45ھ ہجری میں، یعنی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے ایام میں راستوں کو پر امن بنانے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔ اس نص میں وارد ہے کہ زیاد سے کہا گیا: راستے غیر محفوظ ہیں۔ اس نے کہا مصر کے علاوہ مجھے کہیں بھی مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ میں مصر پر غلبہ حاصل کر کے اسے درست کر دوں گا۔

اگر مصر مجھ پر غالب آ گیا تو پھر دوسرے شہروں کا مجھ پر غالب آنا اس سے بھی آسان ہو گا، پھر جب اس نے مصر کا کنٹرول سنبھال لیا تو اسے مستحکم بنا دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 139)

زیاد کہا کرتا تھا: اگر میرے اور خراسان کے درمیان کوئی رسی گم ہو جائے تو مجھے معلوم ہو جائے گا کہ اسے کس نے اٹھایا ہے۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 139)

یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے اہل کاروں کا ان راستوں پر کنٹرول ہو۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ: جلد 2 صفحہ 644)

زیاد کا نظریہ امن یہ تھا کہ پہلے شہروں کے اندر گرفت مضبوط بنائی جائے اور پھر اسے وسعت دیتے ہوئے اس کے گرد و نواح کے راستوں کو پر امن بنایا جائے۔

یہ تھے عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں پولیس نظام کے بارے میں چند اہم نکات اور ان کی قدرے تفصیل۔