کچھ دیگر قوتیں اور ادارے اور ان کا پولیس کے ساتھ تعلق -…

کچھ دیگر قوتیں اور ادارے اور ان کا پولیس کے ساتھ تعلق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 223)

الف: لین دین میں بددیانتی کے سدباب کے لیے مارکیٹ میں استعمال ہونے والے وزن، ماپ اور پیمائش کے آلات کے صحیح ہونے کو یقینی بنانا۔

ب: ضروری اشیائے صرف کی قیمتوں کو حد سے بڑھنے سے روکنا۔

ج: ذخیرہ اندوزی کو روکنا، اور ذخیرہ کردہ اشیاء کے مالکوں کو انہیں فروخت کرنے پر مجبور کرنا۔

اس مفہوم کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت امویہ کے آغاز میں اقتصادی زندگی بالکل سادہ تھی، مختلف صوبوں کے والی خلافت راشدہ کے انداز پر ہی گامزن تھے، ہر والی اپنے صوبے میں خود احتساب کرتا تھا۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 223)

مگر یہ زیاد کے عہد ولایت (53، 45ھ) کے دوران مصر میں مارکیٹ کے عامل کی ذمہ داری سے مانع نہیں تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ نظام احتساب عصر اموی کے آغاز سے ہی موجود تھا اگرچہ اس پر لفظ احتساب کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے اموی دورِ حکومت کے پورے عرصہ میں محتسب کا کردار کسی نہ کسی انداز سے موجود رہا۔ پھر جیسے جیسے تجارت اور تجارتی سرگرمیاں بڑھتی چلی گئیں اس نظام میں نمو آتا چلا گیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آغاز کار میں والی شہر احتسابی اعمال خود سرانجام دیتا پھر بات آگے بڑھی تو بازاروں کی نگرانی کے لیے کسی شخص کی تقرری کی ضرورت پڑی، پھر جب اس میں مزید ترقی ہوئی تو اس کے لیے کچھ معاونین کی ضرورت پڑی جو احتسابی عمل میں اس کا ہاتھ بٹا سکیں۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 222)

6۔ مراقبہ کا نظام: یہ نظام سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دمشق میں قائم کیا گیا اور اس کی متعدد صورتیں تھیں:

الف: بعض سیاسی مخالفین کو معینہ اوقات پر مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنے کا پابند بنانا۔

(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ 125 )

عصر حاضر میں بھی بعض ممالک میں بعض مخصوص لوگوں کو طے شدہ اوقات میں پولیس کے مراکز میں حاضر ہونے کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔

(ایضاً: صفحہ 125)

ب: بعض سیاسی مخالفین کو دمشق اور دوسرے شہروں میں تیار کردہ گھروں میں ٹھہرانا، تاکہ ان کی نگرانی میں آسانی رہے۔

ج: دارالسلام میں داخل ہونے والے غیر ملکی لوگوں کی ذاتی نگرانی کو سخت بنانا۔

(ایضاً: صفحہ 125)

7۔ مؤسسہ درک: اصطلاحاً درک سے مراد ایسا ادارہ تھا جو بڑے بڑے شہروں کی حدود سے باہر امن و امان کے قیام کا ذمہ دار تھا۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 2 صفحہ 643)

طبری کی ایک نص سے معلوم ہوتا ہے کہ زیاد 45ھ ہجری میں، یعنی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے ایام میں راستوں کو پر امن بنانے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔ اس نص میں وارد ہے کہ زیاد سے کہا گیا: راستے غیر محفوظ ہیں۔ اس نے کہا مصر کے علاوہ مجھے کہیں بھی مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ میں مصر پر غلبہ حاصل کر کے اسے درست کر دوں گا۔

اگر مصر مجھ پر غالب آ گیا تو پھر دوسرے شہروں کا مجھ پر غالب آنا اس سے بھی آسان ہو گا، پھر جب اس نے مصر کا کنٹرول سنبھال لیا تو اسے مستحکم بنا دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 139)

زیاد کہا کرتا تھا: اگر میرے اور خراسان کے درمیان کوئی رسی گم ہو جائے تو مجھے معلوم ہو جائے گا کہ اسے کس نے اٹھایا ہے۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 139)

یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے اہل کاروں کا ان راستوں پر کنٹرول ہو۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ: جلد 2 صفحہ 644)

زیاد کا نظریہ امن یہ تھا کہ پہلے شہروں کے اندر گرفت مضبوط بنائی جائے اور پھر اسے وسعت دیتے ہوئے اس کے گرد و نواح کے راستوں کو پر امن بنایا جائے۔

یہ تھے عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں پولیس نظام کے بارے میں چند اہم نکات اور ان کی قدرے تفصیل۔


صفحہ 2 از 2