بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر -…

بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

بصرہ: عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر

1۔ بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ: آپ نے 41 ھ میں ولایت کا منصب سنبھالا، بعض غیر صحیح روایات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ بسر بن ارطاہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابیہ کے بیٹوں سے تعرض کیا

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 82)

تو انہیں معزول کر کے ان کی جگہ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا والی متعین کیا گیا۔

2۔ عبدالله بن عامر رضی اللہ عنہ (41،44ھ):  41ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا والی مقرر کیا، وہ سجستان (سجستان اس وقت افغانستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے)

اور خراسان (خراسان اس وقت ایران کے شمال مشرق اور افغانستان کے شمال مغرب میں واقع ہے۔) کی جنگ میں شامل رہے تھے۔ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بصرہ پر والی کے طور پر تقرری شخصی اسباب کی بنا پر نہیں تھی اس لیے کہ کسی صحیح روایات سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کا انتخاب ان کے سابقہ تجربات کی بنا پر تھا۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بصرہ کے والی رہ چکے تھے اور سجستان اور خراسان کی جنگوں میں بھی شریک رہے تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے صرف یہ کیا کہ مناسب آدمی کو مناسب جگہ پر لگا دیا اور امن کے حق داروں کو امن دے دیا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 234)

مسلمانوں نے ان کے فوجی تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا، پھر انہیں یہاں سے تبدیل کرنے کی ضرورت پڑی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر کے 45 ھ کے آغاز میں حارث بن عبداللہ ازدی کو بصرہ کا والی مقرر کر دیا، پھر چار ماہ بعد انہیں بھی معزول کر کے ان کی جگہ زیاد کو بصرہ کا والی بنا دیا گیا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 133)

3۔ زیاد بن ابیہ (45، 53ھ):

الف: نسب: ابو المغیرہ زیاد کا نسب انتہائی پیچیدہ ہے، اس کی ماں کا نام سمیہ تھا جو کہ ایک لونڈی تھی۔

(زیاد بن ابیہ و دورہ فی الحیاۃ العامۃ: صفحہ 31)

مگر اس کے باپ پر مؤرخین کا اتفاق نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اس کے نسب میں بھی اختلاف ہے۔ تاریخی مصادر میں اس کا نام کبھی زیاد بن سمیہ (تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 131)

بتایا جاتا ہے، کبھی زیاد بن عبید ( العواصم من القواصم: صفحہ 31)،

کبھی زیاد الامیر (الطبقات: جلد 7 صفحہ 99۔ زیاد بن ابیہ و دورہ فی الحیاۃ العامۃ: صفحہ 31)

اور کبھی زیاد بن ابوسفیان (تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 191)

اکثر اوقات اسے زیاد بن ابیہ (زیاد بن ابیہ و دورہ فی الحیاۃ العامۃ: صفحہ 32)

سے ہی شناخت کیا جاتا ہے، اور یہ اس لیے کہ اس کے باپ میں شک واقع ہوا ہے۔

(ایضاً صفحہ 32)

ب: زیاد کی معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ صلح: زیاد بن ابیہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خراسان کا والی تھا اور وہ ان کے لیے ازحد مخلص تھا، معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں زیاد کو اپنی صف میں شامل کرنے کی بڑی کوشش کی مگر وہ اس میں ناکام رہے، پھر ان کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسے اپنی طرف مائل کرنے کا سنہری موقع ملا اور اس کے لیے انہوں نے کبھی ترغیب اور کبھی ترہیب کی زبان استعمال کی، اس دوسرے مرحلے پر زیاد نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے ہوئے مثبت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کے ساتھ رابطے کی کوشش کی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ مشکل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو کہا۔ آخر کار مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ زیاد کو معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے اور اسے ان کی اطاعت میں داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ زیاد کے حوالے سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی یہ کامیابی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہت بڑی خدمت تھی، اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی زیاد تک رسائی یا اسے اپنے ماتحت کر لینا ایسی خون ریز جنگ کے بغیر بہت مشکل تھا جس کے بارے میں فریقین میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہ ہو کہ اس میں کون فائدے میں رہے گا۔

(زیاد بن ابیہ و دورہ فی الحیاۃ العامۃ: صفحہ 75، 81) 

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا اور طاقت کے استعمال سے اجتناب کیا اور عربوں کے چالاک اور ہوشیار آدمی کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیاد کو خوشی سے اپنی بیعت کرنے پر آمادہ کر لیا۔ جو سیدنا امیر شام رضی اللہ عنہ کی حکمت و دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 173۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 94، 95)

ج: معاویہ رضی اللہ عنہ کا زیاد بن ابیہ کو اپنے نسب میں شامل کرنا: طبری 44 ھ کے واقعات کے تحت رقمطراز ہیں: اس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن سمیہ کے نسب کو اپنے باپ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے نسب میں شامل کیا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 131)

جب زیاد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو اس وقت بنو عبدالقیس کا ایک آدمی اس کے ساتھ تھا، اس نے زیاد سے کہا: ابن عامر کا مجھ پر ایک احسان ہے، اگر اجازت دیں تو میں اس سے ملاقات کر لوں، زیاد نے کہا: اس شرط پر کہ تیرے اور اس کے درمیان جو باتیں ہوں، مجھے ان سے آگاہ کرنا ہو گا، اس نے یہ شرط تسلیم کر لی تو اسے اس کی اجازت دے دی گئی۔ وہ ابن عامر سے ملا تو اس نے کہا: ابن سمیہ میرے کاموں پر اعتراض کرتا اور میرے کارندوں کی برائیاں بیان کرتا ہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں قریش سے ایسے پچاس آدمی لے کر آؤں گا جو قسم اٹھائیں گے کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے سمیہ کی صورت تک نہیں دیکھی۔

(ایضاً)

صفحہ 1 از 3