بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر -…

بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جب یہ آدمی واپس آیا تو زیاد نے اس سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا تو اس نے پہلے تو اسے کچھ بتانے سے انکار کیا مگر آخر کار اسے بتانا ہی پڑا۔ زیاد نے اس کی خبر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دربان کو حکم دیا کہ جب عامر ادھر آئے تو اس کی سواری کو پہلے دروازے سے ہی واپس کر دینا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، ابن عامر نے اس کی شکایت یزید سے کی، یزید نے پوچھا: تم نے زیاد کا بھی ذکر کیا تھا؟ اس نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر یزید اسے اپنے ساتھ لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عامر کو دیکھتے ہی مجلس برخاست کر دی اور خود محل میں چلے گئے۔ اس پر یزید نے ابن عامر سے کہا: تم ادھر ہی بیٹھو وہ کب تک اپنی مجلس کو چھوڑ کر گھر میں بیٹھے رہیں گے۔

جب انہیں بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ گھر سے باہر آئے ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے دروازوں کو پیٹتے جاتے تھے اور ساتھ ہی کسی کا یہ شعر پڑھتے جاتے تھے:

لنا سیاق و لکم سیاق

قد علمت ذلکم الرفاق

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 132)

ہماری راہ اور، اور تمہاری راہ اور، اس بات کو سبھی لوگ جان چکے ہیں۔

پھر بیٹھ گئے اور ابن عامر سے فرمایا: کیا تم نے زیاد کے بارے میں زبان کھولی ہے۔ خبردار! و اللہ! تمام عرب اس بات سے آگاہ ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ باعزت میں تھا اور پھر اسلام نے میری عزت میں مزید اضافہ کر دیا۔ مجھ میں کوئی کمی ایسی نہیں تھی جو زیاد کی وجہ سے پوری ہو گئی ہو یا میری ذلت عزت میں تبدیل ہو گئی ہو، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ میں نے اس کو جس چیز کا حق دار پایا وہ اسے دے دی۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 132 )

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب زیاد کے نسب کو اپنے باپ کے نسب کے ساتھ ملایا تو انہیں اس بات سے متہم کیا گیا

کہ انہوں نے اسلامی احکام کی مخالفت کی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اسلام میں جھوٹا دعویٰ نہیں چلتا۔ جاہلیت کا معاملہ ختم ہو چکا۔ بچہ بستر والے کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔‘‘

(صحیح سنن ابی داود: جلد 2 صفحہ 430)

خالد الغیث اپنے رسالہ ’’مرویات خلافۃ معاویۃ‘‘ میں اس تہمت کی یہ کہہ کر تردید کرتے ہیں:  جہاں تک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس تہمت کا تعلق ہے کہ انہوں نے زیاد کے نسب کو اپنے باپ کے نسب کے ساتھ ملا لیا، تو میں کسی ایسی صریح العبارت صحیح روایت سے آگاہ نہیں ہو سکا جو اس کی تاکید کرتی ہو، علاوہ ازیں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحبت و عدالت اور ان کی دین داری و فقاہت ان کے لیے اس امر سے مانع ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو ردّ کر دیں۔ خصوصاً جب کہ وہ خود اس حدیث کے راوی ہیں: ’’بچہ بستر والے کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔‘‘

(فتح الباری: جلد 12 صفحہ 39 )

دراصل یہ تہمت زیاد پر لگائی گئی تھی کہ اس نے اپنے نسب کو ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے نسب کے ساتھ ملایا تھا، اور اس کی دلیل ابوعثمان (ابو عثمان غوری اپنی کنیت کے ساتھ مشہور ہیں۔ آپ مخضرم ہیں اور آپ کا شمار طبقہ ثانیہ میں ہوتا ہے۔ (متوفی: 95ھ). کے طریق سے صحیح مسلم کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب زیاد نے یہ دعویٰ کیا تو میں ابوبکرہ سے ملا اور اس سے کہا: تم نے یہ کیا کہا؟ میں نے مسور بن ابی وقاص سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’جس شخص نے اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور باپ کا دعویٰ کیا جبکہ و جانتا ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔‘‘ ابوبکرہ نے کہا: میں نے بھی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کی تھی۔

(صحیح مسلم مع شرح نووی: جلد 2 صفحہ 51، 52)

اس واقعہ کی تعلیق میں نووی فرماتے ہیں: اس کلام کا مطلب ابوبکرہ پر انکار کرنا تھا اور یہ اس لیے کہ زیاد مذکور زیاد بن ابوسفیان کے ساتھ معروف تھا، اسے زیاد بن ابیہ اور زیاد بن امہ بھی کہا جاتا تھا اور یہ ابوبکرہ کا اس کی ماں کی طرف سے بھائی تھا، اسی لیے عثمان نے ابوبکرہ سے کہا تھا کہ تم نے یہ کیا کہا؟ ابوبکرہ بھی اس بات کو ناپسند کرتا تھا جس کی وجہ سے اس نے زیاد سے علیحدگی بھی اختیار کر لی تھی اور اس سے کبھی بات نہ کرنے کی قسم بھی اٹھائی تھی۔ ممکن ہے کہ ابو عثمان کو ابوبکرہ کے اس انکار کا علم نہ ہوا اور اسی وجہ سے اس نے ابوبکرہ سے یہ بات کہہ دی ہو۔ یا اس کے اس قول کا مطلب یہ ہو کہ تیرے بھائی نے جو کچھ کیا وہ کس قدر برا ہے اور اس کی سزا کتنی سنگین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے جنت کو حرام قرار دیا ہے۔

(شرح صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 52، 53)

اس طرح زیاد ہی مدعی علیہ قرار پاتا ہے۔ درحقیقت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا زیاد کو اپنے نسب کے ساتھ ملانے کا مسئلہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، اور اکثر مؤرخین کے نزدیک کتنے ہی ایسے دلائل موجود ہیں جن سے اس بات کا اثبات ہوتا ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کی ماں سمیہ سے مباشرت کی تھی۔ سمیہ حارث بن کلاہ ثقفی کی لونڈی تھی اور وہ زمانہ جاہلیت میں جسم فروش تھی اور اس مباشرت کے نتیجے میں وہ زیاد کے ساتھ حاملہ ہو گئی، مؤرخین ذکر کرتے ہیں کہ خود سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اور کئی دوسرے لوگوں کے سامنے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس کے جوان ہونے کے بعد اس بات کا اعتراف کیا تھا۔

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 14، 15۔ الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 195)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ زیاد ان کے نطفہ سے ہے۔

(الفتاویٰ: جلد 20 صفحہ 148)

 پھر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ابو مریم سلولی نے زیاد کے لیے اس نسب کی شہادت دی۔ ابو مریم صحابی تھے اور زمانہ جاہلیت میں طائف میں شراب فروخت کیا کرتے تھے اور انہوں نے سمیہ اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا ملاپ کروایا تھا اور اس وقت یہ عام سی بات تھی۔

صفحہ 2 از 3