بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر -…

بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 470)

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس نسب کا معاملہ بڑی شہرت حاصل کر چکا تھا یہاں تک کہ بصرہ کے ایک آدمی نے زیاد کے لیے اس کی شہادت بھی دے دی۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 131، 132) 

اگر صورت حال یہ ہے تو پھر یہ قدیم دعویٰ ہے نہ کہ مغیرہ بن شعبہ کے مشورہ پر معاویہ اور زیاد کے درمیان طے پانے والے سودے کا ایک حصہ۔ نیز راویوں کی اختراع کردہ دیگر تفصیلات بھی درست نہیں ہیں۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 196)

امام اہل مدینہ، امام مالک بن انس اپنی کتاب ’’المؤطا‘‘ میں زیاد کا ذکر کرتے ہوئے اسے زیاد بن ابوسفیان کے نام سے یاد کرتے ہیں نہ کہ زیاد بن سمیہ کے نام سے۔ یہ عصر بنو عباس کی بات ہے،

(ایضاً: صفحہ 196)

اس وقت حکومت بھی ان کی تھی اور حکم بھی انہی کا چلتا تھا مگر انہوں نے اس میں نہ تو کوئی تبدیلی کی اور نہ اس سے انکار کیا۔ چونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے، لہٰذا اس پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 244)

جہاں تک اس الحاق کا نص حدیث کے ساتھ تعارض کا تعلق ہے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کئی قسم کے نکاح کیے جاتے تھے، اس کی ایک قسم یہ بھی تھی کہ کچھ لوگ کسی پیشہ ور عورت کے ساتھ جماع کرتے پھر جب وہ بچے کو جنم دیتی تو ان میں سے جسے چاہتی اس کے ساتھ بچے کو ملحق کر دیتی مگر اسلام نے اس نکاح کو حرام قرار دے دیا۔ مگر کسی بھی قسم کے نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو جس بھی باپ کی طرف منسوب کر دیا گیا اسے تسلیم کیا جاتا اور ان میں سے کسی بھی چیز میں کوئی تفریق روا نہ رکھی جاتی۔ اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ یہ ان کے لیے جائز ہے اور انہوں نے جاہلیت اور اسلام میں الحاق کے بارے میں کوئی فرق نہ کیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 471)

امام مالک رحمہ اللہ اس بات کو جائز قرار دیتے ہیں کہ بھائی اپنے بھائی کو اپنے نسب میں شامل کرتے ہوئے یہ کہے کہ وہ میرے باپ کا بیٹا ہے۔ بشرطیکہ اس نسب میں اس سے تنازع کرنے والا کوئی نہ ہو۔ حارث بن کلاہ (جس کی سمیہ لونڈی تھی) نے زیاد کے بارے میں تنازع نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ اس کی طرف منسوب تھا، وہ ایک پیشہ ور لونڈی کا بیٹا تھا جو اس کے بستر پر پیدا ہوا۔ اس کا جو بھی دعویٰ کرتا وہ اس کا تھا الا یہ کہ اس سے وہ شخص معارضہ کرتا جو اس کا اس سے زیادہ حق دار ہوتا، لہٰذا اس بارے میں معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی اعتراض نہیں آتا بلکہ انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب کی رو سے درست کام کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا انکار کیوں کیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا

(العواصم من القواصم: صفحہ 253)

اور واقعات اس امر کا اثبات کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ زیاد کے اس حق کو کھلے دل سے تسلیم کرتے تھے۔

( ادارہ العراق فی صدر الاسلام: رمزیۃ عبدالوہاب: صفحہ 61)


صفحہ 3 از 3