عصمت انبیاء علیہم السلام پر عقلی دلائل
نقیہ کاظمیعصمتِ انبیاء علیہم السلام پر عقلی دلائل
انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں اللہ کے پیغام رساں ہیں، اگر خود ہی اللہ کی نافرمانی کریں تو پھر ان کی بات پر کیا اعتماد کیا جائے گا ؟
(المسائل والدلائل: صفحہ، 40)
حضراتِ انبیاء علیہم السلام باجماعِ امت فرشتوں سے افضل ہیں جب فرشتے اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے تو افضل کیوں کر نافرمان ہو سکتا ہے؟
(التفسیر الکبیر: جلد، 3 صفحہ، 9)
حضرات انبیاء علیہم السلام اطاعتِ خدا کروانے میں انسانوں کے لیے مقتدا ہیں تو اگر خود خدا کے نافرمان ہوں تو لوگو ں کو اطاعت کا کیا درس دیں گے؟
انسان جسم اور روح سے بنا ہے، جسم مٹی سے بنا ہے تو اس کی غذا اور دوا بھی مٹی سے ہی ہے اور روح آسمان سے آتی ہے تو اس کی غذا بھی آسمان سے آتی ہے۔ جسم بیمار ہو تو اس کو طبیب چاہیے اور جسم کے طبیب کو ڈاکٹر کہتے ہیں، روح بیمار ہو جائے تو اس کو بھی طبیب چاہیے اور اس کے طبیب کو نبی رسول کہتے ہیں اور یہ ضابطہ عقلی ہے کہ طبیب جس مرض کا معالج ہو خود اس کا اس مرض میں مبتلا ہونا یہ اس طبیب کا عیب ہے۔ روح کی بیماری گناہ ہے تو خود روح کے طبیب کا گناہ میں مبتلا ہونا اس کا عیب ہے۔ اس لیے طبیبِ روحانی کا اس عیب سے پاک ہونا ضروری ہے۔