بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

جب 45 ھ میں زیاد کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا گیا تو اس نے خطبہ بتراء دیا

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 134) 

جس میں اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہ کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے اس کا آغاز حمد باری تعالیٰ سے کرتے ہوئے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے شکر گزار ہیں اور اس سے مزید نعمتوں کے خواستگار ہیں۔ ہمارے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے اسی طرح ہمیں ان کا شکر ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرما۔ اما بعد! سخت جاہلیت، اندھا دھند گمراہی اور فسق و فجور جو جہنم کو ہمیشہ کے لیے مشتعل کر دیتے ہیں یہ وہ بڑے بڑے جرائم ہیں جن کا تمہارے نالائق لوگ ارتکاب کرتے ہیں اور جن کی لپیٹ میں عقل مند لوگ بھی آ جاتے ہیں۔ جب ان افعال سے بڑے پرہیز نہیں کرتے تو بچے ان سے وہی باتیں سیکھنے لگ جاتے ہیں، تم نے تو گویا آیات ربانی کو سنا ہی نہیں اور کتاب اللہ کو پڑھا ہی نہیں اور تم نے سنا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اطاعت گزاروں کے لیے کیا اجر و ثواب اور اپنے نافرمانوں کے لیے کون سا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، کیا تم بھی ان لوگوں کی طرح بن جاؤ گے جن کی آنکھوں میں دنیا کی حرص نے خاک جھونک دی اور جن کے کانوں کو شہوات نے بند کر دیا اور جنہوں نے باقی کو چھوڑ کر فانی کو پسند کر لیا؟ تم دیکھتے نہیں کہ تم نے اسلام میں وہ بدعات جاری کر دیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، تم نے خرافات کے دروازے کھلے رہنے دیے اور کمزور لوگوں کو دن رات لٹنے دیا جن کی تعداد کچھ کم نہیں ہے۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو باغیوں کو دن کی لوٹ مار اور شب گردی سے روک سکتا، تم نے قرابت داروں کا تو بڑا خیال رکھا مگر دین سے دور رہے۔ تمہارے پاس کوئی عذر نہیں مگر معذور بنے پھرتے ہو اور اوباشوں کی پردہ پوشی کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص اپنے نالائق کا دفاع کرتا ہے اور وہ اس شخص کا سا کردار ادا کرتا ہے جسے نہ کسی عذاب کا ڈر ہو اور نہ قیامت کا اندیشہ، تم نالائق اور احمق لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہو تو پھر خود کیسے لائق اور دانا بن گئے، تم ہمیشہ ان کا دفاع کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اسلام کی حرمت کو پامال کر دیا اور پھر تمہارے پس پشت گوشہ رسوائی میں چھپ گئے، میرے لیے اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک میں ان کی پناہ گاہوں کو نیست و نابود نہ کر دوں اور انہیں جلا کر راکھ نہ بنا ڈالوں، میں دیکھتا ہوں کہ اس امر کا انجام اسی طرح صحیح ہو گا جس طرح اس کا آغاز صحیح ہوا تھا، ایسی نرمی کی جائے گی جس میں کمزوری نہ ہو اور ایسی سختی کی جائے گی جس میں جبر اور زیادتی نہ ہو۔ و اللہ! میں غلام کا مؤاخذہ آقا سے، مسافر کا مقیم سے، آنے والے کا جانے والے سے اور بیمار کا تندرست سے کروں گا، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے دوست سے ملاقات کرے گا تو یہ ضرب المثل اس کی زبان پر ہو گی: ’’سعد تو تو بچ جا سعید تو مارا گیا۔‘‘ یا پھر یہ ہو گا کہ تمہارے نیزے میرے لیے سیدھے ہو جائیں گے، منبر پر جھوٹ بولنا دائمی رسوائی کا باعث ہوتا ہے، اگر تمہارے سامنے میرا کوئی جھوٹ ثابت ہو جائے تو تمہارے لیے میری نافرمانی کرنا جائز ہو گا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 240)

اگر تم میں سے کسی پر رات کے وقت ڈاکہ پڑے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر آئے گی اور اس کا نقصان میں پورا کروں گا۔ جو ڈاکو گرفتار ہو کر میرے پاس آئے گا میں اس کا خون گرا دوں گا، میں تمہیں اتنی مہلت دیتا ہوں جتنے عرصہ میں کوئی خبر لے کر کوفہ جائے اور پھر واپس آ جائے۔ خبردار! میں کسی سے زمانہ جاہلیت کا دعویٰ نہ سننے پاؤں اگر میں نے کسی سے اس قسم کی کوئی بات سن لی تو میں اس کی زبان کاٹ ڈالوں گا، تم لوگوں نے وہ کام کرنا شروع کر دئیے ہیں جو قبل ازیں موجود نہیں تھے اور ہم نے بھی ہر گناہ کی سزا مقرر کر رکھی ہے۔ اگر کوئی کسی کو ڈبوئے گا تو میں اسے ڈبو دوں گا جو کسی کو جلائے گا اسے ہم جلائیں گے، اگر کوئی کسی کے گھر میں نقب لگائے گا تو میں اس کے دل میں سوراخ کر دوں گا۔ جو کسی کے لیے قبر کھودے گا تو میں اسے زندہ درگور کر دوں گا۔ اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو مجھ سے روک کر رکھو میں بھی اپنے ہاتھوں اور ایذا رسانی کو تم سے روک کر رکھوں گا۔ عام رسم و دستور سے ہٹ کر اگر کسی نے کوئی حرکت کی تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔

میرے اور کچھ لوگوں کے درمیان عداوت چلی آ رہی ہے مگر اب میں نے اسے اپنے کانوں کے پیچھے اور قدموں کے نیچے ڈال دیا ہے، تم میں جو لوگ نیک ہیں وہ اپنی نیکی میں اضافہ کر دیں اور جو برے اور بدکار ہیں وہ اپنی برائی اور بدکاری سے باز آ جائیں۔ اگر مجھے معلوم ہو گیا کہ کسی شخص کو میری دشمنی نے مار ڈالا ہے تو میں اس کا پردہ چاک نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ اعلانیہ مجھ سے روگردانی نہ کرے، اگر ایسا ہوا تو میں اسے دم نہیں لینے دوں گا۔ اب تم نئی زندگی شروع کرو اور اپنے کاموں میں نئے سرے سے مصروف ہو جاؤ، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے آنے سے رنجیدہ ہوئے مگر وہ عنقریب خوش ہو جائیں گے اور جو خوش ہوئے وہ رنجیدہ ہونے لگیں گے۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 137)

صفحہ 1 از 4