بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء
علی محمد الصلابیجب 45 ھ میں زیاد کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا گیا تو اس نے خطبہ بتراء دیا
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 134)
جس میں اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہ کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے اس کا آغاز حمد باری تعالیٰ سے کرتے ہوئے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے شکر گزار ہیں اور اس سے مزید نعمتوں کے خواستگار ہیں۔ ہمارے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے اسی طرح ہمیں ان کا شکر ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرما۔ اما بعد! سخت جاہلیت، اندھا دھند گمراہی اور فسق و فجور جو جہنم کو ہمیشہ کے لیے مشتعل کر دیتے ہیں یہ وہ بڑے بڑے جرائم ہیں جن کا تمہارے نالائق لوگ ارتکاب کرتے ہیں اور جن کی لپیٹ میں عقل مند لوگ بھی آ جاتے ہیں۔ جب ان افعال سے بڑے پرہیز نہیں کرتے تو بچے ان سے وہی باتیں سیکھنے لگ جاتے ہیں، تم نے تو گویا آیات ربانی کو سنا ہی نہیں اور کتاب اللہ کو پڑھا ہی نہیں اور تم نے سنا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اطاعت گزاروں کے لیے کیا اجر و ثواب اور اپنے نافرمانوں کے لیے کون سا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، کیا تم بھی ان لوگوں کی طرح بن جاؤ گے جن کی آنکھوں میں دنیا کی حرص نے خاک جھونک دی اور جن کے کانوں کو شہوات نے بند کر دیا اور جنہوں نے باقی کو چھوڑ کر فانی کو پسند کر لیا؟ تم دیکھتے نہیں کہ تم نے اسلام میں وہ بدعات جاری کر دیں جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، تم نے خرافات کے دروازے کھلے رہنے دیے اور کمزور لوگوں کو دن رات لٹنے دیا جن کی تعداد کچھ کم نہیں ہے۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو باغیوں کو دن کی لوٹ مار اور شب گردی سے روک سکتا، تم نے قرابت داروں کا تو بڑا خیال رکھا مگر دین سے دور رہے۔ تمہارے پاس کوئی عذر نہیں مگر معذور بنے پھرتے ہو اور اوباشوں کی پردہ پوشی کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص اپنے نالائق کا دفاع کرتا ہے اور وہ اس شخص کا سا کردار ادا کرتا ہے جسے نہ کسی عذاب کا ڈر ہو اور نہ قیامت کا اندیشہ، تم نالائق اور احمق لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہو تو پھر خود کیسے لائق اور دانا بن گئے، تم ہمیشہ ان کا دفاع کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اسلام کی حرمت کو پامال کر دیا اور پھر تمہارے پس پشت گوشہ رسوائی میں چھپ گئے، میرے لیے اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک میں ان کی پناہ گاہوں کو نیست و نابود نہ کر دوں اور انہیں جلا کر راکھ نہ بنا ڈالوں، میں دیکھتا ہوں کہ اس امر کا انجام اسی طرح صحیح ہو گا جس طرح اس کا آغاز صحیح ہوا تھا، ایسی نرمی کی جائے گی جس میں کمزوری نہ ہو اور ایسی سختی کی جائے گی جس میں جبر اور زیادتی نہ ہو۔ و اللہ! میں غلام کا مؤاخذہ آقا سے، مسافر کا مقیم سے، آنے والے کا جانے والے سے اور بیمار کا تندرست سے کروں گا، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے دوست سے ملاقات کرے گا تو یہ ضرب المثل اس کی زبان پر ہو گی: ’’سعد تو تو بچ جا سعید تو مارا گیا۔‘‘ یا پھر یہ ہو گا کہ تمہارے نیزے میرے لیے سیدھے ہو جائیں گے، منبر پر جھوٹ بولنا دائمی رسوائی کا باعث ہوتا ہے، اگر تمہارے سامنے میرا کوئی جھوٹ ثابت ہو جائے تو تمہارے لیے میری نافرمانی کرنا جائز ہو گا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 240)
اگر تم میں سے کسی پر رات کے وقت ڈاکہ پڑے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر آئے گی اور اس کا نقصان میں پورا کروں گا۔ جو ڈاکو گرفتار ہو کر میرے پاس آئے گا میں اس کا خون گرا دوں گا، میں تمہیں اتنی مہلت دیتا ہوں جتنے عرصہ میں کوئی خبر لے کر کوفہ جائے اور پھر واپس آ جائے۔ خبردار! میں کسی سے زمانہ جاہلیت کا دعویٰ نہ سننے پاؤں اگر میں نے کسی سے اس قسم کی کوئی بات سن لی تو میں اس کی زبان کاٹ ڈالوں گا، تم لوگوں نے وہ کام کرنا شروع کر دئیے ہیں جو قبل ازیں موجود نہیں تھے اور ہم نے بھی ہر گناہ کی سزا مقرر کر رکھی ہے۔ اگر کوئی کسی کو ڈبوئے گا تو میں اسے ڈبو دوں گا جو کسی کو جلائے گا اسے ہم جلائیں گے، اگر کوئی کسی کے گھر میں نقب لگائے گا تو میں اس کے دل میں سوراخ کر دوں گا۔ جو کسی کے لیے قبر کھودے گا تو میں اسے زندہ درگور کر دوں گا۔ اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو مجھ سے روک کر رکھو میں بھی اپنے ہاتھوں اور ایذا رسانی کو تم سے روک کر رکھوں گا۔ عام رسم و دستور سے ہٹ کر اگر کسی نے کوئی حرکت کی تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔
میرے اور کچھ لوگوں کے درمیان عداوت چلی آ رہی ہے مگر اب میں نے اسے اپنے کانوں کے پیچھے اور قدموں کے نیچے ڈال دیا ہے، تم میں جو لوگ نیک ہیں وہ اپنی نیکی میں اضافہ کر دیں اور جو برے اور بدکار ہیں وہ اپنی برائی اور بدکاری سے باز آ جائیں۔ اگر مجھے معلوم ہو گیا کہ کسی شخص کو میری دشمنی نے مار ڈالا ہے تو میں اس کا پردہ چاک نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ اعلانیہ مجھ سے روگردانی نہ کرے، اگر ایسا ہوا تو میں اسے دم نہیں لینے دوں گا۔ اب تم نئی زندگی شروع کرو اور اپنے کاموں میں نئے سرے سے مصروف ہو جاؤ، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے آنے سے رنجیدہ ہوئے مگر وہ عنقریب خوش ہو جائیں گے اور جو خوش ہوئے وہ رنجیدہ ہونے لگیں گے۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 137)
اے لوگو! ہم لوگ تمہارے سردار ہیں اور تمہارا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو حکومت دی ہے ہم اس کے تحت تم پر حکومت کریں گے، اللہ نے ہمیں جو مال غنیمت عطا کیا ہے اس سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ ہمارا حق تم پر یہ ہے کہ تم ہماری مرضی کے مطابق ہماری اطاعت کرو اور تمہارا حق ہم پر یہ ہے کہ ہم تم میں عدل کریں۔ تم ہماری خیر خواہی کر کے اپنے آپ کو ہمارے عدل اور مال کا حق دار بناؤ۔ جان لو کہ میں جس قدر بھی کوتاہی کروں تین باتوں میں ہرگز کوتاہی نہیں کروں گا: کوئی ضرورت مند آدھی رات کے وقت بھی میرے پاس آئے میں اس سے روپوش نہیں ہوں گا، کسی کی تنخواہ یا وظیفہ کو وقت پر ادائیگی سے نہیں روکوں گا اور نہ تمہارے لیے کوئی فوج رکھوں گا۔ اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کیا کرو، وہ تمہارے حکمران ہیں اور تمہیں ادب سکھاتے ہیں، وہ تمہاری جائے پناہ ہیں جن کا تم سہارا رکھتے ہو۔ اگر تم صحیح ہو جاؤ گے تو وہ بھی صحیح ہو جائیں گے، اپنے دلوں میں ان سے بغض نہ رکھو اس سے تم ہمیشہ غم و غصہ میں مبتلا رہو گے اور تمہاری کوئی ضرورت بھی پوری نہیں ہو گی، کسی ایسی حاجت کی خواہش نہ کرو کہ اگر اسے پورا کر دیا جائے تو تمہارے لیے ضرر رساں ثابت ہو۔ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہر ایک کا ہر ایک کے مقابلے میں حامی و ناصر ہو۔ جب دیکھو کہ میں تمہارے لیے کوئی حکم جاری کرنا چاہتا ہوں تو اسے آسانی سے جاری ہونے دینا اور اس کی مزاحمت سے باز رہنا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 137)
پھر احنف بولا: امیر! تم نے جو کچھ کہا خوب کہا، مگر آزمائش کے بعد ستائش اور عطاء کے بعد سپاس چاہتے ہیں اور ہم ہرگز تعریف نہیں کریں گے یہاں تک کہ آزمائش کر لیں۔ زیاد نے کہا: تو نے درست کہا۔
(ایضًا)
زیاد کا یہ خطبہ تاریخ کے مشہور ترین خطبات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اس خطبہ کو بہت سارے مصادر نے ذکر کیا ہے مگر یہ کسی ایسی صحیح سند کے ساتھ وارد نہیں ہے جس کی بنیاد پر قاری اس کے مضمون سے مطمئن ہو سکے، خصوصاً ایسے حالات میں کہ یہ متعدد اعتراضات اور واضح تناقضات پر مشتمل ہے جس سے اس کی زیاد کی طرف نسبت کی صحت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ ان اعتراضات اور تناقضات کی ڈاکٹر خالد الغیث نے نشان دہی کی ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 244 )
مثلاً: اس خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بصرہ میں فسق و فجور کا دور دورہ تھا اور اس میں بداخلاقی کے اڈوں کی بہتات تھی۔ مگر زیاد کی بصرہ آمد پر اس کی حالت کے بارے میں اس کلام منکر کی تردید اس حقیقت سے ہوتی ہے جس پر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے اپنی تاسیس کے دن سے قائم تھا، اور وہ حقیقت یہ تھی کہ اسے ایسے مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی جہاں سے اسلامی فتوحات کے تسلسل کو قائم رکھنے اور مفتوحہ شہروں اور علاقوں میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے اسلامی لشکر روانہ ہوا کریں گے۔ اس مقصد کے پیش نظر ایک سو پچاس سے زیادہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بصرہ میں آ کر آباد ہوئے اور دعوت الی اللہ اور لوگوں کو اپنی تعلیم سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی، پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ برائیاں اس معاشرے میں عام ہو جائیں جس کی بنیاد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین علیہما السلام ہوں اور وہ انہیں روکنے سے قاصر رہیں؟ مزید برآں بصرہ میں خوارج جیسے لوگوں کا وجود جو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی میں بڑی شہرت رکھتے تھے یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ بصرہ کے معاشرہ میں ان برائیوں کا کوئی وجود نہیں تھا جن کا زیاد کے خطبہ میں ذکر کیا گیا ہے۔
(ایضاً: صفحہ 244)
زیاد کے اس خطبہ میں تضاد کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو یہ کہہ رہا ہے کہ ’’زمانہ جاہلیت کے دعویٰ سے اجتناب کرنا، جس کسی نے بھی یہ دعویٰ کیا میں اس کی زبان کاٹ دوں گا۔‘‘
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 135)
جبکہ وہ اسی خطبہ میں کہتا ہے: ’’اللہ کی قسم! میں ولی کو ولی کی جگہ پکڑوں گا اور مقیم کو مسافر، آنے والے کو جانے والے اور تندرست کو بیمار کے بدلے دھر لوں گا۔‘‘
(ایضاً)
اسی خطبہ میں وہ یہ کہتا ہے: ’’شب گردی سے بچو میرے پاس ایسے جس شخص کو بھی لایا جائے گا میں اس کا خون بہا دوں گا۔‘‘
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 135)
مگر وہ آگے چل کر کہتا ہے: ’’میں کسی ضرورت مند سے روپوش نہیں ہوں گا اگرچہ وہ رات کے اندھیرے میں آ کر میرا دروازہ کھٹکھٹائے۔‘‘
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 136)
خطبہ میں وارد ان تناقضات کا زیاد جیسے آدمی سے صدور بڑی انوکھی سی بات ہے، جبکہ اس کی فصاحت و بلاغت کا ہر طرف شہرہ تھا۔
یہ بات ایک دوسرے قضیہ کی طرف بھی ہماری راہنمائی کرتی ہے اور وہ یہ کہ اس امر کا احتمال بھی موجود ہے کہ بصرہ آمد کے موقع پر زیاد کے جس خطبہ کی نص ہمارے سامنے موجود ہے وہ کئی خطبات سے عبارت ہو جنہیں ایک دوسرے میں خلط ملط کر دیا گیا، ہمارے اس مؤقف کی تائید عبداللہ بن الاہتم اور احنف بن قیسؓ کی طرف سے اس خطبہ کی تعریف سے بھی ہوتی ہے، جبکہ یہ خطبہ تعریف کا نہیں بلکہ تنقید کا مستحق تھا اس لیے کہ اس میں جاہلیت کے حکم کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر مقدم رکھا گیا تھا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 246)
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جس شخص کو بھی خوبصورت گفتگو کرتے سنا دل سے چاہا کہ وہ خاموش ہو جائے اور یہ اس خوف کے پیش نظر ہوتا کہ اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو جائے بجز زیاد کے، وہ جس قدر بھی زیادہ گفتگو کرتا عمدہ گفتگو کرتا، بڑی ہی عمدہ گفتگو کرتا۔
(المنتظم لابن الجوزی: جلد 5 صفحہ 212)
شعبیؒ کی طرف سے زیاد کی طلاقت لسانی کی یہ تعریف زیاد کے مذکورہ بالا خطبہ بتراء کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 247)
ھ: زیاد کا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات حاصل کرنا: زیاد بن سمیہ نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ مثلاً اس نے عمران بن حصین خزاعی کو بصرہ کا قاضی (آپ 47ھ میں بصرہ میں فوت ہوئے۔ التقریب: صفحہ 429)
اور حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا حاکم مقرر کیا، ( آپ 50ھ میں مرو میں فوت ہوئے، ان سے امام بخاریؒ نے بھی روایات لیں۔ ملاحظہ ہو: التقریب لابن حجر: 175)
اس کے دور میں سمرہ بن جندب، انس بن مالک، عبدالرحمٰن بن سمرہ، عبداللہ بن فضالہ لیثی، (ایضاً: 327)
عاصم بن فضالہ (الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 574)
اور زرارہ بن اوفی حرشی (انہوں نے 93 ھ میں دورانِ نماز وفات پائی، التقریب لابن حجر: صفحہ 215) رضی اللہ عنہم مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ آخر الذکر کی بہن لبابہ زیاد کے نکاح میں تھی۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 370)
و: عراق میں زیاد کی سیاست: زیاد بن سمیہ، عبداللہ بن عامر اور مغیرہ بن شعبہ کے بعد بصرہ اور کوفہ کا حکمران رہا۔ زیاد نے دولت امویہ کے مشرقی بازو میں بڑی بڑی ضروری اصلاحات کیں، یہ شخص بڑی انتظامی صلاحیتوں کا مالک تھا،
(خلافۃ معاویۃ بن ابو سفیان: عقیلی: صفحہ 86)
اس نے پہلے (45، 50ھ) کے دوران بصرہ میں متعدد قوانین اور انتظامی فیصلے صادر کیے اور کئی اصلاحات کیں۔ پھر جب (٫50 53ھ) کے دوران بصرہ اور کوفہ دونوں شہر اس کی ماتحتی میں کر دیئے گے تو اس نے کوفہ میں بھی متعدد اصلاحات کیں، چنانچہ اس نے بصرہ اور دار الرزق (انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 314)۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 87) قائم کیا جس سے اہالیان شہر استفادہ کیا کرتے تھے۔ اس کی نگرانی کے لیے اس نے جن اشخاص کا تعین کیا ان میں عبداللہ بن حارث بن نوفل اور رواد بن ابوبکرہ کا نام بھی آتا ہے۔ اس نے غذائی اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرنے کے لیے جعد بن قیس نمری کا تقرر کیا۔
(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 87)
اگر کبھی اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھ جاتیں تو ان پر کنٹرول کے لیے تاجر حضرات کو قرض فراہم کیا کرتا، پھر جب اشیائے ضروریہ وافر مقدار میں میسر ہوتیں اور ان کی قیمتیں بھی مستحکم ہو جاتیں تو قرض دی گئی رقوم واپس لے لی جاتیں۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 237)
زیاد نے بصرہ اور کوفہ میں لوگوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کر کے ان میں سے ہر قسم کے لوگوں پر نگران مقرر کر رکھے تھے جو اپنے اپنے خاندان کے لوگوں میں سرکاری عطیات تقسیم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے۔ مزید برآں ان کے علاقے میں جو بھی نیا واقعہ ہوتا یا کوئی نئی صورت حال پیدا ہوتی وہ اس کی تفصیل سے زیاد کو آگاہ کرتے۔ اس طرح زیاد ان دونوں شہروں میں ان کے شہریوں کی مدد سے امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ زیاد نے یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ کوفہ اور بصرہ سے کوئی بھی شخص عشاء کی نماز کے بعد باہر نہیں نکلے گا۔ اس نے چوروں اور ڈاکوؤں پر شرعی سزائیں نافذ کیں جس سے ہر طرف امن و سلامتی کا اس حد تک دور دورہ ہو گیا کہ عورتیں گھروں کے دروازے کھلے چھوڑ کر سو رہتیں اور اگر کسی کی کوئی چیز زمین پر گر جاتی تو اسے کسی کو ہاتھ تک لگانے کی جرأت نہ ہوتی۔
(تاریخ طبری نقلا عن خلافۃ معاویۃ: صفحہ 88)
زیاد نے عطیات کو منظم کرنے کے لیے رجسٹر سے فوت شدگان، علاقہ سے غائب اور تخریب کار عناصر کے نام حذف کروا دئیے تھے۔ ماہِ شعبان کی آمد کے ساتھ ہی جنگجوؤں کے وظائف سے ان کے گھروں کو میٹھی اور نمکین غذائی اشیاء سے بھر دیا جاتا۔ جن کے ساتھ وہ رمضان المبارک کا استقبال کرتے، ماہ ذوالحجہ میں بھی ایسا ہی کیا جاتا۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 219)
بلاذری اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہر خاندان کو دو جریب غلہ اور ایک سو درہم ادا کیے جاتے، افطار کے لیے پچاس درہم اور قربانی کے اخراجات کے لیے بھی پچاس درہم کا تعاون کیا جاتا۔
(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 88 نقلا عن انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 221)
زیاد نے اہل بصرہ سے تقریباً پانچ سو ایسے افراد کا انتخاب کیا جو اس کی ذاتی حفاظت پر مامور تھے نیز اہم مقامات کے حفاظتی انتظامات کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ اس کے لیے ان میں سے ہر شخص کو تین سو سے لے کر پانچ سو درہم کے درمیان معاوضہ ادا کیا جاتا۔ ان کی قیادت شیبان بن عبداللہ سعدی کے ہاتھ میں تھی، اور یہ لوگ ہمیشہ مسجد میں موجود رہتے تھے۔
(ایضاً: صفحہ 89۔ انساب الاشراف:جلد 4 صفحہ 221)
زیاد نے اپنے دور میں متعدد مساجد تعمیر کروائیں، جن میں سے مسجد بنی عدی، مسجد بنو مجاشع اور مسجد الاساورہ قابل ذکر ہیں۔ زیاد کی طرف سے ایک مسجد کے قریب کوئی دوسری مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مسجد بنو عدی زیاد کے قریب ترین واقع تھی۔
(مختصر کتاب البلدان: صفحہ 191)
ابن فقیہؒ ذکر کرتے ہیں: زیاد نے سات مسجدیں تعمیر کروائیں مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اس کے نام سے موسوم نہیں تھی، زیاد کی تعمیر کردہ ہر مسجد کا صحن گول ہوتا تھا۔
(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 160)
اس نے بصرہ کی مسجد میں بہت زیادہ توسیع کی اور اسے اینٹوں اور چونے سے تعمیر کیا، اس پر ساج کی چھت ڈالی اور اس کے مینار پتھر سے بنوائے۔
(فتوح البلدان: صفحہ 346، 347۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 89)
زیاد شہر کی صفائی ستھرائی کا بڑا اہتمام کرتا، گھروں کی صفائی کی ذمہ داری افراد خانہ پر عائد کی جاتی اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کو سزا دی جاتی، بارش کے بعد گھر کا سربراہ گھر کے سامنے سے مٹی کیچڑ اٹھانے کا ذمہ دار تھا اور اگر کوئی ایسا نہ کرتا تو وہ کیچڑ وغیرہ اس کے گھر کے اندر پھینک دیا جاتا، اسی طرح لوگ اپنی گلیوں اور بازاروں کو بھی صاف کرنے اور انہیں صاف رکھنے کے ذمہ دار تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ خرید کردہ غلاموں کی اس کام کی انجام دہی پر ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 206۔ الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 214)
یہ روایت اس بات کی طرف اشاہ کرتی ہے کہ ملازمین صفائی ستھرائی کے کام کی نگرانی کے لیے مامور تھے اور یہ کہ زیاد کو راستوں کی صفائی کا گہرا احساس تھا، لہٰذا اس نے اس مقصد کے لیے کچھ غلام خریدے جن کی ذمہ داری گلیوں اور بازاروں کی صفائی کو یقینی بنانا تھا۔
(ایضاً: صفحہ 214)
زیاد کو زرعی ترقی میں خصوصی دلچسپی تھی اس مقصد کے لیے اس نے کئی ڈیم تعمیر کروائے اور نہریں کھدوائیں۔
(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 89)
زرعی پیدوار بڑھانے اور زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے مزارعین کو دو سال کے لیے ساٹھ ساٹھ جریب زرعی زمین دیتا اگر اس دوران وہ اسے آباد کر لیتا تو زمین کا مالک بن جاتا اور اگر وہ اس میں ناکام رہتا تو زمین اس سے واپس لے کر کسی اور کو دے دی جاتی۔
(فتوح البلدان: صفحہ 356، 362، 363، 369 )
زیاد نے دریائے فرات کے دونوں کناروں میں رابطہ کے لیے کوفہ کے پل کو نئے سرے سے اور مضبوط بنیادوں پر تعمیر کروایا جبکہ قبل ازیں اسے لکڑی سے تعمیر کیا گیا تھا جس کے گرنے کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔ نئی تعمیر کے بعد وہ جسر الکوفہ کے نام سے مشہور ہوا۔
(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 90)
جہاں تک صوبے کے بیت المال میں تصرف کا تعلق ہے تو بلاذری اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زیاد کو صرف بصرہ سے ساٹھ لاکھ درہم وصول ہوتے جس سے جنگجوؤں کو چھتیس لاکھ درہم ادا کیے جاتے۔ سولہ لاکھ ان کے بچوں میں تقسیم کر دئیے جاتے، دو لاکھ حکمران کے اخراجات کی مد میں چلے جاتے، چار لاکھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے جاتے اور دو لاکھ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رکھ لیے جاتے۔ کوفہ سے چالیس لاکھ درہم وصول ہوتے جن میں سے تین چوتھائی معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام بھجوا دئیے جاتے، جب زیاد بن ابوسفیان کے بعد اس کا بیٹا عبیداللہ عراق کا والی بنا تو اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ ہزار درہم بھیجے تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! میرے بھتیجے سے راضی ہو جا۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 218، 219)
4۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ: جعفر بن سلیمان ضبعی سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کی وفات کے چھ ماہ بعد تک سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا والی بنائے رکھا اور پھر انہیں معزول کر دیا، لوگوں نے ان پر یہ جھوٹا الزام لگایا کہ انہوں نے کہا ہے: اللہ معاویہ پر لعنت کرے۔ و اللہ! اگر میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح اطاعت کرتا جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی کرتا رہا تو اللہ مجھے کبھی عذاب نہ دیتا۔
(مرویات معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 261)
مگر حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ خبر کہ انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دی تھی اس صحابی جلیل کے بارے میں محض کذب بیانی ہے۔ اس بارے ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ان کی طرف منسوب یہ بات درست نہیں ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: نقلا عن مرویات معاویۃ: صفحہ 262)
نیز اس خبر کے راوی جعفر بن سلیمان ضبعی کے بارے میں ابن حجرؒ رقمطراز ہیں: وہ زاہد و صادق ہے مگر وہ تشیع کی طرف مائل تھا،
(تقریب التہذیب: صفحہ 140)
اسلامی تاریخ کا چہرہ داغ دار کرنے میں تشیع کا اثر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 262)
5۔ عبدالله بن عمرو بن غیلان ثقفی: طبری رقمطراز ہیں: اس سال (54ھ) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کو بصرہ کی ولایت سے معزول کر کے ان کی جگہ عبداللہ بن غیلان کو اس کا عامل مقرر کر دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 212)
6۔ عبیدالله بن زیاد: طبری فرماتے ہیں: اسی سال (54ھ) سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن زیاد کو والی خراسان مقرر کیا۔
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 212)
پھر 55ھ میں انہوں نے عمرو بن غیلان کو بھی بصرہ سے معزول کر کے اس کا والی ابن زیاد کو بنا دیا،
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 217)
اور اس سے فرمایا: تمہارے لیے بھی میرے وہی احکام ہیں جو دوسرے عہدے داروں کے لیے ہیں، اس کے علاوہ تیری میرے ساتھ قرابت کی وجہ سے میں تجھے خصوصی تلقین کرتا ہوں کہ تھوڑوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے زیادہ کو نہ چھوڑنا، اور اپنا محاسبہ خود آپ کرنا، تیرے اور تیرے دشمن کے درمیان جو بھی معاملہ ہو اس میں ایفائے عہد کا خیال رکھنا اس سے تجھ پر بھی اور پھر ہم پر بھی بوجھ کم پڑے گا اور لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھنا اس سے تمہیں ان کے حالات سے آگاہی رہے گی۔ جان لو کہ تم اور وہ برابر ہیں۔ جس کام کا بھی ارادہ ہو اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنا مگر کسی طمع خور کا اس میں کوئی کردار نہ ہو اور جب اس ارادہ پر عمل کرنا ممکن ہو تو پھر کوئی شخص تیری رائے کو ردّ نہ کرنے پائے، اگر جنگ میں تیرے دشمن زمین کے ظاہر پر تجھ پر غالب آ جائیں تو وہ زمین کے اندر تجھ پر غالب نہیں آ سکتے، اگر کبھی تیرے رفقاء پر ایسا وقت آن پڑے کہ تجھے اپنی جان سے ان کی مدد کرنا پڑے تو ایسا ضرور کرنا۔
(تاریخ طبری: جلد 2 صفحہ 212، 213)
دوسری روایت میں ہے اللہ سے ڈرتے رہنا اور اس پر کسی چیز کو ترجیح نہ دینا اس لیے کہ تقویٰ میں اجر و ثواب ہے، اپنی عزت و آبرو کو داغ دار نہ ہونے دینا اور عہد کو پورا کرنا جب تک کسی کام کا عزم مصمم نہ کر لو اسے کسی پر ظاہر نہ کرنا اور جب اسے ظاہر کر دو تو اسے روکنے کی کسی کو جرأت نہ ہو، جب دشمن سے جنگ چھڑ جائے تو زیادہ سے زیادہ لوگ تیرے ساتھ ہونے چاہئیں اور مال غنیمت کی تقسیم قرآنی احکام کے مطابق کرنا، کسی کو وہ لالچ نہ دینا جس کا وہ حق دار نہ ہو اور جس کا حق ہو اسے مایوس نہ کرنا۔ آپ نے یہ نصیحتیں کرنے کے بعد اسے الوداع کہا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 214)