بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اے لوگو! ہم لوگ تمہارے سردار ہیں اور تمہارا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو حکومت دی ہے ہم اس کے تحت تم پر حکومت کریں گے، اللہ نے ہمیں جو مال غنیمت عطا کیا ہے اس سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ ہمارا حق تم پر یہ ہے کہ تم ہماری مرضی کے مطابق ہماری اطاعت کرو اور تمہارا حق ہم پر یہ ہے کہ ہم تم میں عدل کریں۔ تم ہماری خیر خواہی کر کے اپنے آپ کو ہمارے عدل اور مال کا حق دار بناؤ۔ جان لو کہ میں جس قدر بھی کوتاہی کروں تین باتوں میں ہرگز کوتاہی نہیں کروں گا: کوئی ضرورت مند آدھی رات کے وقت بھی میرے پاس آئے میں اس سے روپوش نہیں ہوں گا، کسی کی تنخواہ یا وظیفہ کو وقت پر ادائیگی سے نہیں روکوں گا اور نہ تمہارے لیے کوئی فوج رکھوں گا۔ اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کیا کرو، وہ تمہارے حکمران ہیں اور تمہیں ادب سکھاتے ہیں، وہ تمہاری جائے پناہ ہیں جن کا تم سہارا رکھتے ہو۔ اگر تم صحیح ہو جاؤ گے تو وہ بھی صحیح ہو جائیں گے، اپنے دلوں میں ان سے بغض نہ رکھو اس سے تم ہمیشہ غم و غصہ میں مبتلا رہو گے اور تمہاری کوئی ضرورت بھی پوری نہیں ہو گی، کسی ایسی حاجت کی خواہش نہ کرو کہ اگر اسے پورا کر دیا جائے تو تمہارے لیے ضرر رساں ثابت ہو۔ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہر ایک کا ہر ایک کے مقابلے میں حامی و ناصر ہو۔ جب دیکھو کہ میں تمہارے لیے کوئی حکم جاری کرنا چاہتا ہوں تو اسے آسانی سے جاری ہونے دینا اور اس کی مزاحمت سے باز رہنا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 137) 

پھر احنف بولا: امیر! تم نے جو کچھ کہا خوب کہا، مگر آزمائش کے بعد ستائش اور عطاء کے بعد سپاس چاہتے ہیں اور ہم ہرگز تعریف نہیں کریں گے یہاں تک کہ آزمائش کر لیں۔ زیاد نے کہا: تو نے درست کہا۔

(ایضًا)

زیاد کا یہ خطبہ تاریخ کے مشہور ترین خطبات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اس خطبہ کو بہت سارے مصادر نے ذکر کیا ہے مگر یہ کسی ایسی صحیح سند کے ساتھ وارد نہیں ہے جس کی بنیاد پر قاری اس کے مضمون سے مطمئن ہو سکے، خصوصاً ایسے حالات میں کہ یہ متعدد اعتراضات اور واضح تناقضات پر مشتمل ہے جس سے اس کی زیاد کی طرف نسبت کی صحت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ ان اعتراضات اور تناقضات کی ڈاکٹر خالد الغیث نے نشان دہی کی ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 244 )

مثلاً: اس خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بصرہ میں فسق و فجور کا دور دورہ تھا اور اس میں بداخلاقی کے اڈوں کی بہتات تھی۔ مگر زیاد کی بصرہ آمد پر اس کی حالت کے بارے میں اس کلام منکر کی تردید اس حقیقت سے ہوتی ہے جس پر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے اپنی تاسیس کے دن سے قائم تھا، اور وہ حقیقت یہ تھی کہ اسے ایسے مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی جہاں سے اسلامی فتوحات کے تسلسل کو قائم رکھنے اور مفتوحہ شہروں اور علاقوں میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے اسلامی لشکر روانہ ہوا کریں گے۔ اس مقصد کے پیش نظر ایک سو پچاس سے زیادہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بصرہ میں آ کر آباد ہوئے اور دعوت الی اللہ اور لوگوں کو اپنی تعلیم سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی، پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ برائیاں اس معاشرے میں عام ہو جائیں جس کی بنیاد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین علیہما السلام ہوں اور وہ انہیں روکنے سے قاصر رہیں؟ مزید برآں بصرہ میں خوارج جیسے لوگوں کا وجود جو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی میں بڑی شہرت رکھتے تھے یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ بصرہ کے معاشرہ میں ان برائیوں کا کوئی وجود نہیں تھا جن کا زیاد کے خطبہ میں ذکر کیا گیا ہے۔

(ایضاً: صفحہ 244)

زیاد کے اس خطبہ میں تضاد کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو یہ کہہ رہا ہے کہ ’’زمانہ جاہلیت کے دعویٰ سے اجتناب کرنا، جس کسی نے بھی یہ دعویٰ کیا میں اس کی زبان کاٹ دوں گا۔‘‘

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 135)

جبکہ وہ اسی خطبہ میں کہتا ہے: ’’اللہ کی قسم! میں ولی کو ولی کی جگہ پکڑوں گا اور مقیم کو مسافر، آنے والے کو جانے والے اور تندرست کو بیمار کے بدلے دھر لوں گا۔‘‘

(ایضاً)

اسی خطبہ میں وہ یہ کہتا ہے: ’’شب گردی سے بچو میرے پاس ایسے جس شخص کو بھی لایا جائے گا میں اس کا خون بہا دوں گا۔‘‘

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 135)

مگر وہ آگے چل کر کہتا ہے: ’’میں کسی ضرورت مند سے روپوش نہیں ہوں گا اگرچہ وہ رات کے اندھیرے میں آ کر میرا دروازہ کھٹکھٹائے۔‘‘

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 136)

خطبہ میں وارد ان تناقضات کا زیاد جیسے آدمی سے صدور بڑی انوکھی سی بات ہے، جبکہ اس کی فصاحت و بلاغت کا ہر طرف شہرہ تھا۔

یہ بات ایک دوسرے قضیہ کی طرف بھی ہماری راہنمائی کرتی ہے اور وہ یہ کہ اس امر کا احتمال بھی موجود ہے کہ بصرہ آمد کے موقع پر زیاد کے جس خطبہ کی نص ہمارے سامنے موجود ہے وہ کئی خطبات سے عبارت ہو جنہیں ایک دوسرے میں خلط ملط کر دیا گیا، ہمارے اس مؤقف کی تائید عبداللہ بن الاہتم اور احنف بن قیسؓ کی طرف سے اس خطبہ کی تعریف سے بھی ہوتی ہے، جبکہ یہ خطبہ تعریف کا نہیں بلکہ تنقید کا مستحق تھا اس لیے کہ اس میں جاہلیت کے حکم کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر مقدم رکھا گیا تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 246)

شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جس شخص کو بھی خوبصورت گفتگو کرتے سنا دل سے چاہا کہ وہ خاموش ہو جائے اور یہ اس خوف کے پیش نظر ہوتا کہ اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو جائے بجز زیاد کے، وہ جس قدر بھی زیادہ گفتگو کرتا عمدہ گفتگو کرتا، بڑی ہی عمدہ گفتگو کرتا۔

(المنتظم لابن الجوزی: جلد 5 صفحہ 212)

شعبیؒ کی طرف سے زیاد کی طلاقت لسانی کی یہ تعریف زیاد کے مذکورہ بالا خطبہ بتراء کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 247)

ھ: زیاد کا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات حاصل کرنا: زیاد بن سمیہ نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ مثلاً اس نے عمران بن حصین خزاعی کو بصرہ کا قاضی (آپ 47ھ میں بصرہ میں فوت ہوئے۔ التقریب: صفحہ 429)

صفحہ 2 از 4