بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

اور حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا حاکم مقرر کیا، ( آپ 50ھ میں مرو میں فوت ہوئے، ان سے امام بخاریؒ نے بھی روایات لیں۔ ملاحظہ ہو: التقریب لابن حجر: 175)

اس کے دور میں سمرہ بن جندب، انس بن مالک، عبدالرحمٰن بن سمرہ، عبداللہ بن فضالہ لیثی، (ایضاً: 327)

عاصم بن فضالہ (الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 574)

اور زرارہ بن اوفی حرشی (انہوں نے 93 ھ میں دورانِ نماز وفات پائی، التقریب لابن حجر: صفحہ 215) رضی اللہ عنہم مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ آخر الذکر کی بہن لبابہ زیاد کے نکاح میں تھی۔ 

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 370)

و: عراق میں زیاد کی سیاست: زیاد بن سمیہ، عبداللہ بن عامر اور مغیرہ بن شعبہ کے بعد بصرہ اور کوفہ کا حکمران رہا۔ زیاد نے دولت امویہ کے مشرقی بازو میں بڑی بڑی ضروری اصلاحات کیں، یہ شخص بڑی انتظامی صلاحیتوں کا مالک تھا، 

(خلافۃ معاویۃ بن ابو سفیان: عقیلی: صفحہ 86)

اس نے پہلے (45، 50ھ) کے دوران بصرہ میں متعدد قوانین اور انتظامی فیصلے صادر کیے اور کئی اصلاحات کیں۔ پھر جب (٫50 53ھ) کے دوران بصرہ اور کوفہ دونوں شہر اس کی ماتحتی میں کر دیئے گے تو اس نے کوفہ میں بھی متعدد اصلاحات کیں، چنانچہ اس نے بصرہ اور دار الرزق (انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 314)۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 87) قائم کیا جس سے اہالیان شہر استفادہ کیا کرتے تھے۔ اس کی نگرانی کے لیے اس نے جن اشخاص کا تعین کیا ان میں عبداللہ بن حارث بن نوفل اور رواد بن ابوبکرہ کا نام بھی آتا ہے۔ اس نے غذائی اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرنے کے لیے جعد بن قیس نمری کا تقرر کیا۔

(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 87)

اگر کبھی اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھ جاتیں تو ان پر کنٹرول کے لیے تاجر حضرات کو قرض فراہم کیا کرتا، پھر جب اشیائے ضروریہ وافر مقدار میں میسر ہوتیں اور ان کی قیمتیں بھی مستحکم ہو جاتیں تو قرض دی گئی رقوم واپس لے لی جاتیں۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 237)

زیاد نے بصرہ اور کوفہ میں لوگوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کر کے ان میں سے ہر قسم کے لوگوں پر نگران مقرر کر رکھے تھے جو اپنے اپنے خاندان کے لوگوں میں سرکاری عطیات تقسیم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے۔ مزید برآں ان کے علاقے میں جو بھی نیا واقعہ ہوتا یا کوئی نئی صورت حال پیدا ہوتی وہ اس کی تفصیل سے زیاد کو آگاہ کرتے۔ اس طرح زیاد ان دونوں شہروں میں ان کے شہریوں کی مدد سے امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ زیاد نے یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ کوفہ اور بصرہ سے کوئی بھی شخص عشاء کی نماز کے بعد باہر نہیں نکلے گا۔ اس نے چوروں اور ڈاکوؤں پر شرعی سزائیں نافذ کیں جس سے ہر طرف امن و سلامتی کا اس حد تک دور دورہ ہو گیا کہ عورتیں گھروں کے دروازے کھلے چھوڑ کر سو رہتیں اور اگر کسی کی کوئی چیز زمین پر گر جاتی تو اسے کسی کو ہاتھ تک لگانے کی جرأت نہ ہوتی۔

(تاریخ طبری نقلا عن خلافۃ معاویۃ: صفحہ 88)

زیاد نے عطیات کو منظم کرنے کے لیے رجسٹر سے فوت شدگان، علاقہ سے غائب اور تخریب کار عناصر کے نام حذف کروا دئیے تھے۔ ماہِ شعبان کی آمد کے ساتھ ہی جنگجوؤں کے وظائف سے ان کے گھروں کو میٹھی اور نمکین غذائی اشیاء سے بھر دیا جاتا۔ جن کے ساتھ وہ رمضان المبارک کا استقبال کرتے، ماہ ذوالحجہ میں بھی ایسا ہی کیا جاتا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 219)

بلاذری اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہر خاندان کو دو جریب غلہ اور ایک سو درہم ادا کیے جاتے، افطار کے لیے پچاس درہم اور قربانی کے اخراجات کے لیے بھی پچاس درہم کا تعاون کیا جاتا۔

(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 88 نقلا عن انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 221)

زیاد نے اہل بصرہ سے تقریباً پانچ سو ایسے افراد کا انتخاب کیا جو اس کی ذاتی حفاظت پر مامور تھے نیز اہم مقامات کے حفاظتی انتظامات کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ اس کے لیے ان میں سے ہر شخص کو تین سو سے لے کر پانچ سو درہم کے درمیان معاوضہ ادا کیا جاتا۔ ان کی قیادت شیبان بن عبداللہ سعدی کے ہاتھ میں تھی، اور یہ لوگ ہمیشہ مسجد میں موجود رہتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 89۔ انساب الاشراف:جلد 4 صفحہ 221)

زیاد نے اپنے دور میں متعدد مساجد تعمیر کروائیں، جن میں سے مسجد بنی عدی، مسجد بنو مجاشع اور مسجد الاساورہ قابل ذکر ہیں۔ زیاد کی طرف سے ایک مسجد کے قریب کوئی دوسری مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مسجد بنو عدی زیاد کے قریب ترین واقع تھی۔

(مختصر کتاب البلدان: صفحہ 191)

ابن فقیہؒ ذکر کرتے ہیں: زیاد نے سات مسجدیں تعمیر کروائیں مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اس کے نام سے موسوم نہیں تھی، زیاد کی تعمیر کردہ ہر مسجد کا صحن گول ہوتا تھا۔

(الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 160)

اس نے بصرہ کی مسجد میں بہت زیادہ توسیع کی اور اسے اینٹوں اور چونے سے تعمیر کیا، اس پر ساج کی چھت ڈالی اور اس کے مینار پتھر سے بنوائے۔

(فتوح البلدان: صفحہ 346، 347۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 89)

زیاد شہر کی صفائی ستھرائی کا بڑا اہتمام کرتا، گھروں کی صفائی کی ذمہ داری افراد خانہ پر عائد کی جاتی اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کو سزا دی جاتی، بارش کے بعد گھر کا سربراہ گھر کے سامنے سے مٹی کیچڑ اٹھانے کا ذمہ دار تھا اور اگر کوئی ایسا نہ کرتا تو وہ کیچڑ وغیرہ اس کے گھر کے اندر پھینک دیا جاتا، اسی طرح لوگ اپنی گلیوں اور بازاروں کو بھی صاف کرنے اور انہیں صاف رکھنے کے ذمہ دار تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ خرید کردہ غلاموں کی اس کام کی انجام دہی پر ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 206۔ الادارۃ فی العصر الاموی: صفحہ 214)

یہ روایت اس بات کی طرف اشاہ کرتی ہے کہ ملازمین صفائی ستھرائی کے کام کی نگرانی کے لیے مامور تھے اور یہ کہ زیاد کو راستوں کی صفائی کا گہرا احساس تھا، لہٰذا اس نے اس مقصد کے لیے کچھ غلام خریدے جن کی ذمہ داری گلیوں اور بازاروں کی صفائی کو یقینی بنانا تھا۔

(ایضاً: صفحہ 214)

زیاد کو زرعی ترقی میں خصوصی دلچسپی تھی اس مقصد کے لیے اس نے کئی ڈیم تعمیر کروائے اور نہریں کھدوائیں۔

(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 89)

صفحہ 3 از 4