بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

زرعی پیدوار بڑھانے اور زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے مزارعین کو دو سال کے لیے ساٹھ ساٹھ جریب زرعی زمین دیتا اگر اس دوران وہ اسے آباد کر لیتا تو زمین کا مالک بن جاتا اور اگر وہ اس میں ناکام رہتا تو زمین اس سے واپس لے کر کسی اور کو دے دی جاتی۔

(فتوح البلدان: صفحہ 356، 362، 363، 369 )

زیاد نے دریائے فرات کے دونوں کناروں میں رابطہ کے لیے کوفہ کے پل کو نئے سرے سے اور مضبوط بنیادوں پر تعمیر کروایا جبکہ قبل ازیں اسے لکڑی سے تعمیر کیا گیا تھا جس کے گرنے کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔ نئی تعمیر کے بعد وہ جسر الکوفہ کے نام سے مشہور ہوا۔

(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 90)

جہاں تک صوبے کے بیت المال میں تصرف کا تعلق ہے تو بلاذری اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زیاد کو صرف بصرہ سے ساٹھ لاکھ درہم وصول ہوتے جس سے جنگجوؤں کو چھتیس لاکھ درہم ادا کیے جاتے۔ سولہ لاکھ ان کے بچوں میں تقسیم کر دئیے جاتے، دو لاکھ حکمران کے اخراجات کی مد میں چلے جاتے، چار لاکھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے جاتے اور دو لاکھ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رکھ لیے جاتے۔ کوفہ سے چالیس لاکھ درہم وصول ہوتے جن میں سے تین چوتھائی معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام بھجوا دئیے جاتے، جب زیاد بن ابوسفیان کے بعد اس کا بیٹا عبیداللہ عراق کا والی بنا تو اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ ہزار درہم بھیجے تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! میرے بھتیجے سے راضی ہو جا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 218، 219)

4۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ: جعفر بن سلیمان ضبعی سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کی وفات کے چھ ماہ بعد تک سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا والی بنائے رکھا اور پھر انہیں معزول کر دیا، لوگوں نے ان پر یہ جھوٹا الزام لگایا کہ انہوں نے کہا ہے: اللہ معاویہ پر لعنت کرے۔ و اللہ! اگر میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح اطاعت کرتا جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی کرتا رہا تو اللہ مجھے کبھی عذاب نہ دیتا۔

(مرویات معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 261)

مگر حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ خبر کہ انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دی تھی اس صحابی جلیل کے بارے میں محض کذب بیانی ہے۔ اس بارے ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ان کی طرف منسوب یہ بات درست نہیں ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: نقلا عن مرویات معاویۃ: صفحہ 262)

نیز اس خبر کے راوی جعفر بن سلیمان ضبعی کے بارے میں ابن حجرؒ رقمطراز ہیں: وہ زاہد و صادق ہے مگر وہ تشیع کی طرف مائل تھا،

(تقریب التہذیب: صفحہ 140)

اسلامی تاریخ کا چہرہ داغ دار کرنے میں تشیع کا اثر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 262)

5۔ عبدالله بن عمرو بن غیلان ثقفی: طبری رقمطراز ہیں: اس سال (54ھ) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کو بصرہ کی ولایت سے معزول کر کے ان کی جگہ عبداللہ بن غیلان کو اس کا عامل مقرر کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 212)

6۔ عبیدالله بن زیاد: طبری فرماتے ہیں: اسی سال (54ھ) سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن زیاد کو والی خراسان مقرر کیا۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 212)

پھر 55ھ میں انہوں نے عمرو بن غیلان کو بھی بصرہ سے معزول کر کے اس کا والی ابن زیاد کو بنا دیا،

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 217)

اور اس سے فرمایا: تمہارے لیے بھی میرے وہی احکام ہیں جو دوسرے عہدے داروں کے لیے ہیں، اس کے علاوہ تیری میرے ساتھ قرابت کی وجہ سے میں تجھے خصوصی تلقین کرتا ہوں کہ تھوڑوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے زیادہ کو نہ چھوڑنا، اور اپنا محاسبہ خود آپ کرنا، تیرے اور تیرے دشمن کے درمیان جو بھی معاملہ ہو اس میں ایفائے عہد کا خیال رکھنا اس سے تجھ پر بھی اور پھر ہم پر بھی بوجھ کم پڑے گا اور لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھنا اس سے تمہیں ان کے حالات سے آگاہی رہے گی۔ جان لو کہ تم اور وہ برابر ہیں۔ جس کام کا بھی ارادہ ہو اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنا مگر کسی طمع خور کا اس میں کوئی کردار نہ ہو اور جب اس ارادہ پر عمل کرنا ممکن ہو تو پھر کوئی شخص تیری رائے کو ردّ نہ کرنے پائے، اگر جنگ میں تیرے دشمن زمین کے ظاہر پر تجھ پر غالب آ جائیں تو وہ زمین کے اندر تجھ پر غالب نہیں آ سکتے، اگر کبھی تیرے رفقاء پر ایسا وقت آن پڑے کہ تجھے اپنی جان سے ان کی مدد کرنا پڑے تو ایسا ضرور کرنا۔

(تاریخ طبری: جلد 2 صفحہ 212، 213)

دوسری روایت میں ہے اللہ سے ڈرتے رہنا اور اس پر کسی چیز کو ترجیح نہ دینا اس لیے کہ تقویٰ میں اجر و ثواب ہے، اپنی عزت و آبرو کو داغ دار نہ ہونے دینا اور عہد کو پورا کرنا جب تک کسی کام کا عزم مصمم نہ کر لو اسے کسی پر ظاہر نہ کرنا اور جب اسے ظاہر کر دو تو اسے روکنے کی کسی کو جرأت نہ ہو، جب دشمن سے جنگ چھڑ جائے تو زیادہ سے زیادہ لوگ تیرے ساتھ ہونے چاہئیں اور مال غنیمت کی تقسیم قرآنی احکام کے مطابق کرنا، کسی کو وہ لالچ نہ دینا جس کا وہ حق دار نہ ہو اور جس کا حق ہو اسے مایوس نہ کرنا۔ آپ نے یہ نصیحتیں کرنے کے بعد اسے الوداع کہا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 214)


صفحہ 4 از 4