شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف - ردِ…

شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 5

شیعہ کا اسماعیلی فرقہ

آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف

الحمد لله و سلام علىٰ عباده الذين اصطفىٰ اما بعد

سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ (148ھ) کے بڑے بیٹے کا نام اسماعیل تھا انہی کے نام سے اسماعیلی فرقہ موسوم ہوا، شیعہ کے مقتدر فرقوں میں دو فرقے بڑے ہیں

1: اثناء عشری شیعہ بارہ اماموں والے اور 2: آغا خانی شیعہ حاضر امام والے، آغا خانی شیعوں کا دوسرا نام اسماعیلی شیعہ بھی ہے، بوہرہ فرقہ ان دو کے علاوہ ہے اور یہ بڑا فرقہ نہیں۔

اسماعیلی شیعہ کفر و شرک میں شیعوں کے تمام فرقوں سے آگے ہیں لیکن معاشرتی طور پر وہ مسلمانوں کے لیے کبھی بد امنی کا سبب نہیں بنے، نہ کبھی انہوں نے برصغیر میں اہلِ سنت سے کوئی کھلا تصادم کیا ہے وہ محرم میں اپنے ماتمی جلوس نہیں نکالتے نہ اہلِ سنت آبادیوں میں جا کر ان کے سامنے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا احتجاجی ماتم کرتے ہیں۔

  1.  خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف نفرت پھیلانا اور ان سے اظہار بیزاری (تبراء) کرنا ان کے اصول مذہب سے نہیں جب کہ اثناء عشریوں کے تمام رسائل و جرائد اور ان کے سب ذاکرین و مجتہدین دن رات خلفائے ثلاثہؓ کے خلاف ہر وہ بات نکالتے ہیں جن سے ان کی عزت مجروح ہو اور اپنی نماز کے اختتام پر انہیں چار مردوں اور چار عورتوں پر لعنت کرنی پڑتی ہے۔ استغفر اللہ 
  2.  اسماعیلی عام مسلمانوں میں رشتہ نکاح نہیں کرتے، ان کی اپنی معاشرت ہے اور وہ اسی دائرہ میں رہتے ہیں مسلمانوں کے سیاسی امور میں وہ کبھی فریق نہیں بنتے ہاں قومی سطح پر ان کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہیں، جب کبھی ان پر کوئی آفت آئی یہ ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔
  3.  یہ اپنے مذہب کے فیصلے پہلوں سے یا کتابوں سے نہیں لیتے یہ اپنے فیصلے اپنے حاضر امام سے لیتے ہیں، مذہبی امور میں ان میں سب سے زیادہ لچک پائی جاتی ہے، حالات کے مطابق ان کے حاضر امام جب کروٹ بدلیں ان کے لیے وہ ایک مذہبی راہ ہے جو ان کی سہولت کے لیے اختیار کی گئی ہے۔
  4.  اثناء عشریوں کے ساتھ یہ چھٹے امام تک چلتے ہیں لیکن وہ ان (اثناء عشریوں) کی کتابوں کو درست نہیں مانتے، اثناء عشریوں کے ساتویں امام موسیٰ کاظم (183ھ) ہیں اور ان اسماعیلیوں کے ساتویں امام موسیٰ کاظم کے بڑے بھائی اسماعیل ہیں۔
  5.  اثناء عشریوں کا سلسلہ امامت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شروع ہوتا ہے لیکن اسماعیلیوں کا سلسلہ امامت سیدنا حسنؓ سے چلتا ہے، وہ سیدنا علیؓ کو پہلا امام نہیں مانتے کہ وہ حضور اکرمﷺ کی اولاد میں سے نہیں، ان کے عقیدہ میں امامت صرف اولادِ سیدہ فاطمہؓ کے لیے ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ وصی کہتے ہیں امام نہیں حضورﷺ کے بعد انہیں آپ کا جانشین مانتے ہیں امام نہیں مانتے، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہلا امام مانتے ہیں لیکن وہ سیدنا حسنؓ کو امامت میں نہیں لیتے کہ انہوں نے امامت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تھی۔

سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ کے بڑے بیٹے اسماعیل اپنے والد کی زندگی میں فوت ہوئے اس لیے ان کے دوسرے بیٹے موسیٰ کاظم اپنے والد کے بعد ساتویں امام ہوئے، اسماعیلیوں میں ایک رائے یہ بھی چلی آ رہی ہے کہ وہ فوت نہ ہوئے تھے قتل سے بچنے کے لیے کہیں روپوش ہو گئے تھے اور ان کے والد نے ان کی موت مشہور کرا دی تھی تاکہ عباسی انہیں قتل نہ کر سکیں، والد کی وفات کے بعد یہ ظاہر ہوئے تھے اور چھٹے امام کے طور پر معروف ہوئے، ان کے بعد ان کے بیٹے محمد بن اسماعیل ساتویں امام ٹھہرے، انہیں فرقہ اسماعیلیہ میں سابع النطقاء کہا جاتا ہے۔

خیر الدین زرکلی لکھتا ہے:

وفى الاسماعيلية من يرى ان اباه اظهر موته تقية لمن لا يقصده العباسيون بالقتل۔

(الاعلام: جلد 1 صفحہ 311)

ترجمہ: عباسیوں میں ایسے لوگ بھی ہوئے جن کی رائے تھی کہ سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ نے بطور تقیہ ان کی موت مشہور کرا دی تھی تاکہ عباسی انہیں قتل نہ کر سکیں۔

صامت اور ناطق کی دو اصطلاحیں:

یہ شریعیت کو صامت مانتے ہیں، صامت کے معنیٰ ہیں چپ اور خاموش اور یہ امام کو ناطق کہتے ہیں، شریعیت خاموش ہے اور امام اس کی طرف سے بولتا ہے اور زمین پر وہ الٰہی سلسلے کا نمائندہ ہے ان کے ہاں امام کے لیے سیاسی اقتدار ضروری نہیں گو یہ مغرب افریقہ اور مصر میں کچھ وقت برسرِ اقتدار بھی رہے۔

اسماعیلی سلسلہ امامت:

  1. سیدنا حسنؓ (49ھ)
  2. سیدنا حسینؓ (61ھ)
  3. سیدنا زین العابدینؒ (94ھ)
  4. سیدنا محمد باقرؒ (114ھ)
  5. سیدنا جعفر صادقؒ (148ھ)
  6. سیدنا اسماعیلؒ (158ھ)
  7. سیدنا محمد بن اسماعیلؒ (197ھ)

اسماعیلیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوئے جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو امام نہیں مانتے، سلسلہ امامت سیدنا علیؓ سے شروع کرتے ہیں ان کے ہاں دو بھائی ایک سلسلہ میں جمع نہیں ہو سکتے ان کے ہاں دوسرے امام سیدنا حسینؓ تھے، ساتواں امام یہ بھی محمد بن اسماعیل کو مانتے ہیں، آغا خانی تاریخ نورِ مبین جو تیسرے آغا خاں کے دور ہی لکھی گئی میں سیدنا حسنؓ کا نام نہیں ہے۔

اسماعیلیوں کے دورِ ستر کے پانچ امام:

اسماعیلیوں کا دورِ ستر ان کے چھٹے امام اسماعیل سے شروع ہوتا ہے اور اس دور میں ان کے پانچ امام ہوئے

  1. اسماعیل (158ھ) 
  2. محمد بن اسماعیل المکتوم (197ھ)
  3. عبد اللہ بن محمد (212ھ)
  4. احمد بن عبد اللہ تقی (235ھ)
  5. حسن بن احمد (268ھ)

ان اںٔمہ کے دورِ ستر میں ان کے معتقدین تک ان کی طرف سے داعی پہنچتے رہے اور انہیں ان اماموں کی طرف سے ہدایات دیتے تھے۔ سیدنا اسماعیل اور محمد بن اسماعیل کے دور میں عبداللہ بن میمون ان کے داعی اکبر رہے، وہ اس سلسلہ اسماعیلیہ کے بانی شمار ہوتے ہیں۔ 

عبداللہ بن میمون فارسی النسل تھا اور وہ عربوں میں تفریق پیدا کرنے میں کامیاب ہوا۔

اسماعیلیوں کے دورِ ظہور کے آٹھ امام:

  1. عبداللہ المہدی (297ھ)
  2. القائم بامر اللہ ابو القاسم (334ھ)
  3. المنصور باللہ ابو الطاہر (341ھ)
  4. المعز لدين اللہ ابو تمیم معد (365ھ)
  5. العزيز باللہ ابو منصور (386ھ) 
  6. الحاكم باللہ ابو علی الحسین (411ھ)
  7. الظاہر لاعزاز دین اللہ (473ھ) 
  8. المستنصر باللہ ابو تميم معد (487ھ)
صفحہ 1 از 5