شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف - ردِ…

شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 5

اسماعیلیوں کے ان آٹھ اماموں کو یکے بعد دیگرے حکومت کا موقع ملا، 436ھ تک یہ مغرب اور افریقہ میں حکمران رہے پھر مصر میں بھی ان کی حکومت بنی جو 567ھ تک رہی، انہیں خلفاء فاطمیہ بھی کہا جاتا ہے، مؤرخین اسے پہلے امام عبداللہ المہدی کی نسبت سے عبیدیین بھی کہہ دیتے رہے ہیں، یہ فاطمی تھے یا نہیں اس پر ہم آگے چل کر کچھ کلام کریں گے۔

اسماعیلی دو شاخوں میں، 1: مستعلیہ 2: نزاریہ

مستنصر باللہ ابو تمیم معد کے بعد اس کے دو بیٹوں سے اسماعیلیوں کی دو شاخیں ہو گئیں بڑا بیٹا نزار تھا مگر افواج اس کے چھوٹے بیٹے مستعلی کے حق میں تھیں، نزار نے اپنے چھوٹے بھائی مستعلی کو امام نہ مانا حسن بن الصباح نے قلعہ الموت میں ایک چھوٹی سی سلطنت قائم کر لی اور وہاں پر المصطفیٰ الدین اللہ کے لقب سے اس نے نزار کی امامت کا اعلان کر دیا، نزار وہاں سے اسکندریہ گیا اور وہاں اپنی حکومت قائم کر لی نزاری سلسلہ سے اسماعیلیوں کے نو امام ہوئے نویں امام رکن الدین خورم کو تاتاریوں نے شکست دی، رکن الدین کے قتل کے بعد نزاری سلسلہ کے اسماعیلی ایران چلے گئے، وہاں ان کے اٹھارہ امام ہوئے لیکن وہاں یہ کوئی حکومت قائم نہ کر سکے۔

نزاریوں کے نو اسماعیلی امام:

  1. نزار بن مستنصر (490ھ)
  2. ہادی بن نزار (530ھ)
  3. مہدی بن ہادی (552ھ)
  4. قاہر بن مہدی (557ھ)
  5. حسن بن علی (561ھ)
  6. علی محمد (607ھ)
  7. جلال الدین حسن (618ھ)
  8. علاء الدین محمد (653ھ)
  9. رکن الدین خورم شاه

ایران میں ان کے اٹھارہ امام ہوئے وہاں ان کے بارہویں امام خلیل اللہ علی ایک ہنگامے میں قتل ہو گئے، ایران میں ان دنوں قاچاری خاندان کی حکومت تھی، حکومت نے ان سے تعاون چاہا تو فتح علی قاچار نے خلیل اللہ علی کے دو سال کے بیٹے حسین علی کو آغا خاں کا خطاب دیا مگر یہ مدارات زیادہ دیر تک نہ رہ سکی یہاں تک کہ ان اسماعیلیوں نے اب ہندوستان کا رخ کیا اور بمبئی کو اپنا مرکز بنایا یہ لوگ یہاں آغا خاں کے نام سے معروف ہوئے۔

بمبئی کے آغا خانی حضرات:

حسن علی پہلا آغا خاں شمار ہوتا ہے اس کا بیٹا علی شاہ (1302ھ) دوسرا آغا خاں ہوا تیسرا آغا خاں سلطان محمد شاه (1376ھ) ہوا، چوتھا آغا خاں ان کا حاضر امام آغا کریم ہے۔

یہ لفظ حاضر امام بہ مقابلہ غاںٔب امام اختیار کیا گیا ہے، اثناء عشری شیعہ اپنے بارہویں امام کو کسی غار میں قیام پذیر مانتے ہیں جو اپنے پیروؤں سے غائب ہیں، امام غائب کے تصور سے اسماعیلیوں نے امام حاضر کی اصطلاح قائم کی ہے، اثناء عشری کہتے ہیں کہ ان کے بارہویں امام کسی وقت امام مہدی کے نام سے ظہور کریں گے اور پوری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کریں گے۔

اسماعیلیوں کے یہ حاضر امام آغا کریم ان کے انچاسویں نمبر کے امام ہیں، اگلے امام حاضر پر ان کی گنتی نصف صدی پر پہنچ جائے گی۔

ائمہ مستورین اور ان کے پیروؤں میں دعاۃ کا سلسلہ:

اثناء عشری عقیدے میں ان کے امام غائب ایران کے کسی غار میں قیام پذیر ہیں اور ان کے اور ان کے عام پیروؤں کے مابین دعاۃ کا آنا جانا ہے، اسی طرح اسماعیلیوں کے دورِ ستر کے اماموں اور ان کے پیروں میں بھی دعاۃ کا آنا جانا رہا، ان میں بڑا داعی داعیِ اکبر کہلاتا تھا، یہ داعی حضرات ان اںٔمہ کے نام سے جو چاہتے کہتے اور کرتے اور ان کی عام پیروی کی جاتی اور جس کو جو کہنا ہوتا امام کے نام پر کہہ دیا جاتا، اس صورتِ حال پر نظر کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اثناء عشری ہوں یا اسماعیلی ان کا یہ دین اںٔمہ کرام کا نہیں بلکہ یہ داعیوں کی اپنی پسند اور نا پسند ہے جیسے آخر ایک مذہب کی شکل دے دی گئی، اہلِ سنت تو مستور الحال راوی کی روایت بھی نہیں لیتے چہ جائیکہ مستور الحال اںٔمہ کرام خدا کے بندوں پر خدا کی حجت ٹھہرا دیںٔے جائیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اسماعیلی عقائد داعی اکبر میمون القداح اور اس کے بیٹے عبداللہ بن میمون نے ہی ترتیب دیے، اسماعیلیوں کی کتاب نور المبین میں ہے، عبداللہ بن میمون ایک جلیل القدر داعی تھے، آپ سیدنا سلیمان الفارسیؓ کی نسل سے تھے اور جید عالم تھے، عبداللہ بن میمون اور ان کے والد ابو میمون سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ کے عاشق تھے اور انہوں نے اپنی ساری زندگی ان کی غلامی میں بسر کی، اس کا نتیجہ تھا کہ وہ داعی اکبر کے درجہ کو پہنچے اور اسماعیلی سلسلہ کے درجہ باب سے بھی مشرف ہوئے۔ (نورِ مبین: صفحہ، 128)

میمون نے اسماعیلی دعوت کے نو نمبر مقرر کیے جب تک کوئی شخص پہلے مراتب طے نہ کر لے اس پر اگلا نمبر نہیں کھلتا، یہ اس طرح ہے جس طرح جماعت اسلامی میں کوئی شخص جماعت میں آتے ہی ممبر نہیں بن جاتا تھا بلکہ کچھ عرصہ اسے متفقین میں رہنا پڑتا تھا یہ ہر نو وارد سے پوچھتے تھے آپ متفقین سے ہیں یا ممبروں سے یہ ترتیب انہوں نے غالباً اسماعیلیوں سے لی ہے۔

عبداللہ بن سبا بھی اپنے وقت میں ایک بڑا داعی تھا اس وقت ابھی اثناء عشری مذہب مرتب نہ ہوا تھا لیکن شیعہ خیالات پیدا ہونے شروع ہو چکے تھے اس نے سیدنا عثمانؓ کے امراء کے خلاف ایسی خفیہ تحریک چلائی کہ بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی ان باغیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور پھر سیدنا علیؓ بھی ایسے حالات میں خلیفہ چنے گئے کہ خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہاتھوں بے بس رہے۔، آپ اپنے ہاتھ بیعت سے سمیٹتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بیعت کے لیے اپنے ہاتھوں کو اپنی طرف کھینچتے تھے وہ ان سے بیعت نہ لینا چاہتے تھے، خفیہ تنظیموں کی بھی ایک اپنی تاریخ ہے ان سب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ ان سب کا مشترکہ عمل

  1. خلاف ظاہر کو اپنانا۔
  2. اپنی روایات سے نکلنا 
  3. نئی بات سامنے لانا رہا ہے۔
صفحہ 2 از 5