شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف - ردِ…

شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 5

حضور اکرمﷺ کے زمانہ کے منافقین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بے وقوف کہتے، اور کہتے ہم ان جیسا ایمان کیوں لاتے یہ تو بے وقوف ہیں عبداللہ بن سبا نے کہا ہم پہلے خلفاء کو کیوں مانیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت تو منصوص ہے، پہلی راہ سے نکلنے کو الحاد کہتے ہیں اور زندقہ اس کی راہ عمل ہے جو معمار دیوار بناتے ہیں انہیں انگریزی میں میسن کہتے ہیں جو پچھلی تعمیر سے ہٹ کر نئی راہ پر چلتے ہیں وہ فری میسن کہلاتے ہوتے ہیں یہ پہلی کسی بات کے پابند نہیں ہوتے، آزادی فکر سے وہ تقلید سے ہٹتے ہیں سو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فری میسن کا رکن انتشار ملت کے لیے خفیہ تنظیموں میں ہی چلتے آںٔے ہیں اور ان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

پرانے اسلام سے نکالنے کے لیے مرزا غلام احمد کو ساتھی کن سے ملے؟ کسی فری میسن تنظیم سے، یہ کن لوگوں کی تنظیم ہوتی ہے مرزا غلام احمد کو الہام میں بتایا گیا یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ارادے مخفی ہوں ظاہر کچھ ہو اور اندر یہ کوئی اور پروگرام لیے ہوں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے تسلی دی کہ وہ فری میسن کے قابو میں نہیں آئے گا اسے ان سے ملنے دو لیکن ہوا یہ کہ ان کی باتوں میں آ گیا اور اس نے ختمِ نبوت جیسے عقیدہ اسلام کو بھی ایک متزلزل بنیاد بنا دیا اور ساتھ یہ بھی کہتا رہا کہ:

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دین

مانتے ہیں ان کو ختم المرسلین

مرزا غلام احمد کے مجموعہ الہامات میں ہے: 

پھر میں نے موت کے متعلق جب توجہ کی تو ذرا سی غنودگی کے بعد الہام ہوا فری میسن مسلط نہیں کیے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کر دیں۔

پھر لکھتا ہے:

فری میسن کے متعلق میرے دل میں خیال گزرا جن کے ارادے مخفی ہوں۔

(تذکرہ مجموعہ الہامات: صفحہ، 424)

 اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ غلام احمد کے پیچھے واقعی کچھ لوگ ایسے لگے تھے جن کے ارادے مخفی تھے اور یہ بھی پتہ چلا کہ مرزا غلام احمد فری میسن تنظیم سے پورا واقف تھا اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ یہ یہاں تک رسائی رکھتے ہیں کہ موت تک پہنچا دیں گو اپنے بارے میں کہا کہ یہ وہ اسے ہلاک نہ کر سکیں گے(وہ تو اسے ہی ہلاک کرتے ہیں جو ان میں سے ہو کر ان سے باہر نکلے) مرزا غلام احمد کی بات کو جانے دیجیے ہم بات اسماعیلیوں کی کر رہے تھے جن پر دورِ ستر اور دورِ ظہور دونوں آئے سو ان کے لیے یہ بڑی آسان راہ تھی کہ جو چاہیں دعویٰ کریں دعاۃ کے نام سے ہر بات چل جائے گی یہ ایک ایسی راہ تھی جس میں آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

کیا مصر کے فاطمیین واقعی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد تھے؟

آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ اسماعیلیوں کو اپنے دورِ ظہور میں مصر کی حکومت بھی ملی، یہاں ایک سوال اُبھرتا ہے کہ کیا واقعی یہ لوگ سیدہ فاطمہؓ کی اولاد میں سے تھے یا یہ دعویٰ بھی کسی داعی کا تھا جس نے اہلِ بیتؓ کے سہارے اسماعیلیہ کے لیے کچھ ہمدردیاں حاصل کر لی تھیں،

سیدنا جعفر صادقؒ تک تو بے شک یہ سب فاطمی تھے لیکن ان کے اگلے ادوار میں تاریخ ان کے فاطمی ہونے کی شہادت نہیں دیتی، ڈاکٹر زاہد علی نے تاریخ فاطمیین مصر میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اسماعیلی اماموں کے دورِ ظہور میں ان پر اس قسم کے کئی سوال اُٹھتے رہے موصوف لکھتے ہیں:

متعدد دفعہ امام کے ظہور کے زمانہ میں نسب کا سوال اٹھایا گیا لیکن کسی امام نے اطمینان بخش جواب نہ دیا۔ یہ لوگ کبھی اتنی جرأت نہ کر سکتے تھے اپنا نسب منبر پر یا کسی مجمع میں بیان کریں۔

(اتعاظ الحنفاء: صفحہ، 15)

ہمارا موضوع اس وقت ان کے حسب و نسب پر بحث نہیں، فاطمی خلیفہ المعز باللہ (365ھ) سے جب یہ سوال کیا گیا تو اس نے اس کے لیے ایک بڑے جلسہ کا انتظام کیا اور اس میں یہ جواب دیا:

اپنی تلوار میان سے نکالی اور کہا یہ میرا نسب ہے۔

پھر اس نے حاظرین پر سونا نچھاور کیا اور کہا یہ میرا حسب ہے۔ (تاریخ ابنِ خلکان: جلد،1صفحہ، 259)

دورِ ظہور میں تو کچھ لوگ جان پہچان والے مل جاتے ہیں، قصیدے پڑھنے والے قصیدہ گو اور مرثیے پڑھنے والے مرثیہ خواں بھی مل جاتے ہیں لیکن دورِ سرّ کے بارے میں کوئی بات اعتماد سے نہیں کہی جا سکتی الا یہ کہ داعی حضرات کو خدا کی طرف سے مامور مان لیا جائے، اس مختصر خاکہ تاریخ کے بعد ہم ان کے عقائد کا بھی مختصر خاکہ پیش کیے دیتے ہیں۔

اسمائیلی عقائد کا ایک مختصر خاکہ:

1: امام ان کے ہاں معبود کا درجہ رکھتا ہے اس کا وجود خدا کے نورِ ذات سے قائم ہوا ہے اس لیے وہ خدا کا غیر نہیں اس کی عبادت خدا کی ہی عبادت ہے خدا کا کوئی شریک نہیں امام میں خدا حلول کیے ہوئے ہے اس لیے وہ کوئی دوسرا خدا نہیں جب وہ خدا کے نورِ ذات سے ہے تو وہ اس کا غیر نہ ہوا۔

2: یہ حضور اکرمﷺ کو بھی خدا کے نورِ ذات سے پیدا مانتے ہیں اور دینی نسبت یہ اپنے امام میں منتقل مانتے ہیں قاسم علی اسماعیلی نے ایور لونگ گائیڈ میں آغا خان سوم کا یہ فرمان نقل کیا ہے:

3: میں براہِ راست حضرت محمدﷺ کی نسل سے ہوں اور دو کروڑ مسلمان مجھ پر ایمان رکھتے ہیں مجھے اپنا روحانی پیشواء مانتے ہیں مجھے خراج ادا کرتے ہیں اور میری عبادت کرتے ہیں۔  یہ کتاب اسماعیلی ایسوسی ایشن کراچی نے شائع کی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور حضور اکرمﷺ سے براہِ راست نسبت رکھنے کے مدعی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ وہ ختمِ نبوت پر یقین رکھتے ہیں حضور اکرمﷺ کے بعد کسی نئی نبوت کے وہ قائل نہیں کہ حضورﷺ کی نبوت ان اماموں میں اتری ہے وہ صرف امامت کی راہ سے ان ائمہ کے لیے اس آسمانی عہدے کے قائل ہیں۔ 

صفحہ 3 از 5