شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف - ردِ…

شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 5

4: ان کا عقیدہ ہے کہ امام حاضر جب چاہے ظاہر شریعت کو معطل کر سکتا ہے، شریعت ہمیشہ صامت رہے گی، اس کے لیے ناطق امام ہے اسماعلیہ کے تئیسویں امام (23) شاہ حسن علی نے 27 رمضان (559ھ) میں پورے اجتماع سے کہا: آج کے دن سے میں آپ کو ساری شریعت کی تمام پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں آج کے دن تم لوگوں کے لیے رحمت کے دروازے کھل گئے ہیں آج کے دن ہم نے پوری امت کو شریعت اور قیامت کے مفہوم سے آگاہ کر دیا ہے۔  (نورِ مبین: صفحہ، 254 طبع چہارم) آئیے اب یہ بھی جان لیجیے کہ ان کے ہاں قیامت ایک نئے قیام کا نام ہے۔ 

ان کا قیامت کا تصور مسلمانوں کے عقیدہ قیامت سے بالکل جدا ہے یہ اپنے اس تصور میں بہائی مذہب کے بہت قریب ہیں بہائیوں کے ہاں جب جہان کا نیا قیام ہو تو وہ اس کو قیامت کہتے ہیں پھر وہ اس نئے دور کے لیے کسی نئی نبوت کے منتظر ہوتے ہیں، اسماعیلیوں کے ہاں امام حاضر جب کسی نفس کی تفتیش کر کے اسے خدا کے قرب میں کھینچ لے اور اسے پاس کر دے تو اس سے شریعت کی پابندیاں اٹھا لی جاتی ہیں اور اس کے لیے اب یہ قیامت قائم ہو گئی۔ 

5: آغا خان سوم کے احکام اسماعیلیوں نے کلام امام مبین کے نام سے شائع کیے ہیں اس میں فرمان 30 یہ ہے:

انسان کی زندگی اور دنیا ہر وقت بدلتی رہتی ہے ہر چیز بدلتی ہے جس میں صحیح ہدایت امام حاضر ہی دے سکتا ہے اسماعیلیوں کے پاس کوئی لکھی ہوئی کتاب نہیں مگر زندہ امام ہے (کلام امام مبین: صفحہ، 530)

ان کے عقائد پر ہم یہاں کوئی تبصرہ نہیں کر رہے اجمالی طور پر ان کے عقائد کا کچھ تعارف کرانا تھا سو ہم نے یہ پانچ امور گزارش کر دیے ہیں۔

اسماعیلی عقائد کا بانی داعی اکبر عبداللہ میمون فارسی:

اسماعیلی عقائد ائمہ اہل بیتؓ میں سے کسی سے نہیں آئے مسلمانوں میں اھل بیتؓ کے لیے جو جذبہ کار فرما ہے اس کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عبداللہ بن سباء نے سیدنا عثمانؓ کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس جذبہ عقیدت سے عبداللہ میمون اٹھا اور شیعوں کا اسماعیلی سلسلہ قائم کیا اور اسی چھپی راہ سے مختار بن ابی عبید ثقفی نے براہِ راست حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عقیدت قائم کی اور سیدہ فاطمہؓ کی اولاد کو یکسر نظر انداز کر دیا، اس نے حضرت علیؓ کے بیٹے محمد بن حنفیہ کے نام سے ایک پورا مذہب ترتیب دے دیا۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ 1339ھ:

این عبدالله بن میمون قداح شخصے بود ملحد و زندیق دشمن اسلام ے خواست بہ نہجے در دین اسلام فساد نماید قابو نمے یافت اکنوں اور انان در روغن افتاد بدستور عبدالله بن سبا کہ اصل منشاء تشیع است۔

 (تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ، 8)

ترجمہ: یہ عبدالله بن میمون ایک ملحد اور زندیق شخص تھا اور اسلام کا سخت دشمن تھا چاہتا تھا کسی طرح اسلام میں کوئی گڑ بڑ پیدا کرے لیکن اسے کوئی راہ نہ ملتی تھی عبداللہ ابن سبا کی طرح جو شیعیت کا بانی تھا اب اس کی روٹی گھی میں جا گری، یہ بات اس کے لیے بڑی آسان تھی کہ غاروں میں پچھلے اماموں کے نام سے دین اسلام میں وہ ایک نئی فرقہ بندی کرے اور جو چاہے اسے اسماعیلیوں کا ایک نیا مذہب بنا کر رکھ دے۔ 

علمائے اسلام شروع سے اسماعیلی عقائد کو الحاد و زندقہ کہہ رہے ہیں چوتھی صدی کے شروع میں اثناء عشری عقائد مرتب ہوئے اور چوتھی صدی کے شروع میں ہی اسماعیلیوں کے دورِ ظہور کا آغاز ہوا، اس سے پہلے یہ لوگ بطور باطنیہ کے جانے جاتے تھے۔

1. امام ابو منصور عبدالقاہر (429ھ)کی کتاب الفرق بین الفرق میں اس باطنی گروہ کا اس طرح پتہ چلتا ہے:

الذی يصح عندى من دين الباطنية انهم دهريه زنادقة يقولون بقدم العالم وينكرون الرسل والشرائع كلها لميل إلى استباحة كل ما يميل اليه الطبع۔

(الفرق بین الفرق: صفحہ، 177)

ترجمہ: باطنیہ کے دین کی جو بات میرے ہاں صحیح طور پر محقق ہوئی یہ ہے کہ وہ حقیقت میں دہریہ ہیں زندیق ہیں دنیا کو قدیم مانتے ہیں اصل و شرائع کا وجود نہیں مانتے ہر وہ چیز کو جس کی طرف طبائع مائل ہوں وہ حلال مانتے ہیں۔

2: امام ابنِ حزمؒ (456ھ) بھی لکھتے ہیں:

واما من قال ان الله عز وجل هو فلان الانسان بعينه او ان الله تعالى يحل فی جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمد صلی اللہ علیہ و سلم نبياً غیر عیسیٰ بن مریم فانه لا يختلف اثنان فی تكفيره۔

( کتاب الفصل: جلد، 3 صفحہ، 249)

ترجمہ: اور جو کہے کہ فلاں انسان بعینہ خدا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی میں اترا ہوا ہے یا یہ کہ حضور اکرمﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سواء کوئی اور نبی بھی ہو سکتا ہے تو ایسے شخص کو کافر کہنے میں کہیں دو شخص مختلف نہیں ہوئے۔

واما الغالية من الشيعة فهم قسمان قسم او جبلت النبوة بعد النبی صلى الله عليه وسلم لغيره والقسم الثانی او جبوا الالهية لغير الله عز وجل فلحقوا بالنصارى واليهود و كفروا اشنع الكفر۔

(ایضاً: جلد، 4 صفحہ، 183)

ترجمہ: غالی شیعوں کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو حضورﷺ کے بعد کسی اور نبوت کو واجب کہتے رہتے اور دوسرے وہ اللہ تعالیٰ کی اُلوہیت (اس کا لائق عبادت ہونا) اوروں کے لیے ثابت مانتے تھے یہ وہ لوگ ہیں جو یہود و نصاریٰ میں آ ملے اور انہوں نے بد ترین کفر اختیار کیا۔

عبداللہ بن میمون دھرمی عقیدہ رکھتا تھا اور اس کی ایک خفیہ تنظیم تھی، اس نے اسماعیلیوں میں کام کیا، اور اثناء عشریوں کے علاوہ ایک بڑا فرقہ بنا کر رکھ دیا، یہ اپنے حلقے کے فری میسن تھے۔

علامہ فرید وجدی لکھتے ہیں:

انه ظهر رجل مدلس اسمه عبدالله بن ميمون من فارس مملوءً اٰمالاً و اقدارا فاراد ان يستخدم الاسماعيلية جمعية سرية۔

ترجمہ: ایک شخص جو اپنے آپ کو چھپائے رکھتا تھا اچانک ظاہر ہوا۔ اس کا نام عبداللہ بن میمون تھا فارسی النسل تھا بڑی امیدوں اور قدروں سے سامنے آیا، وہ اپنی ذاتی اغراض کے تحت اسماعیلیوں کی خدمت میں آگے بڑھا اس نے اپنے آپ کو غیور شیعہ ظاہر کیا اور حقیقت میں دھری العقیدہ تھا، اس نے اسماعیلیوں میں ایک خفیہ تنظیم قائم کی۔

3: علامہ ابنِ عابدین الشامیؒ بھی ان کا ذکر کرتے ہیں:

صفحہ 4 از 5