کوفہ 41 ھ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کوفہ 41 ھ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

ثانیاً: کوفہ (41ھ)

1۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ: مغیرہ بن شعبہ کی کنیت ابو عیسیٰ یا ابو عبداللہ یا پھر ابو محمد ہے، آپ کا شمار کبار صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔ آپ بڑے دلیر اور مدبر انسان تھے۔ آپ بیعت رضوان میں شامل تھے۔ مغیرہ بن شعبہ دراز قد اور بارعب شخصیت کے مالک تھے، ان کی ایک آنکھ جنگ یرموک کے دن ضائع ہو گئی تھی۔ دوسری روایت کی رو سے ایسا جنگ قادسیہ کے دن ہوا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 21 )

آپ فرمایا کرتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قبر مبارک میں دفن کیا گیا تو میں اس سے باہر آنے والا آخری شخص تھا، میں نے اپنی انگوٹھی آپﷺ کی قبر مبارک میں پھینک دی اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو الحسن! میری انگوٹھی۔ انہوں نے فرمایا: نیچے اتر کر پکڑ لیں۔ میں نیچے اترا، آپ کے کفن پر ہاتھ پھیرا اور پھر باہر نکل آیا۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 26)

حیلہ و تدبیر اور ہوشیاری و چالاکی کے حوالے سے ان کے ساتھ پیش آمدہ کئی واقعات بڑی شہرت کے حامل ہیں، مثلاً زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بحرین کا عامل مقرر فرمایا تو انہوں نے انہیں ناپسند کیا اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر دیا مگر انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں دوبارہ ادھر بھیج دیں گے۔ ان کا رئیس کہنے لگا: اگر تم میرے حکم پر عمل کرو گے تو عمر رضی اللہ عنہ انہیں واپس نہیں بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا: تو حکم کر، تیرے حکم کی تعمیل ہو گی، اس نے کہا: تم ایک لاکھ جمع کرو میں یہ رقم لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں گا اور ان سے کہوں گا کہ مغیرہ نے یہ رقم ناجائز طور سے حاصل کی اور پھر میرے حوالے کر دی۔ انہوں نے ایک لاکھ کی رقم جمع کر کے اسے دی اور وہ اسے لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچا اور انہیں طے شدہ کہانی سنا دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے اس بارے جواب طلبی کی۔ اس پر مغیرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ تمہاری اصلاح فرمائے یہ شخص کذب بیانی سے کام لے رہا ہے، یہ رقم ایک نہیں بلکہ دو لاکھ تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم نے یہ کام کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: اہل و عیال اور ضرورت کی وجہ سے۔ اس پر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس دیہاتی سردار سے فرمایا: اس بارے تو کیا کہنا چاہے گا؟ وہ گویا ہوا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تمہارے سامنے سچ بولوں گا۔ انہوں نے مجھے کم دئیے اور نہ زیادہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم کیا چاہتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اس خبیث نے میرے بارے میں جھوٹ بولا، میں نے چاہا کہ اسے ذلیل کر دوں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 26)

شعبیؒ کہتے ہیں: میں نے قبیصہ بن جابرؓ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی رفاقت کی، اگر کسی شہر کے آٹھ دروازے ہوں اور کسی دروازے سے بھی تدبیر کے بغیر نکلنا ممکن نہ ہو تو مغیرہ ان تمام دوازوں سے باہر نکل جائیں گے۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 30 )

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیاسی طور پر ہوشیار یہ چار آدمی ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور زیاد بن ابیہ۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 22)

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تعدد ازدواج کے حامی تھے، وہ کہا کرتے تھے: ایک عورت کا خاوند اس کے ساتھ حیض میں مبتلا ہوتا اور اس کے ساتھ ہی بیمار ہوتا ہے جبکہ دو عورتوں کا خاوند دو بھڑکنے والی آگ کے درمیان ہوتا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 31)

وہ تین یا چار عورتوں کے ساتھ شادی کے لیے کہا کرتے تھے۔

2۔ کوفہ پر زیاد بن ابیہ کی ولایت:

زیاد 50ھ تک بصرہ کا والی رہا، جب کوفہ کے امیر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کو بصرہ کے ساتھ کوفہ کی ولایت بھی سنبھالنے کا حکم دیا، زیاد پہلا شخص تھا جس کو سیدنا معاویہؓ نے کوفہ اور بصرہ کی ولایت عطا فرمائی۔ زیاد نے بصرہ پر سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین کو مقرر کیا اور خود کوفہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ زیاد چھ ماہ کوفہ میں اور چھ ماہ بصرہ میں قیام کیا کرتا تھا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 150)

امام ذہبیؒ زیاد کے بارے میں رقمطراز ہیں: زیاد کا شمار عقل و فکر، ذہانت و فطانت، حزم و احتیاط اور چالاکی و ہوشیاری میں معزز اور شرفا لوگوں میں ہوتا تھا، وہ عز و شرف اور سرداری میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا تھا۔ زیاد بڑا بلیغ کاتب تھا، اس نے مغیرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے کتابت کی اور بصرہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نائب رہا۔

(ایضاً: جلد 6 صفحہ 150)

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے زیاد سے بڑا کوئی خطیب نہیں دیکھا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 495)

ابن حزمؒ فرماتے ہیں: زیاد کا کوئی حسب و نسب نہیں تھا مگر تھا بڑا مضبوط۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس کی خاطر و مدارات کے ذریعے ہی اسے رام کر سکے تھے، انہوں نے اسے راضی کرنے کے بعد ہی والی مقرر فرمایا۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 496)

ابو شعثاء کا قول ہے: زیاد اپنے مخالفین کے لیے حجاج بن یوسف سے بڑھ کر زبان دراز تھا۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 496)

صفحہ 1 از 2