کوفہ 41 ھ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کوفہ 41 ھ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جب اس نے عراق پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: میں نے اپنے بائیں ہاتھ سے عراق کو آپ کے تابع کر دیا ہے، جبکہ میرا دایاں ہاتھ فارغ ہے اسے حجاز میں مصروف کر دیں۔ جب یہ خبر اہل حجاز کو ملی تو ان میں سے کچھ لوگ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے بددعا کرتا ہوں وہ اس کی طرف سے تمہارے لیے کافی ہو جائے گا۔ پھر انہوں نے قبلہ رخ ہو کر اللہ سے دعا کی جس کی وجہ سے اس کی دو انگلیاں طاعون زدہ ہو گئیں۔ اس نے قاضی شریح (سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 496) سے کہا: جو کچھ میرے ساتھ ہوا اسے تم دیکھ ہی رہے ہو، میں نے تو انہیں کاٹنے کا حکم دیا ہے، مجھے اس بارے میں کوئی مشورہ دیں۔ شریح نے کہا: میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ زخم تیرے ہاتھ پر ہو، تکلیف تیرے دل میں اور موت قریب آ چکی ہو اور تو اللہ سے کٹے ہاتھ کے ساتھ ملاقات کرے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ابھی تیری موت میں تاخیر ہو اور تیرا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور اس طرح تو کٹے ہاتھ کے ساتھ زندگی گزارے اور اپنی اولاد کو عار دلائے اور اس ڈر سے تم اسے قطع نہ کرو۔ جب قاضی شریح باہر آئے تو لوگوں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ میں نے اسے یہ اشارہ دیا ہے۔ اس پر لوگ انہیں ملامت کرتے ہوئے کہنے لگے: تم نے اسے ہاتھ قطع کروانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہو جاتا ہے۔‘‘

(صحیح الادب المفرد از البانی: صفحہ 113)

زیاد 53ھ کو فوت ہوا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 206)

3۔ عبداللہ بن خالد بن اسید کی ولایت:

عبداللہ بن خالد بن اسید بن ابو العیص، زیاد کی طرف سے فارس کا والی بنا، (نسب قریش از زبیری: صفحہ 187)

پھر زیاد نے اپنی وفات کے وقت اسے کوفہ پر اپنا جانشین مقرر کیا تھا، زیاد کی نماز جنازہ اس نے ہی پڑھائی تھی۔

4۔ ضحاک بن قیس فہری کی ولایت:

55ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن خالد بن اسید کو کوفہ کی ولایت سے معزول کر کے ان کی جگہ ضحاک بن قیس فہری کو اس کا والی مقرر فرمایا

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 218)

5۔ عبدالرحمٰن بن عبداللہ ثقفی کی ولایت(58ھ): 58ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن ربیعہ ثقفی کو کوفہ کا والی مقرر فرمایا۔ یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن ام الحکم کے بیٹے تھے اور ضحاک بن قیس کو اس سے معزول کر دیا، (ایضاً: جلد 6 صفحہ 226)

بعدازاں انہوں نے عبدالرحمٰن کو کوفہ کی ولایت سے معزول کر دیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے کسی ذمی کو قتل کر دیا تھا۔ مسند احمد بن حنبلؒ میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ اس کی معزولی کی وجہ ابن صلوبا کو قتل کرنا تھا۔

(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 6 صفحہ 533

العلل و معرفۃ الرجال: جلد 2 صفحہ 24، 25۔ مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 227)

6۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی ولایت (59، 60 ھ):

59 ھ میں عبدالرحمٰن بن ام حکم کو کوفہ سے معزول کر کے اس کی جگہ نعمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ کو اس کا عامل مقرر کر دیا گیا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 223)

یہ تھے عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوفہ کے ولاۃ و امراء۔



صفحہ 2 از 2