Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات (58 یا 59ھ)

  علی محمد الصلابی

مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات (58 یا 59ھ)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں فوت ہوئے چونکہ انہیں اعدائے سنت نبویہ کی طرف سے اس کی خدمت کی وجہ سے زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لہٰذا میں نے مناسب سمجھا کہ اس جگہ ان کے حالات زندگی بیان کرنے کے بعد ان کے بارے میں پھیلائے گئے شکوک و شبہات کا ذکر کروں اور پھر ان کے بطلان و زیف کو واضح کروں۔

ا: سیدنا ابو ہریرہؓ کا تعارف: آپ کا نام عبدالرحمٰن بن صخر دوسی یمانی ہے، زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عبد شمس تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمٰن رکھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی اس کنیت کے ساتھ اس قدر مشہور ہوئے کہ یہ ان کے نام پر غالب آ گئی۔ جب سیدنا ابو ہریرہؓ سے اس کنیت کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا: مجھے ایک بلی ملی تو میں نے اسے اپنی آستین میں اٹھا لیا جس پر مجھے ابو ہریرہ کہا جانے لگا۔ سیدنا ابو ہریرہؓ  بچپن میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے اور اپنی بلی کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرمایا کرتے تھے: مجھے ابوہریرہ کی کنیت سے نہ پکارا کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابوہر رکھی تھی۔ مذکر مونث سے افضل ہوا کرتا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 424)

ب: قبول اسلام: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 7ھ میں فتح خیبر کے موقع پر یمن سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے، قبل ازیں آپ یمن میں طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر چکے تھے، آپ مدینہ منورہ پہنچے تو صبح کی نماز سباع بن عرفظہ کی امامت میں ادا کی۔ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دوران اپنی عدم موجودگی میں مدینہ منورہ پر اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 425)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تادم واپسیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا اور آپ سے اکتساب علم کیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آتے جاتے، حتیٰ کہ سیدنا ابو ہریرہؓ کے ساتھ آپﷺ کے گھر بھی چلے جاتے، سیدنا ابو ہریرہؓ حج اور غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک سفر اور سفر و حضر میں شب و روز آپ کے رفیق رہے، یہاں تک کہ معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مقدار میں علم نبوت حاصل کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو چار سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحبت و رفاقت کا شرف حاصل ہوا، انہوں نے صفہ کو اپنی رہائش گاہ بنایا اور عسرت کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اصحاب صفہ کا عریف (مانیٹر) مقرر فرما رکھا تھا اور وہ ان سے اور ان کے مراتب سے بخوبی آگاہ تھے۔

(حلیۃ الاولیاء: جلد 1 صفحہ 376۔ السنۃ قبل التدوین: محمد عجاج الخطیب: صفحہ 412)

ج: اپنی ماں کو دعوت اسلام

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنی مشرکہ والدہ کو اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا، جب میں نے ایک دن اسے یہ دعوت دی تو اس نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غیر پسندیدہ باتیں سنائیں۔ میں روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا مگر وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کرتی تھی، پھر جب آج میں نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے مجھے آپ کے بارے میں غیر پسندیدہ باتیں سنا دیں۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما دے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما۔‘‘ میں آپ کی زبان مبارک سے یہ دعا سن کر خوشی خوشی واپس آیا، جب گھر کے دروازے پر پہنچا تو اسے اندر سے بند پایا، جب میری ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو کہنے لگی: ابوہریرہ! ادھر ہی ٹھہرو، اس دوران میں نے پانی کے حرکت کرنے کی آواز سنی۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: میری ماں نے غسل کیا اور جلدی جلدی کپڑے پہن کر دروازہ کھولا اور کہنے لگی: اشہد ان لا إلہ الا اللّٰه و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو خوشی سے رو رہا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوش ہو جائیں اللہ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما دی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کلمات خیر ادا کیے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ اپنے مومن بندوں کے دلوں میں میری اور میری ماں کی اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت پیدا فرما دے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے یہ دعا فرما دی۔ آپ کی اسی دعا کا نتیجہ ہے کہ جو بندہ مومن بھی میرے بارے میں سنتا یا مجھے دیکھتا ہے مجھ سے پیار کرنے لگ جاتا ہے۔

(مسلم: رقم: 2491 ۔ بر الوالدین: ام حفص الشویحی: صفحہ 35)

د: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کی عبادت گزاری

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑے متقی اور پرہیز گار انسان تھے، آپ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا التزام کیا کرتے تھے، لوگوں کو دنیوی لذات اور اس کی شہوات سے مستغرق ہونے سے خبردار کرتے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے اور اس حوالے سے غریب امیر اور چھوٹے بڑے میں کوئی امتیاز روا نہ رکھتے تھے، اس بارے میں ان کے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ آپ اندر باہر ہر جگہ اللہ سے ڈرتے، لوگوں کو اس کی یاد دہانی کراتے اور انہیں اللہ کی اطاعت گزاری کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 438)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار تھے، دن کو روزہ رکھتے اور رات کو قیام کیا کرتے۔ وہ خود، ان کی بیوی اور ان کی بیٹی باری باری قیام اللیل کیا کرتے (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 378) 

اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اپنے گھر کی آبادی کا بھی اہتمام فرماتے۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دن تک سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان رہا، وہ، ان کی بیوی اور بیٹی رات کو تین حصوں میں تقسیم کر کے باری باری قیام کرتے، ان میں سے ایک نماز پڑھنے کے بعد دوسرے کو جگا دیتا اور پھر دوسرا تیسرے کو۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 209)

اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت سے سیدنا ابو ہریرہؓ کا روشن و تاباں گھر ہمیں اس دور کے گھروں کی کیفیت سے آگاہ کرتا ہے جب ان کا گھر رات بھر کی عبادت سے آباد رہتا تو اس میں شیطان کے لیے گنجائش کہاں سے نکل سکتی تھی۔ یہ حافظ کبیر اور عالم ربانی سید ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی تقویٰ اور عمل صالح پر عالی شان تربیت، طاہرہ زکیہ خاتون کی طرف سے اس کی استجابت کریمہ اور اطاعت گزار صالح خادم کی طرف سے اس کی قبولیت کا مبارک نتیجہ تھا۔ جب 

فرزندان دنیا اپنے خدام کو کسی بڑے کام کا مکلف بناتے ہیں تو صرف دنیوی اعمال کا مکلف بناتے ہیں ان کے نزدیک اخروی عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جبکہ فرزندانِ آخرت کی خوشی کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب وہ اپنے خدام کو اخروی اعمال کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے دیکھتے ہیں اس لیے کہ اس طرح وہ اپنی خوبی توجیہات کی وجہ سے اجر جزیل حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 19 صفحہ 215)

ھ: فقر و فاقہ اور عفت و پاک دامنی

سیدنا ابو ہریرہؓ کا شمار فقراء و مساکین لوگوں میں ہوتا ہے۔ سیدنا فقر و فاقہ کی شدت کے باوجود بھی صابر و شاکر رہے۔ یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ کنکریوں پر بچھا دیتے اور یوں شب و روز تڑپتے تڑپتے گزارا کرتے مگر انہیں ایسی کوئی چیز میسر نہ آتی جو ان کی پشت کو سیدھا کر سکتی۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 413)

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں گھومتے رہتے پھر گھر آکر پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیتے تو فرماتے: پھر میں روزے سے ہوں۔

(حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 3381)

سیدنا ابو ہریرہؓ بڑے قناعت پسند اور اللہ کی نعمتوں پر شاکر رہنے والے تھے۔ اگر کبھی پندرہ کھجوریں کہیں سے میسر آ جاتیں تو پانچ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے، پانچ کے ساتھ سحری کرتے اور پانچ افطاری کے لیے رکھ لیتے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 385)

آپ بکثرت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و خیر پر بڑی کثرت کے ساتھ اس کی تسبیح و تحمید اور تکبیر بیان کرتے۔

(تاریخ الاسلام: جلد 2 صفحہ 335)۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 439، 440)

و: حلم و حوصلہ اور عفو و کرم

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سیاہ فام لونڈی تھی جس نے اپنے عمل و کردار سے انہیں زچ کر رکھا تھا، ایک دن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کوڑا اٹھاتے ہوئے اس سے کہا: اگر قیامت کے دن قصاص کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں تجھ پر اس کی بارش برسا دیتا، میں تجھے اس کے ہاتھ فروخت کروں گا جو اس دن مجھے تیری پوری پوری قیمت دے گا جب مجھے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہو گی۔ چلی جا، تو اللہ کے لیے آزاد ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 385)

یوں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی خادمہ پر اپنی قدرت اور اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا موازنہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچاؤ کو اپنی ناراضی کے مقتضی کی تنفیذ پر ترجیح دیتے نظر آتے ہیں اور خادمہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے اور اسے سزا دینے کی بجائے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے لوجہ اللہ آزاد کر دیتے ہیں۔ یوں انہوں نے متعدد اعمال صالحہ اپنے نامۂ اعمال میں جمع کر لیے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی خشیت، بدسلوکی کے مرتکب کو معاف کرنا اور اس پر احسان کرنا۔ اس سے یہ امر بھی منکشف ہوتا ہے کہ اخروی زندگی کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تصور بڑا گہرا تھا، اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی کو ہمیشہ پیش نظر رکھا کرتے تھے اور اس کی رضامندی کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرتے تھے۔

(التاریخ الاسلامی: للحمیدی: جلد 17 صفحہ 23)