سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پھیلائے گئے شبہات کی تردید
علی محمد الصلابینفسانی خواہشات کے بعض پجاریوں نے قدیم زمانہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کیے جس کی عصر حاضر میں بعض مستشرقین مثلاً گولڈزہر اور سپرنگر نے اتباع کرتے ہوئے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر مظالم ڈھائے اور ان پر بہتان تراشی کا شوق پورا کیا، اس حوالے سے عبدالحسین شرف الدین عاملی شیعی نے (ابوہریرہ) کے عنوان کے تحت ایک کتاب لکھی جس میں اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر اس قدر سنگین تہمتیں عائد کیں جن سے علم کی پیشانی عرق بار ہو جاتی اور علماء کا ضمیر لرز اٹھتا ہے۔ اس رافضی مؤلف نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر اس حد تک ظلم ڈھایا کہ انہیں کافر تک کہہ دیا۔
(ایضاً: صفحہ 437)
’’اضواء علی السنۃ النبویۃ‘‘ کے مولف ابوریہ نے اس کتاب سے استفادہ کیا اور اپنے استاد سے بڑھ کر ان کے بارے میں ہرزہ سرائی سے کام لیا اور اس سے بڑھ کر اپنی گمراہی اور ضلالت کا ثبوت فراہم کیا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر وارد کیے گئے اہم شبہات و اعتراضات درج ذیل ہیں: