Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

الف: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

عبدالحسین شرف الدین اور ابوریہ

(ابوہریرۃ لعبد الحسین: صفحہ 14، 15۔ اضواء السنۃ المحمدیۃ: صفحہ 192) نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت لگائی ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بحرین پر اپنی ولایت کے دوران دس ہزار دینار چرا لیے تھے جس کی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدے سے معزول کر دیا اور انہیں اس قدر مارا کہ وہ زخمی ہو گئے۔ قابل اعتماد روایات بتاتی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے ولاۃ کی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ان کے مال کے بارے میں قسم لی تھی (تاریخ الاسلام: جلد 2 صفحہ 338۔ حلیۃ الاولیاء: جلد 1 صفحہ 380۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 387)

مگر ان میں انہیں مار کر زخمی کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: یا اللہ! امیر المؤمنین کی مغفرت فرما، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے جس مال کے بارے میں قسم لی ہے وہ ان کے عطیات ہیں اور غلہ ان کے غلام کا کمایا ہوا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گو ان کی امانت داری اور اخلاص سے بخوبی آگاہ تھے اور اسی لیے انہوں نے کچھ دیر بعد انہیں ولایت کی دوبارہ پیش کش کی جسے قبول کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ یہ ہے وہ اصل صورت حال جسے عبدالحسین اور ابو ریہ نے مخفی رکھا، عبدالحسین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر کیچڑ اچھالنے کے لیے العقد الفرید کی ایک ہی روایت کا سہارا لیا ہے

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 438)

جسے ابو ریہ نے اس سے بغیر کسی بحث و تمحیص اور تحقیق کے اس کے حصہ کی طرف اشارہ کیے بغیر نقل کر ڈالا۔

(ایضاً: صفحہ 439)

اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یہ لوگ جعل سازی اور علمی خیانت کے خوگر و رسیا ہیں۔