منکرات و بدعات محرم الحرام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

منکرات و بدعات محرم الحرام

  شیخ عبدالصمد

صفحہ 1 از 3

منکرات و بدعات محرم الحرام

علامہ عبدالصمد حیدری

الحدیث:

قال رسول اللہ ﷺ مَنْ تَشَبہ بِقَوم فَھُوَ مِنْھُمْ۔ 

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ (قیامت میں اس کے ساتھ حشر ہو گا)

ماہِ محرم سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو آنحضرتﷺ کے واقعہ ہجرت پر ہے۔ بیشک یہ مہینہ حرمت والا ہے جس کی حرمت کا بیان واقعہ کربلا سے پہلے قرآن و حدیث میں آ چکا ہے اس لئے اس کی حرمت کا تعلق واقعہ کربلا سے ہرگز نہیں۔ اس مہینے میں اس سے بڑھ کر ایک اور سانحہِ شہادت اور واقعہِ عظیم پیش آیا تھا یعنی یکم محرم کو سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کا واقعہ اگر بعد میں ہونے والی ان شہادتوں کی شرعاً کوئی حیثیت ہوتی تو سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت اس لائق تھی کہ اہلِ اسلام اس کا اعتبار کرتے۔ سیدنا عثمانؓ کی شہادت ایسی تھی کہ اس کی یادگار منائی جاتی اور پھر ان شہادتوں کی بنا پر اگر اسلام میں ماتم و گریہ زاری کی اجازت ہوتی تو یقیناً تاریخِ اسلام کی یہ دونوں شہادتیں ایسی تھیں کہ اہلِ اسلام ان پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم و گریہ زاری کرتے، کم ہوتا۔ لیکن اسلام میں ماتم و گریہ زاری کی اجازت نہیں۔ 

عشرہ محرم (محرم کے ابتدائی دس دن) میں شیعہ حضرات جس طرح مجالس عزا اور محافل ماتم برپا کرتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ یہ سب اختراعی چیزیں ہیں اور شریعتِ اسلامیہ کے مزاج سے قطعاً مخالف ہے۔اسلام نے تو نوحہ و ماتم کے اس انداز کو"جاہلیت" سے تعبیر کیا ہے اور اس کام کو باعثِ لعنت بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا بتلایا ہے۔

نواسہ رسولﷺ کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہر آئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔

بد قسمتی سے اہلِ سنت میں سے ایک بدعت نواز حلقہ اگرچہ نوحہ و ماتم کا شیعی انداز تو اختیار نہیں کرتا لیکن ان دس دنوں میں بہت سی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے جن سے رفض و تشیع کی ہمنوائی اور ان کے مذہب باطل کا فروغ ہوتا ہے۔ مثلاً:

شیعوں کی طرح سانحہِ کربلا کو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا۔

سیدنا حسینؓ اور یزید کی بحث کے ضمن میں جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (سیدنا معاویہؓ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ وغیرہ) کو ہدفِ طعن و ملامت بنانے میں بھی تامل نہ کرنا۔

دس محرم کو تعزیے نکالنا، انہیں قابلِ تعظیم پرستش سمجھنا، ان سے منتیں مانگنا، حلیم پکانا، پانی کی سبیلیں لگانا اپنے بچوں کو کالے رنگ کےکپڑے پہنا کر غم کا ظاہری اظہار کرنا وغیرہ وغیرہ۔

دس محرم کو تعزیوں اور ماتم کے جلوسوں میں ذوق و شوق سے شرکت کرنا ان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا۔

ماہِ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا۔

ذوالجناح (گھوڑے) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا۔ اور اسی انداز کی کئی چیزیں ہیں حالانکہ یہ سب چیزیں بدعت ہیں جن سے نبی اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق اجتناب ضروری ہے۔ 

سنت ہدایت اور بدعت گمراہی کا راستہ:

آپﷺ نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے:

فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِی وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِفَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

ترجمہ: مسلمانو! تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچا کر رکھنا، اس لیے کہ دین میں نیا کام (چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ 

(مسند احمد: جلد 4 صفحہ، 126، 127 وسنن ابی داؤد، السنۃ، ح، 4607 وابنِ ماجہ، اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین ح، 42 وجامع الترمذی: العلم، ح: 2676)

یہ بات ہر ایک پر واضح ہے کہ یہ سب چیزیں صدیوں بعد کی پیداوار ہیں، اور ان کے بدعات ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نبیﷺ نے ہر بدعت کو گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مذکورہ خود ساختہ رسومات کی شناعت و قباحت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

محرم میں مسنون عمل:

محرم میں مسنون عمل صرف روزے ہیں حدیث میں رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے عاشورے کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپﷺ کو بتلایا کہ یہ دن تو ایسا ہے جس کی تعظیم یہود و نصاریٰ بھی کرتے ہیں ، اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: (لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ) اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا۔ 

(صحیح مسلم،الصیام، باب ای یوم یصام فی عاشوراء: ح: 1134) 

اس اعتبار سے 10 محرم کے روزے کی مسنونیت تو مسلم ہے، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لیے آپﷺ نے اس کے ساتھ 9 محرم کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔

مذکورہ بدعات اور رسومات کی ہلاکت خیزیاں:

دین میں اپنی طرف سے اضافے ہی کو بدعت کہا جاتا ہے۔ پھر یہ چیزیں صرف بدعت ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ شرک و بت پرستی کے ضمن میں آجاتی ہیں۔ کیونکہ:

اولاً:  تعزیے میں روحِ حسین کو موجود اور انہیں عالم الغیب سمجھا جاتا ہے، تب ہی تو تعزیوں کو قابلِ تعظیم سمجھتے اور ان سے مدد مانگتے ہیں حالانکہ کسی بزرگ کی روح کو حاضر ناظر جاننا اور عالم الغیب سمجھنا شرک و کفر ہے، چنانچہ حنفی مذہب کی معتبر کتاب فتاویٰ بزازیہ میں لکھا ہے (من قال ارواح المشائخ حاضرۃ تعلم یکفر) جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بزرگوں کی روحیں ہر جگہ حاضر وناظر ہیں اور وہ علم رکھتی ہیں وہ کافر ہے۔

صفحہ 1 از 3