منکرات و بدعات محرم الحرام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

منکرات و بدعات محرم الحرام

  شیخ عبدالصمد

صفحہ 2 از 3

ثانیاً: تعزیہ پرست نوحہ خوانی و سینہ کوبی کرتے ہیں اور ماتم و نوحہ میں کلمات شرکیہ ادا کرتے ہیں، اول تو نوحہ خوانی بجائے خود غیر اسلامی فعل ہے جس سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)

ترجمہ: وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے، گریبان چاک کیے اور زمانہِ جاہلیت کے سے بین کیے۔ 

(صحیح البخاری، الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود: ح، 1297)

یہ صورتیں جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں، نوحہ و ماتم کے ضمن میں آتی ہیں، جو نا جائز ہیں۔ اس لیے فطری اظہار غم کی جو بھی مصنوعی اور غیر فطری صورتیں ہوں گی، وہ سب نا جائز نوحے میں شامل ہوں گی۔

ثالثاً: تعزیہ پرست سیدنا حسینؓ کی مصنوعی قبر بناتے ہیں اور اس کی زیارت کو ثواب سمجھتے ہیں حالانکہ حدیث میں آتا ہے: (من زار قبرا بلا مقبور کانما عبدالصنم) 

ترجمہ: یعنی جس نے ایسی خالی قبر کی زیارت کی جس میں کوئی میت نہیں تو گویا اس نے بت کی پوجا کی۔  

(رسالہ تنبیہ الضالین، از مولانا اولاد حسن، والد نواب صدیق حسن خان)

مولانا احمد رضا خاں بریلوی صاحب کی صراحت:

تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیئے۔ 

(عرفان شریعت: حصہ اول، صفحہ، 15)

عشرہِ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا۔ 

(تعزیہ داری: صفحہ، 4) 

تعزیہ بنانا اور اس پر نذر ونیاز کرنا، عرائض بہ امید حاجت برآری لٹکانا بدعت سیئہ و ممنوع و ناجائز ہیں (تعزیہ داری: صفحہ، 15)

محرم شریف میں مرثیہ خوانی میں شرکت ناجائز ہے، وہ مناہی و منکرات سے پر (بھرے) ہوتے ہیں۔ 

(عرفان شریعت کے حصہ اول: صفحہ، 16)

(شیعوں) کی مجلسوں میں جانا اور مرثیہ سننا حرام ہے۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے۔ ان کی نیاز، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلیتن کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت ہے۔ 

(احکام شریعت حصہ اول: صفحہ، 140 ناشر مشتاق بک کارنر مصنف احمد رضا بریلوی)

محرم میں کالے کپڑے پہننا حرام ہے۔ 

(احکام شریعت حصہ اول: صفحہ، 140)

شیعوں سے کھانا پینا ملنا جلنا سب حرام ہے۔ 

(احکام شریعت حصہ دوم: صفحہ، 185)

شیعوں کے ساتھ بیٹھنا کھانا کھانا ان کا جنازہ پڑھنا شادی بیاہ میں شریک ہونا منع ہے۔ 

(احکام شریعت حصہ دوم: صفحہ، 186)

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں؟

1: بعض اہلِ سنت و الجماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں بعد دفن روٹی پکائی جائے گی۔ 

2: ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے۔

3: ماہِ محرم میں شادی بیاہ نہیں کرتے۔

الجواب: تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ (احکام شریعت حصہ اول: صفحہ، 141) 

حدیث کی ان تصریحات اور مولانا احمد رضا خان بریلوی صاحب کی توضیح کے بعد امید ہے کہ بریلوی علماء اپنے عوام کی صحیح رہنمائی فرمائیں گے اور عوام اپنی جہالت اور علماء کی خاموشی کی بنا پر جو مذکورہ بدعات وخرافات کا ارتکاب کرتے ہیں یا کم از کم ایسا کرنے والوں کے جلوسوں میں شرکت کر کے ان کے فروغ کا سبب بنتے ہیں، ان کو ان سے روکنے کی پوری کوشش کریں گے۔

عشرہ محرم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام مطلوب:

عشرہ محرم میں عام دستور رواج ہے کہ شیعی اثرات کے زیر اثر واقعات کربلا کو مخصوص رنگ اور افسانوی و دیو مالائی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ شیعی ذاکرین تو اس ضمن میں جو کچھ کرتے ہیں وہ عالم آشکارا ہے، لیکن بدقسمتی سے بہت سے اہلِ سنت کے واعظان خوش گفتار اور خطیبان سحر بیان بھی گرمی محفل اور عوام سے داد و تحسین وصول کرنے لیے اسی تال سر میں ان واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں جو شیعیت کی مخصوص ایجاد اور ان کی انفرادیت کا غماز ہے اس سانحہ شہادت کا ایک پہلو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی ہے جس کے بغیر شیعوں کی محفل ماتم سیدنا حسینؓ مکمل نہیں ہوتی۔ کسی صحابی کے حقوق میں زبان طعن و تشنیع کھولنا اور ریسرچ کے عنوان پر نکتہ چینی کرنا ہلاکت و تباہی کو دعوت دینا ہے۔

سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِی فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ۔

(صحیح البخاری، فضائل اصحاب النبیﷺ: ح، 3673 وصحیح مسلم، فضائل الصحابۃ: ح، 2540۔ 2541)

میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سب وشتم نہ کرو (یعنی انہیں جرح و تنقید اور برائی کا ہدف نہ بناؤ) انہیں اللہ نے اتنا بلند رتبہ عطا فرمایا ہے) کہ تم میں سے کوئی شخص اگر احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو وہ کسی صحابی کے خرچ کردہ ایک مُد (تقریباً ایک سیر) بلکہ آدھے مُد کے بھی برابر نہیں ہوسکتا۔

رسوماتِ محرم علمائے اسلام کی نظر میں:

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے فرمایا:

اے بنی آدم! تم نے اسلام کو بدل ڈالنے والی بہت سی رسمیں اپنا رکھی ہیں (مثلاً) تم دسویں محرم کو باطل قسم کے اجتماع کرتے ہو۔ کئی لوگوں نے اس دن کو نوحہ و ماتم کا دن بنا لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے حادثے رونما ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اگر سیدنا حسینؓ اس دن (مظلوم شہید کے طور پر) قتل کیے گئے تو وہ کون سا دن ہے جس میں کوئی نہ کوئی اللہ کا نیک بندہ فوت نہیں ہوا (لیکن تعجب کی بات ہے کہ) انہوں نے اس سانحہ شہادت مظلومانہ کو کھیل کود کی چیز بنا لیا تم نے ماتم کو عید کے تہوار کی طرح بنا لیا، گویا اس دن زیادہ کھانا پینا فرض ہے اور نمازوں کا تمہیں کوئی خیال نہیں (جو فرض ہے) ان کو تم نے ضائع کر دیا، یہ لوگ اپنے ہی من گھڑت کاموں میں مشغول رہتے ہیں، نمازوں کی توفیق ان کو ملتی ہی نہیں۔

(التفہیمات الإلہٰیۃ: جلد، 1 تفہیم: جلد، 69 صفحہ، 288 طبع حیدر آباد سندھ 1970ء)

حافظ ابنِ کثیرؒ نے فرمایا:

صفحہ 2 از 3