منکرات و بدعات محرم الحرام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

منکرات و بدعات محرم الحرام

  شیخ عبدالصمد

صفحہ 3 از 3

حافظ ابنِ کثیرؒ 354ھ کے واقعات میں ماتمی جلوسوں کے سلسلے میں لکھتے ہیں: یہ (ماتمی مجالس وغیرہ) کی رسمیں، اسلام میں ان کی کوئی ضرورت نہیں اگر یہ واقعتاً اچھی چیز ہوتی تو خیر القرون اور اس امت کے ابتدائی اور بہتر لوگ اس کو ضرور کرتے، وہ اس کے سب سے زیادہ اہل تھے (بات یہ ہے کہ) اہلِ سنت (سنتِ نبویﷺ کی) اقتداء کرتے ہیں، اپنی طرف سے بدعتیں نہیں گھڑتے۔

 (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 271)

نوحہ و ماتم کے بارے میں اہلِ بیتؓ کے اقوال شیعوں کی کتابوں سے:

سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ کسی کے لئے درست نہیں کہ وہ (کسی کی موت پر) تین دن سے زیادہ سوگ منائے اور زینت ترک کرے سوائے اس عورت کے جس کا شوہر مر گیا ہو۔

(من لایحضرہ الفقیہ اردو: جلد، 1 صفحہ، 132)

سیدنا حسینؓ نے کربلا کے میدان میں اپنی بہن سیدہ زینبؓ کو وصیت کی: اے بہن! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں اگر میں شہید کر دیا جاؤں تم سینہ کوبی نہ کرنا، ماتم نہ کرنا، چہرہ نہ پیٹنا، ناخن سے اپنے چہرے کو نہ چھیلنا۔ 

(منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 248، الارشاد: جلد، 2 صفحہ، 94)

حضور نبی کریمﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو وصیت کی: یا فاطمۃؓ اذا انامت فلا تخمشی الوجہ۔

ترجمہ: اے فاطمہؓ! جب میں فوت ہو جاؤں تو تم چہرہ نہ چھیلنا۔

(فروع کافی: جلد، 5 صفحہ، 527 جلاءالعیون اردو: جلد، 1 صفحہ، 136)

شاہ اسماعیل شہیدؒ نے فرمایا:

خلاصہ عبارت یہ ہے کہ پاک و ہند میں رافضیوں کے زیرِ اثر تعزیہ سازی کی جو بدعت رائج ہے یہ شرک تک پہنچا دیتی ہے کیونکہ تعزیے میں سیدنا حسینؓ کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور پھر اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو بت پرست اپنے بتوں کے ساتھ کرتے ہیں اور اس معنیٰ میں یہ پورے طور پر بت پرستی ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ 

(صراطِ مستقیم، صفحہ، 59)


صفحہ 3 از 3