Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ امویوں کے ہم نوا تھے؟ اور کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کی مذمت میں حدیث وضع کیا کرتے تھے؟

  علی محمد الصلابی

ب: کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ امویوں کے ہم نوا تھے؟ اور کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کی مذمت میں حدیث وضع کیا کرتے تھے؟

شیعی مولف عبدالحسین نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت لگائی ہے کہ وہ امویوں کی سیاست کا پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے۔ کبھی ان کے فضائل پر مشتمل احادیث وضع کرتے اور کبھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خواہش کی تسکین کے لیے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل میں وضع احادیث کا ارتکاب کرتے۔

(ابوہریرۃ لعبد الحسین: صفحہ 35)

ابوریہ نے اس موضوع پر رافضی کتب میں مندرج سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم یکجا کر دیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کذب و افتراءات کے مردے اکھاڑے اور اس کے لیے اس نے یا تو ان کتابوں پر اعتماد کیا جن کے مؤلفین نہ تو سچائی کے ساتھ معروف ہیں اور نہ ہی روایت کی تحقیق و تمحیص کے ساتھ۔ یا پھر ان کتب پر جن کے مؤلفین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض رکھنے میں شہرت رکھتے ہیں اور وہ ہمارے اس عقیدہ کے بھی مخالف ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ محبت رکھنے والے صحابی رسول تھے جن سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں متعدد احادیث مروی ہیں۔

(السنۃ و مکانتہا فی التشریع الاسلامی: صفحہ 353، 354)

وہ کبھی اہل بیتؓ کے مخالف نہیں رہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی سنت کے ساتھ پورے طور سے وابستہ تھے اور وہ ہر اس شخص سے محبت کیا کرتے تھے جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت تھی۔ معمولی سا علم رکھنے والا انسان بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو ناپسند کیا کرتے تھے۔

(البرہان فی تبرئۃ ابی ہریرۃ من البہتان: صفحہ 127)

پروفیسر عبدالمنعم صالح الفری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں گرانقدر کتاب تالیف کی ہے جس میں انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی محبت کو واضح کیا ہے اور یہ کہ وہ جنگ خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ منقبت کے راوی ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر فرمایا: ’’میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرتا ہو گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح نصیب فرمائے گا۔‘‘ پھر انہوں نے انہیں جھنڈا عطا کیے جانے کا واقعہ روایت کیا۔

(صحیح مسلم)

کیا یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نفرت و کراہت پر مبنی ہے؟

(الادلۃ الباہرۃ علی نفی البغضاء بین الصحابۃ و العترۃ الطاہرۃ: صفحہ 133)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کرتے ہیں: ’’یقیناً فاطمہ میری امت کی خواتین کی سردار ہے۔‘‘

(التاریخ الکبیر: بخاری: جلد 1 صفحہ 232 ۔ موصول سند کے ساتھ)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت کے بارے میں متعدد احادیث روایت کرتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے کئی ایسے واقعات بھی مروی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ دلی محبت کیا کرتے تھے۔

(الادلۃ الباہرۃ: صفحہ 134)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی کیفیت کی تصویر کشی کرتے ہوئے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس وقت کے بعد ہمیشہ اس شخص (حسن رضی اللہ عنہ ) سے محبت کرتا رہا ہوں جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کی ریش مبارک میں اپنی انگلیاں داخل کر رہے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان ان کے منہ میں داخل کی اور پھر فرمایا: ’’یا اللہ! میں اس سے پیار کرتا ہوں تو بھی اس سے پیار فرما۔‘‘

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 169)

اس محبت کے بعد ہمیں یہ پڑھ کر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن وہ خود بھی روتے رہے اور دوسروں کو بھی رونے کے لیے کہتے رہے۔

(الادلۃ الباہرۃ: صفحہ 135)

اس موقع پر موجود ایک شخص کا کہنا ہے: جس دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوت ہوئے میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں روتے ہوئے دیکھا، وہ خود بھی رو رہے تھے اور بلند آواز سے کہہ بھی رہے تھے: لوگو! آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کی وفات ہو گئی ہے، ان کی وفات پر رو لو۔

(التقریب: جلد 2 صفحہ 301) 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کم محبت نہیں تھی، فرماتے ہیں: میں نے جب بھی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور یہ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھر سے نکلے تو مجھے مسجد میں پایا، آپﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا یہاں تک کہ آپ بنو قینقاع کے بازار میں پہنچے، اس دوران آپ نے مجھ سے کوئی بات نہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر گھومے پھرے اور دیکھا، پھر آپ واپس تشریف لائے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آ کر بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: ’’میرے پاس لقاع (حسن رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ، حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے اور پھر اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک میں داخل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا منہ کھول کر اس میں اپنی زبان داخل کر دی اور پھر فرمایا: ’’یا اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں اس سے تو بھی محبت فرما۔‘‘

(مستدرک: جلد 3 صفحہ 178)

اس قصہ کو بخاری نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے، لیکن حاکم نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ دونوں روایات وارد اور محفوظ ہیں، اور اس کا حتمال بھی موجود ہے اس لیے کہ اس میں مسجد کی طرف واپسی کا ذکر ہے۔

(الادلۃ الباہرۃ: صفحہ 135)

عبدالمنعم العزی نے اپنی کتاب ’’اقباس من مناقب ابی ہریرۃ‘‘میں دلائل قطعیہ اور کافی کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ابناء علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کرتے تھے، نہ صرف وہ بلکہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکروں کے امراء اور ان کے سرکردہ لوگ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد روایات کے راوی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرنے والے تابعین میں سے متعدد لوگ بھی ان سے روایات اخذ کرتے ہیں، جماہیر روافض اور اہل کوفہ میں سے اولاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے محبین جن کا تعلق تبع تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کے ساتھ تھا وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے، ان سے استدلال کرتے اور اپنی کتابوں میں ان کا اندراج کرتے تھے۔

(اقتباس من مناقب ابی ہریرۃ: صفحہ 127 تا 149)

تاریخی علمی حقیقت یہی ہے کہ کسی کے پاس کوئی ایسی قابل اعتماد دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اموی حکمرانوں کے حامی تھے یا وہ سیدنا علیؓ اور ان کے بیٹوں کے خلاف آمادہ جنگ رہتے تھے، یہ کچھ کہنا کذب و افتراء اور حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ امویوں کی مدح و تعریف میں ان کی طرف منسوب احادیث موضوع اور ضعیف ہیں، اس فن کے ماہرین نے کذابین اور ان احادیث کو وضع کرنے والوں کی نشاندہی کر دی ہے۔

(البرہان فی تبرئۃ ابی ہریرۃ من البہتان: صفحہ 128)

جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ دولت امویہ نے اپنی آراء کی تائید میں کئی احادیث وضع کیں تو یہ ایسا دعویٰ ہے کہ جس کا کذابوں کے خیال کے علاوہ اور کہیں کوئی وجود نہیں ہے، تاریخ سے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں ہوتی، اس قسم کا دعویٰ کرنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ اموی حکومت کی وضع کردہ یہ احادیث کہاں ہیں؟ ہمارے علماء سند کے بغیر حدیث نقل کرنے کے عادی نہیں ہیں اور صحیح احادیث کی اسناد کتب حدیث میں محفوظ ہیں۔ ہمیں تو ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی جس کی سند میں عبدالملک، یزید، ولید یا ان کے عمال میں سے کسی ایک مثلاً حجاج یا خالد قسری کا نام آتا ہو، اگر ان کا کوئی وجود تھا تو وہ کہاں کھو گئیں؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ وضع احادیث کا ارتکاب اموی حکومت نے خود نہیں کیا تھا بلکہ اس نے دوسروں سے یہ کام کروایا تھا تو اس کی کیا دلیل ہے؟

(السنۃ و مکانتہا فی التشریع الاسلامی: صفحہ 203)

رہا عبدالحسین اور ابو ریہ کا یہ دعویٰ کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے امویوں کو خوش کرنے اور علویوں سے انتقام لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کذب بیانی سے کام لیا، تو سیدٹ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس سے بری ہیں، انہوں نے اس بارے میں جو روایات نقل کی ہیں وہ تمام کی تمام ضعیف اور لا اصل ہیں۔

 (ابوہریرۃ، عبدالحسین: صفحہ 35۔ اضواء علی السنۃ: صفحہ 190)

اس بارے میں ہمارے پاس جتنی بھی باطل اور لااصل اطلاعات پہنچی ہیں وہ نفسانی خواہشات کے پجاریوں کے واسطے سے پہنچی ہیں جو ان کی خواہشات کے داعی اور اپنے اپنے مذاہب کے لیے بڑے متعصب تھے، ان لوگوں نے حق کے خلاف بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حرمت کو پامال کیا اور خیار صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان درازی کرتے ہوئے کسی پر فسق و ضلال کی تہمت لگائی اور کسی پر کفر کا فتویٰ جڑ دیا۔ حتیٰ کہ ان کے کذب و افتراء سے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم و دیگر بھی نہ بچ سکے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 182، 183) السنۃ قبل التدوین: صفحہ 443)

محدثین نے ان کذابوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کی حقیقت کو آشکارا کیا اور ان کے مذموم عزائم کو واضح کیا، ان کذابوں کا کوئی بھی دعویٰ اس وقت تک ناقابل تسلیم رہے گا جب تک وہ اس کے اثبات کے لیے قابل قبول صحیح دلیل پیش نہیں کرتے۔ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وضع حدیث پر آمادہ کریں۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 444)

جبکہ صحابہؓ و تابعینؒ میں سے علمائے امت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت کے شاہد ہیں۔ کسی بھی قابل وثوق مصدر میں کسی ایسی بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تکذیب کی ہو یا انہیں ایسی حدیث کے بیان کرنے سے منع کیا ہو۔ البتہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بعض دشمن ابوجعفر اسکافی سے مروی اس جھوٹی روایت سے استشہاد کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کذب بیانی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 1 صفحہ 468)

مگر یہ روایت مردود ہے اسے ہم اسکافی سے قبول نہیں کر سکتے اس لیے کہ وہ کٹر رافضی، معتزلی اور محدثین کا دشمن ہے۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 443)

ابو قتیبہؒ نے ان تمام روایات کی تردید کی ہے جو ان لوگوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی ہیں۔

( تاویل مختلف الحدیث: صفحہ 27، 51 و ما بعدہا: السنۃ قبل التدوین: صفحہ 460)