کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ امویوں کے ہم نوا تھے؟ اور…

کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ امویوں کے ہم نوا تھے؟ اور کیا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کی مذمت میں حدیث وضع کیا کرتے تھے؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس قصہ کو بخاری نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے، لیکن حاکم نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ دونوں روایات وارد اور محفوظ ہیں، اور اس کا حتمال بھی موجود ہے اس لیے کہ اس میں مسجد کی طرف واپسی کا ذکر ہے۔

(الادلۃ الباہرۃ: صفحہ 135)

عبدالمنعم العزی نے اپنی کتاب ’’اقباس من مناقب ابی ہریرۃ‘‘میں دلائل قطعیہ اور کافی کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ابناء علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کرتے تھے، نہ صرف وہ بلکہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکروں کے امراء اور ان کے سرکردہ لوگ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد روایات کے راوی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرنے والے تابعین میں سے متعدد لوگ بھی ان سے روایات اخذ کرتے ہیں، جماہیر روافض اور اہل کوفہ میں سے اولاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے محبین جن کا تعلق تبع تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کے ساتھ تھا وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے، ان سے استدلال کرتے اور اپنی کتابوں میں ان کا اندراج کرتے تھے۔

(اقتباس من مناقب ابی ہریرۃ: صفحہ 127 تا 149)

تاریخی علمی حقیقت یہی ہے کہ کسی کے پاس کوئی ایسی قابل اعتماد دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اموی حکمرانوں کے حامی تھے یا وہ سیدنا علیؓ اور ان کے بیٹوں کے خلاف آمادہ جنگ رہتے تھے، یہ کچھ کہنا کذب و افتراء اور حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ امویوں کی مدح و تعریف میں ان کی طرف منسوب احادیث موضوع اور ضعیف ہیں، اس فن کے ماہرین نے کذابین اور ان احادیث کو وضع کرنے والوں کی نشاندہی کر دی ہے۔

(البرہان فی تبرئۃ ابی ہریرۃ من البہتان: صفحہ 128)

جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ دولت امویہ نے اپنی آراء کی تائید میں کئی احادیث وضع کیں تو یہ ایسا دعویٰ ہے کہ جس کا کذابوں کے خیال کے علاوہ اور کہیں کوئی وجود نہیں ہے، تاریخ سے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں ہوتی، اس قسم کا دعویٰ کرنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ اموی حکومت کی وضع کردہ یہ احادیث کہاں ہیں؟ ہمارے علماء سند کے بغیر حدیث نقل کرنے کے عادی نہیں ہیں اور صحیح احادیث کی اسناد کتب حدیث میں محفوظ ہیں۔ ہمیں تو ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی جس کی سند میں عبدالملک، یزید، ولید یا ان کے عمال میں سے کسی ایک مثلاً حجاج یا خالد قسری کا نام آتا ہو، اگر ان کا کوئی وجود تھا تو وہ کہاں کھو گئیں؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ وضع احادیث کا ارتکاب اموی حکومت نے خود نہیں کیا تھا بلکہ اس نے دوسروں سے یہ کام کروایا تھا تو اس کی کیا دلیل ہے؟

(السنۃ و مکانتہا فی التشریع الاسلامی: صفحہ 203)

رہا عبدالحسین اور ابو ریہ کا یہ دعویٰ کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے امویوں کو خوش کرنے اور علویوں سے انتقام لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کذب بیانی سے کام لیا، تو سیدٹ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس سے بری ہیں، انہوں نے اس بارے میں جو روایات نقل کی ہیں وہ تمام کی تمام ضعیف اور لا اصل ہیں۔

 (ابوہریرۃ، عبدالحسین: صفحہ 35۔ اضواء علی السنۃ: صفحہ 190)

اس بارے میں ہمارے پاس جتنی بھی باطل اور لااصل اطلاعات پہنچی ہیں وہ نفسانی خواہشات کے پجاریوں کے واسطے سے پہنچی ہیں جو ان کی خواہشات کے داعی اور اپنے اپنے مذاہب کے لیے بڑے متعصب تھے، ان لوگوں نے حق کے خلاف بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حرمت کو پامال کیا اور خیار صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان درازی کرتے ہوئے کسی پر فسق و ضلال کی تہمت لگائی اور کسی پر کفر کا فتویٰ جڑ دیا۔ حتیٰ کہ ان کے کذب و افتراء سے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم و دیگر بھی نہ بچ سکے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 182، 183) السنۃ قبل التدوین: صفحہ 443)

محدثین نے ان کذابوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کی حقیقت کو آشکارا کیا اور ان کے مذموم عزائم کو واضح کیا، ان کذابوں کا کوئی بھی دعویٰ اس وقت تک ناقابل تسلیم رہے گا جب تک وہ اس کے اثبات کے لیے قابل قبول صحیح دلیل پیش نہیں کرتے۔ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وضع حدیث پر آمادہ کریں۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 444)

جبکہ صحابہؓ و تابعینؒ میں سے علمائے امت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت کے شاہد ہیں۔ کسی بھی قابل وثوق مصدر میں کسی ایسی بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تکذیب کی ہو یا انہیں ایسی حدیث کے بیان کرنے سے منع کیا ہو۔ البتہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بعض دشمن ابوجعفر اسکافی سے مروی اس جھوٹی روایت سے استشہاد کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کذب بیانی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 1 صفحہ 468)

مگر یہ روایت مردود ہے اسے ہم اسکافی سے قبول نہیں کر سکتے اس لیے کہ وہ کٹر رافضی، معتزلی اور محدثین کا دشمن ہے۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 443)

ابو قتیبہؒ نے ان تمام روایات کی تردید کی ہے جو ان لوگوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی ہیں۔

( تاویل مختلف الحدیث: صفحہ 27، 51 و ما بعدہا: السنۃ قبل التدوین: صفحہ 460)


صفحہ 2 از 2