ایمان کی تقسیم کا مسئلہ
امام ابنِ تیمیہؒ[ایمان کی تقسیم کا مسئلہ ]اس سے اہل بدعت خوارج ؛ اور مرجئہ کے شبہات کا جواب واضح ہوجاتا ہے؛ جو کہتے ہیں : ایمان بسیط ہے ؛ اس کے حصے نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ہی ایمان کم ہوتا یا بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایمان کا کوئی جزء چلا جاتا ہے تو سارا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ جو چیز مختلف اجزاء سے مرکب ہو؛ جب اس کا کوئی ایک جزء چلا جائے تو وہ ساری چیز چلی جاتی ہے۔ جیسے نماز؛ جب اس کا ایک واجب ترک کردیا جائے؛ تو ساری نماز باطل ہو جاتی ہے۔ اس اصل سے ان کی مختلف راہیں ؍ اور مختلف فرقے نکلے ہیں ۔[1][1] علامہ اشعری ’’مقالات اسلامیین؛ ۱؍۱۹۸ ‘‘ پر فرماتے ہیں :مرجئہ او رجہمیہ کہتے ہیں : بیشک ایمان کی تبعیض نہیں ہوسکتی۔ اور نہ ہی اہل ایمان ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں ۔ مرجئہ میں سے صالحیہ کے نزدیک ایمان نہ ہی کم ہوتا ہے اور نہ ہی بڑھتا ہے۔ اور اشعری نے یہ بھی کہا ہے کہ: یونس السمری کے ساتھی ’’السمریہ ‘‘ کا خیال ہے کہ: ایمان صرف اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے سامنے جھک جانے اور تکبر سے اجتناب کرنے اور اس سے محبت کرنے کا نام ہے۔ جس انسان میں یہ خصلتیں جمع ہو جائیں ؛ وہ مؤمن ہے۔ اور اگر ان میں سے ایک خصلت بھی ترک کی تو وہ کافر جائے گا۔ جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل سنت و الجماعت کہتے ہیں : بیشک ایمان کم ہوتا اور بڑھتا ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:’’ جہنم سے اس آدمی کو بھی نکالاجائے گاجس کے دل میں رائے کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا۔‘‘[2][2] الحدِیث عن عبدِ اللہِ بنِ مسعود رضِی اللہ عنہ فِی: مسلِم1؍93 ِکتاب الإِیمانِ باب تحرِیمِ الِکبرِ وبیانِہِ، ولفظہ: لا یدخل النار أحد فِی قلبِہِ مِثقال حبۃِ خردل مِن ِایمان، ولا یدخل الجنۃ أحد فِی قلبِہِ مِثقال حبۃِ خردل مِن کِبرِیا۔ سننِ أبِی داود4؍84 ِکتاب اللِباسِ، باب ما جا فِی الکِبرِ، سنن ابنِ ماجہ 1؍22 ؛ المقدِمۃ باب فِی الإِیمانِ، کِتاب صِفۃِ جہنم۔ قال التِرمِذِی ہذا حدِیث حسن صحِیح، وذکرہ السیوطِی، وقال الألبانِی فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ: صحِیح وہو فِی مسندِ أحمد وسننِ النسائِیِ۔پس اس بنیاد پرہم کہتے ہیں : جب اس کے واجبات میں سے کوئی چیز کم ہو جاتی ہے تو کمال اورتمام باقی نہیں رہتا۔ اس لیے اس نام کی نفی اس وقت جائز ہے جب اس سے مراد کمال ہو۔ پس اس انسان پر واجب ہوتا ہے کہ اس جزء کو پورا کردے۔ اگر واجب ترک کیا ہے تو اسے بجالائے۔ اور اگرگناہ کاکام کیا ہے تو اس سے توبہ و استغفار کرے۔ اس طرح یہ انسان ان اہل ایمان میں سے ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے اس ثواب محض کے مستحق ٹھہرتے ہیں جو سزا سے خالی ہو۔ ہاں اگر وہ ان میں سے کوئی واجب ترک کردے؛ یا کسی حرام کام کا ارتکاب کردے؛ تو وہ اس پر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اور نیک کام کرنے پر ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔یہاں پر نفی مجموعہ کی ہے؛ اس کے اجزاء میں سے ہر ایک جزء کی نفی نہیں ہے۔ جیسے جب دس میں سے ایک چلا جائے تو وہ دس باقی نہیں رہتے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ باقی نو بھی ختم ہوگئے ہیں ۔تمام اعمال میں سنت ایسے ہی وارد ہوئی ہے؛ جیسے نماز وغیرہ۔ انسان جس قدر نماز درست ادا کرتا ہے؛ اس پر اسے ثواب ملے گا؛ اور جو اس میں کمی رہ جاتی ہے؛ اس پر اسے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حتی کہ اگر انسان کی نفل نماز ہوگی تو اس سے اس کمی کا ازالہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے ادا کردہ افعال باطل ہوتے ؛ ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ؛ تو اسے اس پر کوئی ثواب نہ ملتا۔ اور نوافل سے اس کا ازالہ نہ ہوسکتا۔ پس سنن میں روایت کردہ نماز میں خطاء کار کی حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔ اگر اس میں کسی قدر کمی رہ جائے تو جتنے اعمال بجالائے ہیں ؛ ان پر اسے ثواب ضرور ملے گا۔اگر آپ یہ کہیں کہ:جب کسی عبادت کے ارکان میں سے کوئی رکن رہ جائے تو فقہائے کرام رحمہم اللہ علی الاطلاق کہتے ہیں : اس کی نماز باطل ہوگئی؛ روزہ باطل ہوگیا؛ حج باطل ہوگیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ:فقہاء یہ جملہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک باطل صحیح کی ضد ہے۔ اور ان کے عرف میں صحیح وہ ہے جس سے مقصود حاصل ہو جائے؛ اوراس پر حکم مرتب ہو۔ وہ حکم ہے: برأت ذمہ ۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں : صحیح وہ ہے جس سے قضاء ساقط ہو جائے۔ پس ان کا باطل کہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ: اس کی قضاء واجب ہے۔ یہ معنی ہر گز نہیں ہوتا کہ اسے اس فعل پر آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔کلام اللہ میں اور حدیث مبارک میں یہ نفی یوں ہی وارد ہوئی ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( لا یزنِی الزانِی حِین یزنِی وہو مؤمِن ۔))’’زانی زنا نہیں کرتا؛ جب وہ زناکرے اور وہ مؤمن ہو۔‘‘[1][1] البخارِیِ3؍136 ِکتاب المظالِمِ، باب النہیِ بِغیرِ إِذن صاحِبِہِ،کِتاب الحدودِ، باب ِإثمِ الزناِ، مسلِم 1؍76 کتاب الإِیمانِ، باب بیانِ نقصانِ الإِیمانِ بِالمعاصِی، سنن أبِی داود 4؍306 ِ کتاب السنۃِ، باب الدلِیلِ علی زِیادۃِ الإِیمانِ ونقصانِہِ، سنن الترمذی4؍127 ِکتاب الإِیمانِ، باب لا یزنِی الزانِی وہو مؤمِن، سنن ابنِ ماجہ 2؍1298 ۔کتاب الفِتنِ، باب النہیِ عنِ النہبِ، سنن الدارِمِیِ 2؍115 ِکتاب الأشرِبۃِ باب فِی التغلِیظِ لِمن شرِب الخمر۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( لا إِیمان لِمن لا أمانۃ لہ، ولا دِین لِمن لا عہد لہ ۔))[2] [2] الحدِیثعن أنسِ بنِ مالکِ رضِی اللّٰہ عنہ فِی المسندِ، ط۔ الحلبِیِ3؍135 وأولہ: عن نسِ بنِ مالکِ قال: ما خاطبنا نبِی اللہِ صلی اللّٰہ علیہِ وسلم ِإلا قال:لا إِیمان لِمن لا أمانۃ لہ۔ وہو أیضا فِیہِ 3؍154۔’’اس کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت دار نہیں ؛ اور اس کا کوئی دین نہیں جو وعدہ وفا نہیں کرتا ۔‘‘اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ ﴾[الانفال ۲]’’(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:﴿ اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ﴾[الحجرات ۱۵]’’مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایما ن لائے، پھر انھوں نے شک نہیں کیا اور انھوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہا د کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں ۔‘‘
کسی واجب کے ترک کرنے یا حرام فعل کے ارتکاب پر ایمان کی نفی کرنا ایسے ہی جیسے چند دوسری چیزوں کی وجہ سے نفی وارد ہوئی ہے ؛ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( لا صلاۃ إِلا بأُمِ القرآنِ ۔))[1][1] البخارِیِ1؍147 ؛ کتاب الأذانِ، باب وجوبِ القِراۃِ لِلإِمامِ والمأمومِ، مسلِم1؍295 ِکتاب الصلاِۃ، باب وجوبِ قِراِۃ الفاتِحۃِ فِی کلِ رکعۃ، سنن أبِی داود1؍301 ِکتاب الصلاۃِ، باب من ترک القِراۃ فِی صلاتِہِ بِفاتِحۃِ الکِتابِ، ولفظہ: ولا صلاۃ لِمن لم یقرأ بِفاتِحۃِ الکِتابِ فصاعِدا۔ والحدِیث فِی سنن الترمذی والنسائِیِ وابنِ ماجہ والدارِمِیِ والموطأِ والمسندِ، وتکلم علیہِ الألبانِی کلاما مفصلا فِی ِإروائِ الغلِیلِ 2؍10 ۔12 حدِیث رقم 302۔’’سورت فاتحہ پڑھے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی ۔‘‘اور جیسے نماز میں خطا کار کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( ارجِع فصلِ فِإنک لم تصلِ۔ ))[سبق تخریجہ ]’’جاؤ اور نماز پڑھو؛ بیشک تم نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘اورصف کے پیچھے اکیلے نماز پڑہنے والے کو نماز دہرانے کا حکم دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( لا صلاۃ لِفذ خلف الصفِ ۔))[سبق تخریجہ ]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( من سمِع النِداء ثم لم یجِب مِن غیرِ عذر فلا صلاۃ لہ۔ )) [2] [2] سنن ابنِ ماجہ1؍260 ِکتاب المساجِدِ والجماعاتِ، باب التغلِیظِ فِی التخلفِ عنِ الجماعۃِ، وجاء الحدِیث بِہذا اللفظِ مرۃ وبِلفظِ: من سمِع النِداء فلم یجِب فلا صلاۃ لہ، فِی المستدرکِ لِلحاِکمِ1؍245 ِکتاب الصلاِۃ، وقال الحاکِم: صحِیح علی شرطِ الشیخینِ ولم یخرِجاہ، ووافقہ الذہبِی، وصحح الألبانِی الحدِیث فِی إِرواِ الغلِیلِ2؍337 ۔ 338 وتکلم علیہِ وعلی رِوایات أخری لہ۔’’ جو اذان کی آواز سنے؛ اورپھر بلا عذر مسجد نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی ۔‘‘فقہائے کرام رحمہم اللہ میں سے جو کوئی یہ کہے: یہ نفی کمال کے لیے ہے۔تو اس سے کہا جائے گا: اگر آپ کی مراد مستحب کمال ہے؛ تو یہ دو وجوہات کی بنا پر باطل ہے۔اول : یہ چیز شارع علیہ السلام کے الفاظ میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی کہ آپ انسان کے کسی ایسے فعل کی نفی کریں جو اس نے مطلوب واجب طریقہ پر ادا کیا ہو۔ اورپھر بعض مستحبات کے ترک کرنے کی وجہ سے اس کی نفی کردیں ۔ بلکہ شارع علیہ السلام کسی فعل کی نفی اس وقت تک نہیں کرتے جب تک اسے اس طرح ادا نہ کردیا جائے جیسے وہ واجب ہوا ہے۔دوم: اگر ترک مستحب کی وجہ سے نفی کی جائے؛تو پھر عوام الناس کی نہ ہی کوئی نماز ہوگی اور نہ ہی روزہ۔ اس لیے کہ کمال کے مستحبات مختلف ہوتے ہیں ۔ اور کوئی ایک بھی ایسے نماز نہیں پڑھ سکتا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ تو پھر کیا جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح اپنی نماز مکمل نہ کرسکے تو اس کی نماز بالکل ہی نہیں ہوگی؟
اگریہ کہا جائے کہ: یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جو نماز میں کوئی فرض یا دیگر اس طرح کی چیز چھوڑ دیں ؛ انہیں اعادہ نماز کا حکم دیا جائے گا۔جبکہ اگر ایمان کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے تو اسے اس کے اعادہ کا حکم نہیں دیا جاتا۔تو اس سے کہا جائے گا: یہاں پر مطلق اعاد ہ کا معاملہ نہیں ۔ بلکہ اسے ممکن چیز کا حکم دیا جائے گا۔ پس اگراعادہ ممکن ہو تو اس کا اعادہ کیا جائے گا۔اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسے اس کے علاوہ دیگرنیکیاں کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ جیسے اگر کوئی انسان جمعہ کی نماز چھوڑ دے ؛ تواسے ظہر کی نماز پڑھنے کا کہا جائے گا۔ اگرچہ ظہر کی نماز جمعہ کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ترک ِ جمعہ کی وجہ سے حاصل ہونے والا گناہ ظہر کی وجہ سے ختم ہوجائے گا۔ایسے ہی جو کوئی حج کے واجبات میں کوئی واجب عمداً ترک کردے؛ تو جہاں تک ممکن ہو اسے وہ فعل اپنے وقت میں بجالانے کا حکم دیا جائے گا۔ اور اگر وقت ختم ہوجائے تو دمِ جبران سے اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ لیکن اس سے وہ واجب چھوڑنے کا گناہ مطلق طور پر ساقط نہیں ہوگا۔ بلکہ اس سے بطور بدل کے یہی کچھ کرنا ممکن تھا۔ اس پر یہ بھی لازم ہوتا ہے کہ ایسی توبہ کرے جس سے واجب کے ترک کا گناہ دھل جائے۔ جیسے اگر کوئی حرام کام کرتا ہے؛ تو اس پر واجب ہوتاہے کہ ایسی توبہ کرے جس سے اس کے گناہ دھل جائیں ۔اس کا طریقہ یہ بھی ہے کہ اتنی نیکیاں کرے جو اس کے گناہوں کو دھو ڈالیں ۔ ایسے ہی جو کوئی ایسا واجب ترک کردے جس کااستدراک ممکن نہ ہو۔ اگر ممکن ہو تو پھر اس پر بذات خود وہ فعل بجالانا واجب ہو جاتاہے۔٭ ایسے ہی ہم کہتے ہیں :جو کوئی ایمان کے بعض واجبات ترک کردے؛بلکہ ہر وہ مامور جسے ترک کردیا؛ تویقیناً اس نے ایمان کاایک جزء ترک کردیا۔ تو حسب امکان اس کااستدراک کرے۔ اور اگر اس کا وقت ختم ہوجائے تو توبہ کرکے دوسری نیکیاں کرے۔ پس اسی وجہ سے علماء کرام کا اتفاق ہے کہ اس کے لیے خاص اور مشترک وقت میں نماز کا اعادہ ممکن ہے۔ جیسے کوئی انسان نماز عصر کا وقت داخل ہونے کے بعد ظہر کی نماز پڑھے۔ اورعصر کی نماز کو آسمان پر زردی پھیلنے تک مؤخر کردے۔ پس اس انسان کی نماز تو صحیح ہو جائے گی؛ مگر اس پر تاخیر کا گناہ ہوگا۔ اس کا شمار ان مذموم لوگوں میں ہوگا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّینَo الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُوْنَ﴾[الماعون ۴۔۵]’’پس ان نمازیوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے ۔وہ جو اپنی نما زسے غافل ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلوٰۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ﴾ [مریم ۵۹]’’پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔‘‘
بلاشک و شبہ نماز کے لیے اس کے واجب وقت سے تاخیر کرنا؛حقیقت میں نماز کو ضائع کرنا اور اسے بھلا دیناہے۔اس بارے میں علماء کے مابین ہمیں کسی اختلاف کا کوئی علم نہیں ہوسکا۔اور اس بارے میں صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم و رحمہم اللہ سے آثار بھی وارد ہوئے ہیں ۔صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حکمرانوں کے متعلق فرمایا؛ جو نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کرکے پڑھیں گے؛ :’’تم اپنی نماز مقررہ وقت پر پڑھ لو؛ اور ان کے ساتھ اپنی نمازوں کو نفل بنادو۔‘‘[1][1] مسلِم14؍449 ِکتاب المساجِدِ ومواضِع الصلاِۃ، باب کراہِیۃِ تأخِیرِ الصلاِۃ، سننِ الدارِمِیِ1؍279 ِکتاب الصلاِۃ باب الصلاِۃ خلف من یؤخِر الصلاۃ عن وقتِہا، المسند ط۔ الحلبِیِ5؍159 ۔