عصمت انبیاء اجماع امت اور اقوال ائمہ کی روشنی میں
نقیہ کاظمیعصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام اجماعِ اُمّت اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں
1: امام اعظم امام ابو حنیفہؒ (متوفیٰ 150ھ) فرماتے ہیں:
الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کلھم منزھون عن الصغائر والکبائر والکفر والقبائح
(الفقہ الاکبر: صفحہ، 2 العقیدۃ الحنفیہ: صفحہ، 203)
ترجمہ: سارے انبیاء علیہم السلام صغیرہ، کبیرہ گناہوں اور کفر اور بے ہودہ کاموں سے پاک ہیں۔
2: قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ (متوفیٰ 544ھ) فرماتے ہیں:
اَلْاِجْمَاعُ عَلَی الْعِصْمَۃِ عَنِ الْکَبَائِرِ بِلاَ قَیْدٍ عَمَدًا وَ سَھْوًا
(النبراس شرح شرح العقائد: صفحہ، 283)
ترجمہ: انبیاء علیہم السلام کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، نہ عمداً کرتے ہیں نہ سہواً اسی پر اجماع ہے۔
3: امام ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبیؒ (متوفیٰ 671ھ) لکھتے ہیں:
الانبیاء معصومون عن الخطاء والغلط فی اجتھادھم
(قرطبی: جلد، 2 صفحہ، 2058)
ترجمہ: انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اجتہاد میں خطاء اور غلطی سے معصوم ہوتے ہیں۔
4: ملاعلی قاری رحمۃ اللہ (متوفیٰ 1014ھ) بعض محققین سے نقل فرماتے ہیں:
اِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ رضی اللہ عنہم عَلَی التَّاِسِّیْ بِہٖ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ اَقْوَالِہٖ وَ اَفْعَالِہٖ وَ سَائِرِ اَحْوَالِہٖ حَتّٰی فِیْ کُلِّ حَالَاتِہٖ مِنْ غَیْرِ بَحْثٍ وَلَا تَفَکُّرٍ بَلْ بِمُجَرَّدِ عِلْمِھِمْ اَوْ ظَنِّھِمْ بِصُدُوْرِ ذٰلِکَ عَنْہُ دَلِیْلٌ قَاطِعٌ عَلٰی اِجْمَاعِھِمْ عِلٰی عِصْمَتِہٖ وَ تَنَزُّھِہٖ عَنْ اَنْ یَّجْرِیَ عَلٰی ظَاہِرِہٖ اَوْ بَاطِنِہٖ شَیْء ٌلَا یُتَاَسّٰی بِہٖ فِیْہٖ مِمَّالَمْ یَقُمْ دَلِیْلٌ عَلَی اخْتِصَاصِہٖ
(المرقات شرح المشکوۃ: جلد، 1 صفحہ، 220)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپﷺ کے اقول، افعال اور تمام احوال میں بغیر کسی بحث و تفکر کے محض یہ جانتے ہوئے کہ یہ عمل آپﷺ نے کیا ہے آپﷺ کی اتباع پر متفق ہو جانا واضح دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپﷺ کی عصمت پر اجماع ہے اور اس پر بھی کہ آپﷺ سے ظاہراً و باطناً ایسی کوئی چیز صادر نہیں ہو سکتی جس کی اتباع نہ کی جا سکتی ہو جب تک آپﷺ کی خصوصیت پر دلیل قائم نہ ہو جائے۔
5: مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ (متوفیٰ 1396ھ) اپنی تفسیر معارف القرآن میں فرماتے ہیں:
’’تحقیق یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت تمام گناہوں سے عقلاً اور نقلاً ثابت ہے۔ ائمہ اربعہ اور جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء علیہم السلام تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں اور بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ صغیرہ گناہ ان سے بھی سرزد ہو سکتے ہیں جمہور امت کے نزدیک صحیح نہیں۔‘‘
(معارف القرآن: جلد، 1 صفحہ، 195)
6: علامہ عبدالعزیز پرہاڑوی رحمۃ اللہ قاضی عیاض مالکیؒ اور محقق فقہاء کرامؒ و متکلمین سے نقل کرتے ہیں:
قال القاضی عیاض ذھب طائفۃ من محقق الفقہاء والمتکلمین الی العصمۃ عن الصغائر کالعصمۃ فی الکبائر
(النبراس: صفحہ، 283)
ترجمہ: قاضی عیاض مالکیؒ اور محقق فقہاء و متکلمین کا موقف یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام جس طرح کبیرہ گناہوں سے معصوم ہیں اسی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی معصوم ہیں۔