Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مرض الموت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رونا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ان کے ورثاء کے لیے وصیت کرنا

  علی محمد الصلابی

د: مرض الموت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رونا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ان کے ورثاء کے لیے وصیت کرنا:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موت کے وقت رونے لگے تو ان سے کہا گیا: آپ رو کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں تمہاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں اپنے اس سفر اور زادِ راہ کی کمی پر روتا ہوں۔ میں ایسی بلند جگہ پر کھڑا ہوں جہاں سے ایک راستہ جنت کو اور دوسرا جہنم کو جاتا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کس راستے پر چلایا جائے گا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 384)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ والی مدینہ ولید بن عتبہ بن ابوسفیانؓ نے پڑھائی اور نماز جنازہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سمیت بہت سارے لوگوں نے شرکت کی۔ ان کی وفات وادی عقیق میں واقع ان کے گھر میں ہوئی، پھر انہیں مدینہ منورہ لا کر ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور بقیع میں مدفون ہوئے، ولید بن عتبہ نے ان کی وفات کی خبر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دی تو انہوں نے اسے ان کے ورثاء کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور انہیں دس ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاون و مددگار تھے اور پھر محاصرہ کیے گئے ان کے گھر میں ان کے ساتھ رہے۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 389)