نمازوں میں تاخیر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نمازوں میں تاخیر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

[نمازوں میں تاخیر]یہ وہ لوگ تھے جو ظہر کی نماز میں عصر تک تاخیر کرتے اور عصر کو آسمان میں زردی چھا جانے تک تاخیر کرتے۔ اس تاخیر پر تو ان کی مذمت کی گئی ہے؛ مگر یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو نماز کو بالکل ہی ترک کردیتے ہیں ؛ یا سورج کے ڈوب جانے کے بعد پڑھتے ہیں ۔ بیشک ان لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ لڑنے کا حکم دیا ہے۔جب کہ نماز میں تاخیر کرنے والوں سے جنگ لڑنے سے منع فرمایا ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حکمرانوں کا تذکرہ کیا جو بری بری حرکتیں کریں گے؛ تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم تلواریں لیکر ان پر ٹوٹ نہ پڑیں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تک وہ نماز کی پابندی کریں تم ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘ [تخریج گزرچکی ہے]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے رہے ہیں کہ وہ نمازوں کے اوقات میں تاخیر کریں گے؛اور حکم دے رہیں کہ تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لیا کرو؛ او ران کے ساتھ نمازیں دھرا لیا کرو۔ تویہ حدیث ان کی نماز کے درست ہونے کی دلیل ہے۔ اگر ان کی نماز بالکل ہی نہ ہوئی ہوتی تو ان سے لڑنے کا حکم دیا جاتا۔صحیحین میں ثابت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(( من أدرک رکعۃ مِن العصرِ قبل أن تغرب الشمس فقد أدرک العصر)) [2][2] البخارِیِ1؍116 ِکتاب مواقِیتِ الصلاِۃ وفضلِہا باب من أدرک مِن الفجرِ رکعۃ، مسلِم1؍424 ِکتاب المساجِدِ ومواضِعِ الصلاۃِ، باب من أدرک رکعۃ مِن الصلاِۃ فقد أدرک الصلاۃ۔’’جو کوئی سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے ؛ تو اس نے نماز عصر پالی ۔‘‘حالانکہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نماز کے متعلق یہ بھی ارشاد فرمایا :(( تِلک صلاۃ المنافِقِ، تِلک صلاۃ المنافِقِ، یرقب الشمس حتی ِإذا کانت بین قرنی شیطان قام فنقر اربعا لا یذکر اللّٰہ فِیہا إِلا قلِیلا ۔)) [3][3] مسلِم1؍434 ِکتاب المساجِدِ، باب استِحبابِ التبکِیرِ بِالعصرِ، سنن الترمذی1؍107 ِکتاب مواقِیتِ الصلاِۃ، باب ما جاء فِی تعجِیلِ العصرِ، سنن النسائِیِ 1؍203 ِکتاب المواقِیتِ، باب التشدِیدِ فِی تأخِیرِ العصرِ، وقد سبق الحدِیث 4؍31۔

صفحہ 1 از 2