کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ سے شام منتقل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟
علی محمد الصلابیطبری نے اپنی تاریخ میں 50ھ کے واقعات کے ضمن میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ سے شام منتقل کرنے کے لیے اسے اپنی جگہ سے حرکت دی تو سورج کو گرہن لگ گیا یہاں تک کہ ستارے نظر آنے لگے۔ جسے لوگوں نے بڑا گراں خیال کیا۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے منبر رسول کو یہاں سے اٹھانے کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ مجھے یہ خوف لاحق ہوا تھا کہ کہیں اسے دیمک نہ لگ گئی ہو۔ اب میں نے اسے خود دیکھ لیا ہے۔ پھر انہوں نے اسے کپڑے سے ڈھانپ دیا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 155)
دوسری روایت میں وارد ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور لاٹھی کو مدینہ میں نہ چھوڑا جائے اس لیے کہ اہل مدینہ امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل اور ان کے دشمن ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا مبارک سعد القرظ کے پاس تھا جب انہوں نے ان سے عصا کا مطالبہ کیا تو ان کے پاس ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! ہم تمہیں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ یہ کام نہ کریں۔ ایسا کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ آپ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ سے نکالنا چاہتے ہیں جس جگہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصا کو بھی مدینہ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا، پھر انہوں نے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چھ سیڑیاں اور بنا دیں اور لوگوں سے اس بارے معذرت کی۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 214۔ تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 155)
گزشتہ روایات سے مندرجہ ذیل قضایا کا اثبات ہوتا ہے:
1۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور آپﷺ کے عصا مبارک کو مدینہ منورہ سے شام منتقل کرنے کا ارادہ کیا۔
اس بات کا تذکرہ زبیر بن بکار(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 463۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 388)
یعقوبیؒ اور ابن جوزیؒ نے بھی کیا ہے۔
(المنتظم: جلد 5 صفحہ 277)
مگر انہوں نے عصا مبارک کا ذکر نہیں کیا جبکہ ابن الاثیرؒ (الکامل فی التاریخ: جلد ص صفحہ 482)
اور ابن کثیرؒ (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 214)
نے منبر اور عصا دونوں کی منتقلی کا ذکر کیا ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر خالد الغیث فرماتے ہیں: میں کسی ایسی صحیح روایت سے مطلع نہیں ہو سکا جس سے واقدی کے اس زعم کی تائید ہوتی ہو، جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دین داری اور عدالت نیز ان کا شرف صحابیت ان کے لیے اس امر سے مانع تھا کہ وہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ سے شام منتقل کر دیں جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی بخوبی آگاہ تھے: ’’میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔‘‘
(فتح الباری شرح بخاری: جلد 4 صفحہ 119)
عبدالرزاق (المصنف: جلد 3 صفحہ 183)
نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ آمد اور منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زینوں میں اضافہ کرنے کا ذکر تو کیا ہے مگر انہوں نے منبر کو شام منتقل کرنے کے یا عصائے مبارک حاصل کرنے کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیڑھیوں میں اضافہ اور اس کی پوشش کا شمار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں ہوتا ہے جسے بعض مؤرخین نے اس کے برعکس رنگ دے ڈالا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 389)
2۔ سورج گرہن کی خبر کو منبر کو جنبش دینے کے ساتھ مربوط کرنا
اس واقعہ کا عبدالرزاق، زبیر بن بکار، (فتح الباری: جلد 2 صفحہ 464)
ابن الجوزیؒ (المنتظم: جلد 5 صفحہ 228)
ابن الاثیرؒ (الکامل: جلد 2 صفحہ 482)
اور ابن کثیرؒ (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 214)
نے ذکر کیا ہے۔ جبکہ شعبی مورخ نے منبر کو حرکت دیتے وقت زمزمہ برپا ہونے کی بھی بات کی ہے۔ مگر یہ خبر صحیح سند کے ساتھ وارد نہیں ہوئی۔ اگر سورج گرہن کا واقعہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حرکت دینے کا نتیجہ نہیں تھا۔ ایسا واقعہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود میں بھی ہوا تھا۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس دن سورج گرہن ہوا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ارجمند ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اس پر لوگ کہنے لگے: ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگ گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم ایسا واقعہ دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔‘‘ اور ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں وہ کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتیں، ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرایا کرتا ہے۔‘‘
(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 612)
3۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اہل مدینہ (انصار) سے بغض رکھنے کی تہمت، اس لیے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے:
اس خبر کو ابن الاثیر (ایضاً ) نے وارد کیا ہے، مگر اس کی سند ضعیف ہے، میں قبل ازیں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق فتنہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف بیان کر چکا ہوں، اہل مدینہ پر یہ تہمت کس طرح لگائی جا سکتی ہے جبکہ کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نصرت و معاونت کے لیے انصار مدینہ کو ابھارتے ہوئے فرمایا تھا: اے گروہ انصار! اللہ کے دوبارہ انصار بنو، اس پر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے، زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ اندر گئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: انصارِ مدینہ دروازے پر کھڑے ہیں، اگر آپ چاہیں تو ہم دوبارہ اللہ کے انصار بن سکتے ہیں۔
(الکامل: جلد 2 صفحہ 482)
مگر انہوں نے قتل و قتال کو ردّ کر دیا اور فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، تم اس سے باز رہو۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 390)
رہا ان کا یہ دعویٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ انصار سے اس لیے بغض رکھتے تھے کہ وہ سیدنا عثمان کے قاتل تھے تو ان کا یہ دعویٰ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں انصار کے حقیقی مؤقف کی وجہ سے مردود ہے۔ علاوہ ازیں اس کی اس امر سے بھی تردید ہوتی ہے کہ انہوں نے انصار کو اپنے قریب رکھا اور انہیں بڑے اہم اور حساس عہدوں پر فائز کیا۔ اس کے کچھ شواہد مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ کو دمشق کے منصب پر فائز کیا، (فتنۃ مقتل عثمان لغبان الملحق: صفحہ 200۔ اس کی سند حسن لغیرہ ہے۔)
نیز انہیں مصر میں اسلامی بحریہ کا امیر مقرر کیا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 391)۔ فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 162)
2۔ نعمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ کو کوفہ پر امیر متعین کیا۔
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1272۔ الاصابۃ: جلد 5 صفحہ 371)
3۔ مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کو ایک ساتھ مصر اور مغرب پر امیر مقرر کیا گیا۔
( ریاض النفوس للمالکی: جلد 1 صفحہ 80)
4۔ رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو طرابلس کا امیر بنایا گیا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 391)