Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت وصیت

  علی محمد الصلابی

ابن شماسہ مہری موت کے وقت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن العاص کی موت کے وقت ان کے پاس گئے تو وہ بہت دیر تک روتے رہے اور پھر اپنا رخ دیوار کی طرف پھیر دیا، اس پر ان کا بیٹا کہنے لگا، ابا جان! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ یہ خوشخبری نہیں دی تھی؟ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: افضل ترین چیز اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں تین حالات سے گزرا ہوں۔ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرنے والا کوئی نہیں تھا اور مجھے اس سے بڑھ کر کوئی چیز پسند نہیں تھی کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں انہیں قتل کر ڈالوں، اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو یقیناً جہنم میں جاتا، پھر جب اللہ نے میرے دل میں اسلام رکھ دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے درخواست کی کہ میں آپﷺ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں، اپنا ہاتھ کھولیں۔ اس پر آپﷺ نے اپنا ہاتھ کھول دیا مگر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عمرو! کیا ہوا؟‘‘ میں نے کہا: میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کون سی شرط؟‘‘ میں نے کہا: میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ اسلام اپنے سے ماقبل کو ختم کر دیتا ہے، ہجرت اپنے سے ماقبل کو ختم کر دیتی ہے اور حج اپنے سے ماقبل کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘ مجھے قبول اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص پیارا نہیں لگتا تھا اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر میری نظروں میں کوئی شخص بارعب تھا، میں آپﷺ کے احترام میں آپﷺ کو نظر بھر کر دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اگر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف بیان کرنے کے لیے کہا جائے تو میں ایسا نہیں کر سکوں گا، اس لیے کہ میں نے آپ کو آنکھیں بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا، اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو میں اپنے جنتی ہونے کی امید کر سکتا تھا۔

(صحیح مسلم: رقم: 121)

دوسری روایت میں آتا ہے: اس کے بعد میں حکومت اور دیگر چیزوں میں مصروف ہو گیا، مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کچھ میرے خلاف جائے گا یا میرے حق میں رہے گا۔ جب میں مر جاؤں تو کوئی رونے والی مجھے مت روئے، میرے پیچھے کوئی تعریف کرنے والا نہ آئے اور نہ ہی میرے پیچھے آگ ہو، میری چادر کس کر باندھنا اس لیے کہ مجھ سے جھگڑا کیا جائے گا، مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈالنا اس لیے کہ میرا دایاں پہلو میرے بائیں پہلو سے مٹی کا زیادہ حق دار نہیں ہے۔ میری قبر میں لکڑی اور پتھر نہ رکھنا، جب مجھے مٹی میں چھپا دو تو اونٹ ذبح کرنے اور اسے کاٹنے کے وقت تک میرے پاس بیٹھنا میں تمہاری وجہ سے انس محسوس کروں گا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 121)

صحیح مسلم کے الفاظ ہیں: تاکہ مجھے تمہاری وجہ سے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ اپنے رب کے قاصدوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔

(مسلم: رقم: 121)

دوسری روایت میں ہے: اس کے بعد انہوں نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا اور پھر کہنے لگے: یا اللہ! تو نے ہمیں حکم دیا، مگر ہم نے تیری نافرمانی کی، تو نے ہمیں منع کیا مگر ہم باز نہ آئے، اب ہمیں صرف تیری رحمت ہی کی امید ہے، ایک اور روایت میں ہے: انہوں نے گردن پر ہاتھ رکھا، سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگے: یا اللہ! میرے پاس کوئی طاقت نہیں ہے کہ میں اپنی مدد کر سکوں، میں بے گناہ نہیں ہوں میری معذرت قبول فرما، میں تکبر کرنے والا نہیں بلکہ مغفرت طلب کرنے والا ہوں، پھر آپ مسلسل لا الہ الا اللہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کی موت واقع ہو گئی۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 161)

2۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی ولایت

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ 43ھ میں عید الفطر کی رات فوت ہوئے، انہوں نے موت سے قبل اپنے بیٹے عبداللہ کو نماز اور خراج کے لیے اپنا جانشین مقرر کیا،

(ولاۃ مصر: کندی: صفحہ 57)

جب ان کی وفات کی خبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے ان کے بھائی عتبہ کو مصر کا والی متعین کر دیا، یہ ذوالقعدہ 43ھ کا واقعہ ہے۔

(ایضاً: صفحہ 578)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ عبداللہ بن عمرو تقریباً دو ماہ تک مصر کے والی رہے، اور یہ وہ مدت ہے جس کے دوران عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی اور پھر نئے والی کے تقرر کا فیصلہ ہوا۔

امام ذہبیؒ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے اوصاف گنواتے ہوئے فرماتے ہیں: ابو محمد یا ابو عبدالرحمٰن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بڑے عالم و عابد امام تھے، آپ صحابی ابن صحابی ہیں۔ ان کے باپ ان سے بہت زیادہ بڑے نہیں تھے، جہاں تک ہمیں علم ہے وہ اپنے باپ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام العاص تھا مگر جب وہ مسلمان ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ میں تبدیل کر دیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 80)

عبداللہ نے اپنے باپ کے ورثہ سے بہت زیادہ سونا حاصل کیا، ان کا شمار بادشاہ صحابہ میں ہوتا ہے۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 91)

3۔ عتبہ بن ابو سفیانؓ کی ولایت:

عتبہؓ کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں طائف کا والی مقرر فرمایا، پھر جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کا والی متعین فرمایا۔ عتبہؓ فصیح اللسان خطیب تھے، کہا جاتا ہے کہ بنو امیہ میں ان سے بڑا کوئی خطیب نہیں ہوا، انہوں نے مصر پر اپنی ولایت کے دوران اہل مصر کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہل مصر! تمہاری زبانوں پر حق کی تعریف و ستائش کم ہی آتی ہے اور تم حق کا التزام بھی کم ہی کرتے ہو، تم باطل کی مذمت بہت کم کرتے ہو اور اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ تم اس گدھے جیسے ہو جس کی پشت پر کتابوں کا بوجھ لدا ہو جن کا اٹھانا اس کے لیے مشکل ہو رہا ہو مگر ان کتابوں کا علم اسے فائدہ نہ پہنچا رہا ہو۔ اب میں تمہارا علاج صرف تلوار سے کروں گا مگر جب تک کوڑا کام دے گا تلوار سے کام نہیں لوں گا، اور میں پہلی چیز سے بھی تاخیر کروں گا اگر تم دوسری تک جانے کے لیے جلدی نہیں کرو گے۔

اگر تم اللہ تعالیٰ کے لازم کردہ ہمارے حقوق ادا کرو گے تو ہم تمہارے حوالے سے اپنے فرائض ادا کریں گے۔ آج کسی کو سزا نہیں ملے گی اور آج کے بعد کسی کو سرزنش نہیں کی جائے گی۔

(الاستیعاب: رقم: 1923)

دوسری روایت میں وارد ہے تم ہماری بات سنیں گے اور ہم تم لوگوں میں عدل کریں گے۔ اس پر مسجد کے کونے کونے سے سمعاً سمعاً ’’ہم سنیں، ہم سنیں گے‘‘ کی آوازیں آنے لگیں۔ جس کا جواب انہوں نے عدلاً عدلاً

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 124)، مصر فی العصر الاموی: صفحہ 82)

 ’’انصاف ہو گا انصاف ہو گا‘‘ کہہ کر دیا۔ انہوں نے اسکندریہ میں سرحد پر قیام کرنے کے بعد دار الامارہ قائم کیا۔

(مصرف فی العصر الاموی: صفحہ 82، النجوم الزاہرۃ: جلد 1۔صفحہ 34)

عتبہؓ نے اپنی اولاد کے لیے ایک مؤدِّب کا تقرر کر رکھا تھا جو ان کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سر انجام دیتا، اس کے لیے عبدالصمد بن عبدالاعلیٰ کا تقرر کیا گیا تھا۔

(مکانۃ المعلم فی التراث العربی: زبیدی: صفحہ 106)

عتبہؓ نے انہیں اس حوالے سے راہنما اصول دیتے ہوئے فرمایا تھا: انہیں کتاب اللہ کی تعلیم دیں مگر اس کے لیے ان پر زبردستی نہ کریں ورنہ وہ اکتا جائیں گے اور ان سے لاتعلق بھی نہ رہیں ورنہ وہ اسے چھوڑ دیں گے۔

(البیان و التبیین للجاحظ: جلد 2 صفحہ 73)

اور روایت یہ ہے کہ اس کام کا آغاز اپنی اصلاح سے کرنا اس لیے کہ ان کی آنکھیں تمہاری آنکھوں سے وابستہ ہوں گی جس چیز کو تم اچھا سمجھو گے اسے وہ بھی اچھا سمجھیں گے اور جسے تم برا سمجھو گے اسے وہ بھی برا سمجھیں گے۔ انہیں پاکیزہ اشعار اور حدیث جو اعلیٰ ہے ، سے سیر کریں۔ انہیں ایک علم سے دوسرے علم کی طرف نہ لے جائیں، اس لیے کہ کانوں میں کلام کا رش فہم کو بگاڑ دیتا ہے۔ انہیں حکماء کی سیرت اور ادباء کے اخلاق کی تعلیم دیں اور عورتوں کے ساتھ باتیں کرنے سے بچائیں۔ میرا نام لے اور میرے علاوہ کے ساتھ انہیں مؤدب بنائیں۔ ان کے لیے اس طبیب کا رویہ اپنائیں جو پہلے بیماری تشخیص کرتا اور پھر اس کا علاج کرتا ہے۔ میرے عذر پر اعتماد نہ کرنا اس لیے کہ میں نے تم پر اعتماد کیا ہے کہ تم ہی (میری طرف) سے کفایت کرو گے ، اگر تم ان کی تادیب میں اضافہ کرو گے تو میں تمہارے ساتھ اپنے حسن سلوک میں اضافہ کروں گا۔ ان شاء اللّٰہ۔

(عیون الاخیار: (جلد 2 صفحہ 66) (جلد 2 صفحہ 5)، البیان و التبیین: جلد 2 صفحہ 73، 74)

اس وصیت سے واضح ہوتا ہے کہ اموی ولاۃ الامور اپنے بیٹوں کو قرآن کریم، حدیث رسول اور اشعار وغیرہ کی تعلیم دینے کے بڑے حریص تھے علاوہ ازیں وہ ان کی تربیت کرنے نیز اداب اور اخلاق حسنہ سے آراستہ کرنے کے بڑے دلدادہ تھے اور یہ کہ وہ ان کی تربیت کرنے والے اساتذہ کی بڑی تعظیم و توقیر کیا کرتے تھے۔

(التعلیم فی العصر الاموی: صفحہ 66)

4۔ عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ (45، 46ھ)

طبری نے مصر پر عقبہ بن عامر جہنی کی ولایت کا ذکر نہیں کیا، جبکہ ابن جوزیؒ، ابن الاثیرؒ اور ابن کثیرؒ بھی ان کا ذکر گول کر گئے ہیں، حالانکہ دیار مصر کے ساتھ مختص تاریخی مصادر اس کا اثبات کرتے ہیں۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 287)

جنہیں اس حوالے سے دیگر مصادر پر ترجیح حاصل ہے۔

(صحیح ایضاً: صفحہ 287)

اسی طرح ابن عبدالبر (الاستیعاب: رقم الترجمۃ: 1898) 

اور ابن حجؒر بھی اس کا اثبات کرتے ہیں۔

(الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 521)

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ بڑے عالم اور قاری تھے، فصیح المقال، فقیہ اور علم الفرائض کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے شاعر بھی تھے، آپ بڑی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے قرآن سنانے کی فرمائش کی تو جب انہوں نے تلاوت شروع کی تو خطاب کے بیٹے رونے لگ گئے۔

آپ شرف صحابیت سے مشرف ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی اور پھر مدینہ منورہ میں آپ کے ساتھ ہی مقیم رہے، آپ کا شمار اصحاب صفہ میں ہوتا ہے، جنگ احد کے موقع پر جبل الرماۃ پر متعین کردہ تیر اندازوں میں آپ بھی شامل تھے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے 62ھ میں وفات پائی۔

 (سیر اعلام النبلاء:  جلد 2 صفحہ 468)

5۔ مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ (ھ 62، 63 ) آپ مسلمہ بن مخلد انصاری حزرجی ہیں: آپ امیر اور مصر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نائب تھے۔ آپ کی کنیت ابو معن، ابو سعید یا ابو معاویہ تھی، آپ خود صحابی ہیں مگر آپ کے باپ کو یہ شرف حاصل نہ ہو سکا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 424)

مجاہد کہتے ہیں: میں نے مسلمہ کی اقتداء میں نماز ادا کی، اس دوران انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت کی، انہوں نے نہ کوئی واؤ چھوڑی اور نہ الف۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 425)

لیث کہتے ہیں: عقبہ بن عامر کو 47ھ میں معزول کر کے ان کی جگہ مسلمہ کو اس کا والی مقرر کیا گیا اور وہ یزید کے زمانہ میں اپنی وفات تک اس عہدے پر برقرار رہے۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 425)

آپ ماہ ذوالقعدہ 62ھ میں اسکندریہ کے مقام پر فوت ہوئے۔

(ایضاً : جلد 3 صفحہ 426)

حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نے شمالی افریقہ کی فتوحات میں گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔ جن کا تفصیلی ذکر ان شاء اللہ آگے چل کر آئے گا۔ سارے کا سارا مغرب آپ کے تابع تھا۔

(مصر فی العصر الاموی: صفحہ 83)