سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت وصیت - دفاعِ…

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت وصیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

ابن شماسہ مہری موت کے وقت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن العاص کی موت کے وقت ان کے پاس گئے تو وہ بہت دیر تک روتے رہے اور پھر اپنا رخ دیوار کی طرف پھیر دیا، اس پر ان کا بیٹا کہنے لگا، ابا جان! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ یہ خوشخبری نہیں دی تھی؟ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: افضل ترین چیز اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں تین حالات سے گزرا ہوں۔ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرنے والا کوئی نہیں تھا اور مجھے اس سے بڑھ کر کوئی چیز پسند نہیں تھی کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں انہیں قتل کر ڈالوں، اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو یقیناً جہنم میں جاتا، پھر جب اللہ نے میرے دل میں اسلام رکھ دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے درخواست کی کہ میں آپﷺ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں، اپنا ہاتھ کھولیں۔ اس پر آپﷺ نے اپنا ہاتھ کھول دیا مگر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عمرو! کیا ہوا؟‘‘ میں نے کہا: میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کون سی شرط؟‘‘ میں نے کہا: میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ اسلام اپنے سے ماقبل کو ختم کر دیتا ہے، ہجرت اپنے سے ماقبل کو ختم کر دیتی ہے اور حج اپنے سے ماقبل کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘ مجھے قبول اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص پیارا نہیں لگتا تھا اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر میری نظروں میں کوئی شخص بارعب تھا، میں آپﷺ کے احترام میں آپﷺ کو نظر بھر کر دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اگر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف بیان کرنے کے لیے کہا جائے تو میں ایسا نہیں کر سکوں گا، اس لیے کہ میں نے آپ کو آنکھیں بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا، اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو میں اپنے جنتی ہونے کی امید کر سکتا تھا۔

(صحیح مسلم: رقم: 121)

دوسری روایت میں آتا ہے: اس کے بعد میں حکومت اور دیگر چیزوں میں مصروف ہو گیا، مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کچھ میرے خلاف جائے گا یا میرے حق میں رہے گا۔ جب میں مر جاؤں تو کوئی رونے والی مجھے مت روئے، میرے پیچھے کوئی تعریف کرنے والا نہ آئے اور نہ ہی میرے پیچھے آگ ہو، میری چادر کس کر باندھنا اس لیے کہ مجھ سے جھگڑا کیا جائے گا، مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈالنا اس لیے کہ میرا دایاں پہلو میرے بائیں پہلو سے مٹی کا زیادہ حق دار نہیں ہے۔ میری قبر میں لکڑی اور پتھر نہ رکھنا، جب مجھے مٹی میں چھپا دو تو اونٹ ذبح کرنے اور اسے کاٹنے کے وقت تک میرے پاس بیٹھنا میں تمہاری وجہ سے انس محسوس کروں گا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 121)

صحیح مسلم کے الفاظ ہیں: تاکہ مجھے تمہاری وجہ سے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ اپنے رب کے قاصدوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔

(مسلم: رقم: 121)

دوسری روایت میں ہے: اس کے بعد انہوں نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا اور پھر کہنے لگے: یا اللہ! تو نے ہمیں حکم دیا، مگر ہم نے تیری نافرمانی کی، تو نے ہمیں منع کیا مگر ہم باز نہ آئے، اب ہمیں صرف تیری رحمت ہی کی امید ہے، ایک اور روایت میں ہے: انہوں نے گردن پر ہاتھ رکھا، سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگے: یا اللہ! میرے پاس کوئی طاقت نہیں ہے کہ میں اپنی مدد کر سکوں، میں بے گناہ نہیں ہوں میری معذرت قبول فرما، میں تکبر کرنے والا نہیں بلکہ مغفرت طلب کرنے والا ہوں، پھر آپ مسلسل لا الہ الا اللہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کی موت واقع ہو گئی۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 161)

2۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی ولایت

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ 43ھ میں عید الفطر کی رات فوت ہوئے، انہوں نے موت سے قبل اپنے بیٹے عبداللہ کو نماز اور خراج کے لیے اپنا جانشین مقرر کیا،

(ولاۃ مصر: کندی: صفحہ 57)

جب ان کی وفات کی خبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے ان کے بھائی عتبہ کو مصر کا والی متعین کر دیا، یہ ذوالقعدہ 43ھ کا واقعہ ہے۔

(ایضاً: صفحہ 578)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ عبداللہ بن عمرو تقریباً دو ماہ تک مصر کے والی رہے، اور یہ وہ مدت ہے جس کے دوران عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی اور پھر نئے والی کے تقرر کا فیصلہ ہوا۔

امام ذہبیؒ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے اوصاف گنواتے ہوئے فرماتے ہیں: ابو محمد یا ابو عبدالرحمٰن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بڑے عالم و عابد امام تھے، آپ صحابی ابن صحابی ہیں۔ ان کے باپ ان سے بہت زیادہ بڑے نہیں تھے، جہاں تک ہمیں علم ہے وہ اپنے باپ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام العاص تھا مگر جب وہ مسلمان ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ میں تبدیل کر دیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 80)

عبداللہ نے اپنے باپ کے ورثہ سے بہت زیادہ سونا حاصل کیا، ان کا شمار بادشاہ صحابہ میں ہوتا ہے۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 91)

3۔ عتبہ بن ابو سفیانؓ کی ولایت:

صفحہ 1 از 3