سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت وصیت - دفاعِ…

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت وصیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

عتبہؓ کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں طائف کا والی مقرر فرمایا، پھر جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مصر کا والی متعین فرمایا۔ عتبہؓ فصیح اللسان خطیب تھے، کہا جاتا ہے کہ بنو امیہ میں ان سے بڑا کوئی خطیب نہیں ہوا، انہوں نے مصر پر اپنی ولایت کے دوران اہل مصر کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہل مصر! تمہاری زبانوں پر حق کی تعریف و ستائش کم ہی آتی ہے اور تم حق کا التزام بھی کم ہی کرتے ہو، تم باطل کی مذمت بہت کم کرتے ہو اور اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ تم اس گدھے جیسے ہو جس کی پشت پر کتابوں کا بوجھ لدا ہو جن کا اٹھانا اس کے لیے مشکل ہو رہا ہو مگر ان کتابوں کا علم اسے فائدہ نہ پہنچا رہا ہو۔ اب میں تمہارا علاج صرف تلوار سے کروں گا مگر جب تک کوڑا کام دے گا تلوار سے کام نہیں لوں گا، اور میں پہلی چیز سے بھی تاخیر کروں گا اگر تم دوسری تک جانے کے لیے جلدی نہیں کرو گے۔

اگر تم اللہ تعالیٰ کے لازم کردہ ہمارے حقوق ادا کرو گے تو ہم تمہارے حوالے سے اپنے فرائض ادا کریں گے۔ آج کسی کو سزا نہیں ملے گی اور آج کے بعد کسی کو سرزنش نہیں کی جائے گی۔

(الاستیعاب: رقم: 1923)

دوسری روایت میں وارد ہے تم ہماری بات سنیں گے اور ہم تم لوگوں میں عدل کریں گے۔ اس پر مسجد کے کونے کونے سے سمعاً سمعاً ’’ہم سنیں، ہم سنیں گے‘‘ کی آوازیں آنے لگیں۔ جس کا جواب انہوں نے عدلاً عدلاً

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 124)، مصر فی العصر الاموی: صفحہ 82)

 ’’انصاف ہو گا انصاف ہو گا‘‘ کہہ کر دیا۔ انہوں نے اسکندریہ میں سرحد پر قیام کرنے کے بعد دار الامارہ قائم کیا۔

(مصرف فی العصر الاموی: صفحہ 82، النجوم الزاہرۃ: جلد 1۔صفحہ 34)

عتبہؓ نے اپنی اولاد کے لیے ایک مؤدِّب کا تقرر کر رکھا تھا جو ان کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سر انجام دیتا، اس کے لیے عبدالصمد بن عبدالاعلیٰ کا تقرر کیا گیا تھا۔

(مکانۃ المعلم فی التراث العربی: زبیدی: صفحہ 106)

عتبہؓ نے انہیں اس حوالے سے راہنما اصول دیتے ہوئے فرمایا تھا: انہیں کتاب اللہ کی تعلیم دیں مگر اس کے لیے ان پر زبردستی نہ کریں ورنہ وہ اکتا جائیں گے اور ان سے لاتعلق بھی نہ رہیں ورنہ وہ اسے چھوڑ دیں گے۔

(البیان و التبیین للجاحظ: جلد 2 صفحہ 73)

اور روایت یہ ہے کہ اس کام کا آغاز اپنی اصلاح سے کرنا اس لیے کہ ان کی آنکھیں تمہاری آنکھوں سے وابستہ ہوں گی جس چیز کو تم اچھا سمجھو گے اسے وہ بھی اچھا سمجھیں گے اور جسے تم برا سمجھو گے اسے وہ بھی برا سمجھیں گے۔ انہیں پاکیزہ اشعار اور حدیث جو اعلیٰ ہے ، سے سیر کریں۔ انہیں ایک علم سے دوسرے علم کی طرف نہ لے جائیں، اس لیے کہ کانوں میں کلام کا رش فہم کو بگاڑ دیتا ہے۔ انہیں حکماء کی سیرت اور ادباء کے اخلاق کی تعلیم دیں اور عورتوں کے ساتھ باتیں کرنے سے بچائیں۔ میرا نام لے اور میرے علاوہ کے ساتھ انہیں مؤدب بنائیں۔ ان کے لیے اس طبیب کا رویہ اپنائیں جو پہلے بیماری تشخیص کرتا اور پھر اس کا علاج کرتا ہے۔ میرے عذر پر اعتماد نہ کرنا اس لیے کہ میں نے تم پر اعتماد کیا ہے کہ تم ہی (میری طرف) سے کفایت کرو گے ، اگر تم ان کی تادیب میں اضافہ کرو گے تو میں تمہارے ساتھ اپنے حسن سلوک میں اضافہ کروں گا۔ ان شاء اللّٰہ۔

(عیون الاخیار: (جلد 2 صفحہ 66) (جلد 2 صفحہ 5)، البیان و التبیین: جلد 2 صفحہ 73، 74)

اس وصیت سے واضح ہوتا ہے کہ اموی ولاۃ الامور اپنے بیٹوں کو قرآن کریم، حدیث رسول اور اشعار وغیرہ کی تعلیم دینے کے بڑے حریص تھے علاوہ ازیں وہ ان کی تربیت کرنے نیز اداب اور اخلاق حسنہ سے آراستہ کرنے کے بڑے دلدادہ تھے اور یہ کہ وہ ان کی تربیت کرنے والے اساتذہ کی بڑی تعظیم و توقیر کیا کرتے تھے۔

(التعلیم فی العصر الاموی: صفحہ 66)

4۔ عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ (45، 46ھ)

طبری نے مصر پر عقبہ بن عامر جہنی کی ولایت کا ذکر نہیں کیا، جبکہ ابن جوزیؒ، ابن الاثیرؒ اور ابن کثیرؒ بھی ان کا ذکر گول کر گئے ہیں، حالانکہ دیار مصر کے ساتھ مختص تاریخی مصادر اس کا اثبات کرتے ہیں۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 287)

جنہیں اس حوالے سے دیگر مصادر پر ترجیح حاصل ہے۔

(صحیح ایضاً: صفحہ 287)

اسی طرح ابن عبدالبر (الاستیعاب: رقم الترجمۃ: 1898) 

اور ابن حجؒر بھی اس کا اثبات کرتے ہیں۔

(الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 521)

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ بڑے عالم اور قاری تھے، فصیح المقال، فقیہ اور علم الفرائض کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے شاعر بھی تھے، آپ بڑی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے قرآن سنانے کی فرمائش کی تو جب انہوں نے تلاوت شروع کی تو خطاب کے بیٹے رونے لگ گئے۔

آپ شرف صحابیت سے مشرف ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی اور پھر مدینہ منورہ میں آپ کے ساتھ ہی مقیم رہے، آپ کا شمار اصحاب صفہ میں ہوتا ہے، جنگ احد کے موقع پر جبل الرماۃ پر متعین کردہ تیر اندازوں میں آپ بھی شامل تھے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے 62ھ میں وفات پائی۔

 (سیر اعلام النبلاء:  جلد 2 صفحہ 468)

5۔ مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ (ھ 62، 63 ) آپ مسلمہ بن مخلد انصاری حزرجی ہیں: آپ امیر اور مصر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نائب تھے۔ آپ کی کنیت ابو معن، ابو سعید یا ابو معاویہ تھی، آپ خود صحابی ہیں مگر آپ کے باپ کو یہ شرف حاصل نہ ہو سکا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 424)

مجاہد کہتے ہیں: میں نے مسلمہ کی اقتداء میں نماز ادا کی، اس دوران انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت کی، انہوں نے نہ کوئی واؤ چھوڑی اور نہ الف۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 425)

لیث کہتے ہیں: عقبہ بن عامر کو 47ھ میں معزول کر کے ان کی جگہ مسلمہ کو اس کا والی مقرر کیا گیا اور وہ یزید کے زمانہ میں اپنی وفات تک اس عہدے پر برقرار رہے۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 425)

آپ ماہ ذوالقعدہ 62ھ میں اسکندریہ کے مقام پر فوت ہوئے۔

(ایضاً : جلد 3 صفحہ 426)

صفحہ 2 از 3