فتوحات دولت اسلامیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتوحات دولت اسلامیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

ہم آئندہ سطور میں روئے زمین پر اسلامی فتوحات کی اس تحریک کے بارے میں تحریر کرنا چاہیں گے جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت سے لے کر پورے اموی دور حکومت میں اختتام پذیر ہوئیں، خلافت راشدہ اور بنو امیہ کے ادوار میں قائم ہونے والی اسلامی فتوحات کی تحریک محض زمین میں توسیع پسندی کی تحریک نہیں تھی اور نہ ہی اسے اس اعتبار سے دیکھنا جائز ہے بلکہ یہ دنیا کی تاریخ میں ایسی سب سے بڑی تحریک تھی جس کا مقصد لوگوں کو رشد و ہدایت سے ہم کنار کرنا اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا تھا۔

بعض پڑھے لکھے لوگوں کے نزدیک ہمارا یہ دعویٰ بڑی حکومت کے اس دعویٰ جیسا ہے کہ جو زمین میں تہذیب عام کرنا چاہتی ہے اور یہ اس کی توسیع پسندانہ تحریک اسی تہذیب کی نشر و اشاعت کی غرض سے ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر ہم قدیم و جدید میں فرعونی، اشوری، فینقی، رومانی، فارسی، ہندی، چینی، برطانوی، فرانسیسی، امریکی اور روسی جیسی ان بے شمار جاہلی سلطنتوں کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کریں گے کہ وہ کس طرح قائم ہوئیں؟ اور انہوں نے زمین میں کن چیزوں کی اشاعت کی؟ اگر یہ کہا جائے کہ وہ طاقت کے زور پر تسلط جما کر قائم ہوئیں، دوسروں کو کمزور کر کے انہیں زبردستی دبا دیا، انہیں اپنی حکومت کے تابع بناتے ہوئے ایسے خدمت گزاروں میں تبدیل کر دیا جو انہیں جنگجو افرادی قوت مہیا کرتے اور ان کے مختلف وسائل خیر سے ان کے معاون و مددگار بنتے اور توسیع پسندانہ نظریات کی حامل یہ آمرانہ حکومتیں اور حکمران ان کمزور و مقہور اور بھوکے لوگوں کے حساب پر عیاشی کرتے، تو اس بارے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 118، 119)

رہا یہ سوال کہ انہوں نے لوگوں کو کیا دیا اور زمین میں کیا کچھ پھیلایا؟ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے کسی قدر خیر کے ساتھ بہت زیادہ شر اور فساد پھیلایا، اس لیے کہ وہ تہذیبیں منہج ربانی پر گامزن نہیں تھیں اور ان میں خیر کم اور فساد زیادہ تھا، اور برتن سے اچھل کر وہی کچھ باہر آئے گا جو اس میں موجود ہو گا اور جس کے پاس خود کچھ نہیں وہ کسی کو کیا دے گا۔ رہی آج کے دور کی مغربی تہذیب تو اس کے ساتھ آنے والے استعمار کی رسوائیاں جو دوسری اقوام کی زمینوں پر قبضہ جمائے، ان کے وسائل خیر کو لوٹنے اور خود انہیں ذلیل کرنے سے عبارت ہیں تو یہ اس کے فساد کی بہترین شہادت ہے۔ اس تہذیب کی طرف سے دنیائے مسائل کا آخری حل جو کہ جدید عالمی نظام سے موسوم ہے وہ سرکشی کی نئی قسم ہے۔ جسے طاقتور ملک کمزور ملکوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور جس کے قابل فخر کارناموں میں سے یورپی طاقتور ملکوں کے مفادات کے لیے پٹرول پیدا کرنے والے ملکوں پر حکومت کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے اور جس کی عملی صورت یہ ہے کہ مختصر مدت میں زیادہ سے زیادہ پٹرول نکال کر دے، کم از کم قیمت پر عالمی مارکیٹوں میں پھینک دیا جائے تاکہ ان سرکش ممالک کی دولت و ثروت اور فقراء کے فقر اور پسماندگی میں مزید اضافہ ہو جائے، ہر ممکن طریقہ سے اسرائیل کی مدد کرنا اور ہمارے اس دشمن کے خلاف عرب ممالک کی تمام صلاحیتوں کو ختم کر دینا بھی اس کے قابل فخر کارناموں میں سے ایک ہے۔

جہاں تک گزشتہ آسمانی مذاہب کے پیروکاروں یہود و نصاریٰ کا تعلق ہے تو انہوں نے زمین میں کیا پھیلایا؟ یہودیوں نے اپنے دین کو بنی اسرائیل کے لیے مخصوص کر لیا، لہٰذا وہ اسے زمین میں پھیلانا پسند ہی نہیں کرتے تاکہ الٰہ ان کا بن کر رہ جائے اور اس میں روئے زمین کے انسانوں میں سے کوئی ایک بھی ان کا شراکت دار نہ رہے۔ رہے نصاریٰ، تو وہ پولوس سے لے کر وسیع پیمانے پر اپنے دین کی اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کس چیز کی اشاعت کی؟ انہوں نے اس دین ربانی کی جگہ جسے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا ایک بت پرستانہ دین کی اشاعت کی جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور روح القدس جبریل امین علیہ السلام کی بندگی کی جاتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ‌۞ (سورۃ المائدة آیت 72)

ترجمہ: وہ لوگ یقیناً کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ 

لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ‌۞ (سورۃ المائدة آیت 73)

ترجمہ: وہ لوگ (بھی) یقیناً کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے 

مزید فرمایا گیا:

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّؤۡتِيَهُ اللّٰهُ الۡكِتٰبَ وَالۡحُكۡمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوۡلَ لِلنَّاسِ كُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّىۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلٰـكِنۡ كُوۡنُوۡا رَبَّانِيّٖنَ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡكِتٰبَ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 79)

ترجمہ: یہ کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے، اور وہ اس کے باوجود لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ اس کے بجائے (وہ تو یہی کہے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ، کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے۔

’’کسی ایسے انسان کے لیے جسے اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت دے یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔‘‘

انہوں نے اس دین کی اشاعت کی جو رہبانیت کی دعوت دیتا، دنیوی زندگی کو مہمل قرار دیتا اور جسم اور جسم کی ضروریات کی تقصیر کرتا ہے، ان مسیحی تعلیمات کی وجہ سے زندگی معطل ہو کر رہ گئی اور زمین کی آبادی ایک فضول شوق قرار پائی، پھر اس کا ردعمل بہت برا ہوا اور وہی عیسائی دنیا جسمانی لذتوں اور زندگی کی مادیات پر ٹوٹ پڑی۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 119)

ارشاد ربانی ہے:

صفحہ 1 از 4