فتوحات دولت اسلامیہ
علی محمد الصلابیہم آئندہ سطور میں روئے زمین پر اسلامی فتوحات کی اس تحریک کے بارے میں تحریر کرنا چاہیں گے جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت سے لے کر پورے اموی دور حکومت میں اختتام پذیر ہوئیں، خلافت راشدہ اور بنو امیہ کے ادوار میں قائم ہونے والی اسلامی فتوحات کی تحریک محض زمین میں توسیع پسندی کی تحریک نہیں تھی اور نہ ہی اسے اس اعتبار سے دیکھنا جائز ہے بلکہ یہ دنیا کی تاریخ میں ایسی سب سے بڑی تحریک تھی جس کا مقصد لوگوں کو رشد و ہدایت سے ہم کنار کرنا اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا تھا۔
بعض پڑھے لکھے لوگوں کے نزدیک ہمارا یہ دعویٰ بڑی حکومت کے اس دعویٰ جیسا ہے کہ جو زمین میں تہذیب عام کرنا چاہتی ہے اور یہ اس کی توسیع پسندانہ تحریک اسی تہذیب کی نشر و اشاعت کی غرض سے ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر ہم قدیم و جدید میں فرعونی، اشوری، فینقی، رومانی، فارسی، ہندی، چینی، برطانوی، فرانسیسی، امریکی اور روسی جیسی ان بے شمار جاہلی سلطنتوں کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کریں گے کہ وہ کس طرح قائم ہوئیں؟ اور انہوں نے زمین میں کن چیزوں کی اشاعت کی؟ اگر یہ کہا جائے کہ وہ طاقت کے زور پر تسلط جما کر قائم ہوئیں، دوسروں کو کمزور کر کے انہیں زبردستی دبا دیا، انہیں اپنی حکومت کے تابع بناتے ہوئے ایسے خدمت گزاروں میں تبدیل کر دیا جو انہیں جنگجو افرادی قوت مہیا کرتے اور ان کے مختلف وسائل خیر سے ان کے معاون و مددگار بنتے اور توسیع پسندانہ نظریات کی حامل یہ آمرانہ حکومتیں اور حکمران ان کمزور و مقہور اور بھوکے لوگوں کے حساب پر عیاشی کرتے، تو اس بارے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 118، 119)
رہا یہ سوال کہ انہوں نے لوگوں کو کیا دیا اور زمین میں کیا کچھ پھیلایا؟ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے کسی قدر خیر کے ساتھ بہت زیادہ شر اور فساد پھیلایا، اس لیے کہ وہ تہذیبیں منہج ربانی پر گامزن نہیں تھیں اور ان میں خیر کم اور فساد زیادہ تھا، اور برتن سے اچھل کر وہی کچھ باہر آئے گا جو اس میں موجود ہو گا اور جس کے پاس خود کچھ نہیں وہ کسی کو کیا دے گا۔ رہی آج کے دور کی مغربی تہذیب تو اس کے ساتھ آنے والے استعمار کی رسوائیاں جو دوسری اقوام کی زمینوں پر قبضہ جمائے، ان کے وسائل خیر کو لوٹنے اور خود انہیں ذلیل کرنے سے عبارت ہیں تو یہ اس کے فساد کی بہترین شہادت ہے۔ اس تہذیب کی طرف سے دنیائے مسائل کا آخری حل جو کہ جدید عالمی نظام سے موسوم ہے وہ سرکشی کی نئی قسم ہے۔ جسے طاقتور ملک کمزور ملکوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور جس کے قابل فخر کارناموں میں سے یورپی طاقتور ملکوں کے مفادات کے لیے پٹرول پیدا کرنے والے ملکوں پر حکومت کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے اور جس کی عملی صورت یہ ہے کہ مختصر مدت میں زیادہ سے زیادہ پٹرول نکال کر دے، کم از کم قیمت پر عالمی مارکیٹوں میں پھینک دیا جائے تاکہ ان سرکش ممالک کی دولت و ثروت اور فقراء کے فقر اور پسماندگی میں مزید اضافہ ہو جائے، ہر ممکن طریقہ سے اسرائیل کی مدد کرنا اور ہمارے اس دشمن کے خلاف عرب ممالک کی تمام صلاحیتوں کو ختم کر دینا بھی اس کے قابل فخر کارناموں میں سے ایک ہے۔
جہاں تک گزشتہ آسمانی مذاہب کے پیروکاروں یہود و نصاریٰ کا تعلق ہے تو انہوں نے زمین میں کیا پھیلایا؟ یہودیوں نے اپنے دین کو بنی اسرائیل کے لیے مخصوص کر لیا، لہٰذا وہ اسے زمین میں پھیلانا پسند ہی نہیں کرتے تاکہ الٰہ ان کا بن کر رہ جائے اور اس میں روئے زمین کے انسانوں میں سے کوئی ایک بھی ان کا شراکت دار نہ رہے۔ رہے نصاریٰ، تو وہ پولوس سے لے کر وسیع پیمانے پر اپنے دین کی اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کس چیز کی اشاعت کی؟ انہوں نے اس دین ربانی کی جگہ جسے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا ایک بت پرستانہ دین کی اشاعت کی جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور روح القدس جبریل امین علیہ السلام کی بندگی کی جاتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ۞ (سورۃ المائدة آیت 72)
ترجمہ: وہ لوگ یقیناً کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔
لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ۞ (سورۃ المائدة آیت 73)
ترجمہ: وہ لوگ (بھی) یقیناً کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے
مزید فرمایا گیا:
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّؤۡتِيَهُ اللّٰهُ الۡكِتٰبَ وَالۡحُكۡمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوۡلَ لِلنَّاسِ كُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّىۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلٰـكِنۡ كُوۡنُوۡا رَبَّانِيّٖنَ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡكِتٰبَ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 79)
ترجمہ: یہ کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے، اور وہ اس کے باوجود لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ اس کے بجائے (وہ تو یہی کہے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ، کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے۔
’’کسی ایسے انسان کے لیے جسے اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت دے یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔‘‘
انہوں نے اس دین کی اشاعت کی جو رہبانیت کی دعوت دیتا، دنیوی زندگی کو مہمل قرار دیتا اور جسم اور جسم کی ضروریات کی تقصیر کرتا ہے، ان مسیحی تعلیمات کی وجہ سے زندگی معطل ہو کر رہ گئی اور زمین کی آبادی ایک فضول شوق قرار پائی، پھر اس کا ردعمل بہت برا ہوا اور وہی عیسائی دنیا جسمانی لذتوں اور زندگی کی مادیات پر ٹوٹ پڑی۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 119)
ارشاد ربانی ہے:
وَرَهۡبَانِيَّةَ ابۡتَدَعُوۡهَا مَا كَتَبۡنٰهَا عَلَيۡهِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ الحديد آیت 27)
ترجمہ: اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہی، پھر اس کی ویسی رعایت نہ کرسکے جیسے اس کا حق تھا۔ غرض ان میں سے جو ایمان لائے تھے، ان کو ہم نے ان کا اجر دیا، اور ان میں سے بہت لوگ نافرمان ہی رہے۔
اس کے ساتھ ایسا انہوں نے دین پروان چڑھا جسے کنیسہ اور اس کے رجال کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے اور جن کی قیادت پاپا(پوپ) کے ہاتھ میں ہے جو زندگی کے تمام گوشوں میں سنگین قسم کی سرکشی کے مختلف رنگ متعارف کرواتا، عقل و فکر سے عداوت رکھتا، ان کے استعمال پر پابندیاں لگاتا، علماء پر ظلم ڈھاتا اور انہیں علمی بحث و مباحثہ سے روکتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں زندگی ہر پہلو سے پیچھے رہ گئی، مگر اس کا جو ردّعمل ہوا وہ بہت ہی برا تھا جس کا مشاہدہ الحاد و بے دینی، دین سے دوری بلکہ دین سے عداوت کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں کنیسہ کے ہاتھوں آسمانی رسالت اپنے نزول کے مقاصد سے ہاتھ دھو بیٹھی، اور اصلاح کی جگہ فساد کا دور دورہ ہو گیا، عیسائیت کے پہلے دور میں بھی یہی کچھ ہوا اور دوسرے دور میں بھی۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 120)
اس کے برعکس زمین میں اسلامی پھیلاؤ انسانی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے، وہ اس شہنشاہیت کی وسعت پذیری سے بالکل ہٹ کر ہے جس کی جاہلیت قدیمہ و جدیدہ مشق کرتی رہی ہے۔ وہ اس تباہ کن طغیان و سرکشی سے بالکل مختلف ہے جس کی تحریف شدہ نصرانیت مشق کرتی چلی آئی ہے۔ تاریخ عالم کی اس انوکھی تحریک کے دوران مسلمان گمراہی کی جگہ ہدایت، تاریکیوں کی جگہ روشنی اور حکمرانوں، کاہنوں اور بتوں کی پرستش کی جگہ صحیح عبودیت پھیلاتے رہے، زمین میں زیردستوں کو آزادی کے پروانے عطا کرتے رہے، لوگوں کو ان کی گم شدہ انسانیت واپس کرتے رہے اور انہیں انسان کے شایانِ شان مقام پر فائز کرتے رہے۔ وہ عدل و انصاف، اخوت و مودت، رواداری اور برداشت کی ایسی قدروں کو عام کرتے رہے جن کی اسلام کے علاوہ کہیں مثال نہیں ملتی۔ مسلمان ایسی عالی شان اور ہمہ گیر حقیقی تہذیب کی اشاعت کرتے تھے جسے وہ صرف اپنے لیے ہی پسند نہیں کرتے تھے بلکہ انہوں نے اس کے دروازے زمین میں رہنے والے ہر مسلمان کے لیے کھول رکھے تھے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اندلس، مشرقی یورپ کے نصاریٰ اور عالم اسلام کے مختلف شہروں اور علاقوں میں رہنے والے یہودی بھی اس کے سایہ عاطفت میں راحت محسوس کرتے تھے، ہندوستان میں گائے کے پجاری اور بت پرست تک بھی اس اسلامی تہذیب کے گھنے سائے میں پرلطف زندگی گزارتے تھے۔ اہل اسلام نے مفتوحہ ممالک کی دولت کو کبھی نہیں لوٹا اور نہ اپنی حکومتی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کے باسیوں کو دبانے کی کوشش کی۔ وہ سب سے پہلے انہیں مجسمہ خیر دین اسلام کی دعوت دیتے اگر وہ اسے قبول کر لیتے تو وہ دینی اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی بن جاتے اور اگر وہ اس سے انکار کرتے تو مسلمان ان سے جزیہ کا مطالبہ کرتے اور اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے تو پھر فریقین میں جنگ ہوتی۔ مگر یاد رہے کہ یہ جنگ کسی کو قبول اسلام کے لیے مجبور کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ قوت کے ان مراکز کے خاتمہ کے لیے ہوتی جو حق کو لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ تھے، پھر جب سرکشی کے مراکز کا خاتمہ کر دیا جاتا اور انسانی نفوس سے ان کی تاثیر زائل ہو جاتی تو لوگوں کو اسلام کے سایہ عاطفت میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تاکہ وہ جس دین کو چاہیں اسے اپنا سکیں۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی : صفحہ 121)
مذموم مقاصد کے حامل بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلامی فتوحات کی تحریک کا اصل سبب مال و زر کا حصول تھا، مگر اس دعویٰ کا بودا پن اس امر سے واضح ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو اقتصادی مقاصد متحرک کرتے ہیں وہ اس طرح گھروں سے نہیں نکلتے کہ سب سے پہلے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں اور اگر وہ مشرف باسلام ہو جائیں تو اپنے ہتھیار پھینک کر انہیں بھائیوں کی طرح گلے لگا لیں اور پھر انہیں اسلامی تعلیمات سے فیض یاب کرنے لگ جائیں تاکہ وہ بھی اس خیر ربانی میں ان کے شراکت دار بن جائیں جو رب کائنات نے انہیں پہلے سے عطا کر رکھی ہے، اس قسم کے جھوٹے لوگ تاریخ پر جھوٹ باندھنے کے مرتکب ہوتے اور بہت بڑی علمی خیانت سے روسیاہ ہوتے ہیں۔
(ایضاً)
اصل بات یہ ہے کہ امت اسلامیہ کے نفوس میں اسلامی وجود کی گہرائی ہی وہ اصل قوت تھی جس کی وجہ سے امت مسلمہ متحرک ہوئی، اگر اسلامی وجود اس کی گہرائی میں نہ اتر چکا ہوتا اور وہ اس کی تعلیمات کی کماحقہٗ نمائندگی نہ کر رہی ہوتی تو وہ اس قدر برق رفتاری کے ساتھ اتنی موثر اور فعال تحریک برپا کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکتی، یہ امت، دین اسلام کے لیے بڑی حریص تھی اور اس پر پختہ ایمان رکھتی تھی اور اسے اس بات میں بڑی دلچسپی تھی کہ وہ اسے زمین کے گوشہ گوشہ میں عام کرے اور بنی نوع انسان کو اس سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرے، فتوحات اسلامیہ کی اس تحریک کے دوران جس قسم کے عجیب و غریب واقعات پیش آئے ان کا صدور محض قوت کی وجہ سے ممکن نہیں تھا کتنی ہی سرکش اور متمرد قوتوں نے اپنی طاقت کو زمین میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے اندھا دھند استعمال کیا مگر وہ تاریخ عالم کے صفحات پر وہ عجائب رقم نہ کر سکی جو تحریک اسلامی کے حصے میں آئے۔
تلوار کے ذریعے زمین کو فتح کرنا تو ممکن ہے مگر وہ دلوں کو فتح نہیں کر سکتی، اسلامی فتوحات کی تحریک کے دوران جو کچھ ہوا وہ محض توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے ممکن نہیں تھا، دلوں کو فتح کرنے کا مقصد انہیں اسلام کے فیوض و برکات سے مستفید کرنا تھا اور وہ ان سے اس حد تک مستفید ہوتے کہ اکثر علاقوں میں مفتوحہ اقوام اپنی مادری زبانوں کو بھول گئیں اور دین اسلام کی زبان (عربی) کو سرکاری زبان کے طور پر اپنا لیا یہاں تک کہ غیر مسلم اقوام نے بھی۔ اگر فاتحین حقیقی مسلمان نہ ہوتے تو ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، اور اگر وہ عقیدہ و عمل میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہوتے تو اسلامی فتوحات کے دوران ان عجائبات کا ظہور نہیں ہو سکتا تھا۔
اس قوت سے متعلق ایک اور بات بھی انتہائی قابل توجہ ہے کہ وہ اکثر اوقات اپنی تعداد، تیاری اور جنگی تجربہ کے اعتبار سے بڑی نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے مدمقابل فریق ان حوالوں میں ان سے کہیں بڑھ کر ہوتا تھا مگر وہ پھر بھی مسلمانوں کی قوت کے سامنے ڈھیر ہو جاتا۔ اگر فاتحین کے پاس مادی عنصر کے علاوہ کوئی اور عنصر نہ ہوتا تو وہ اس دشمن پر غلبہ حاصل نہ کر پاتے جو حربی فنون میں بھی ان پر فوقیت رکھتے تھے اور تعداد اور تیاری میں بھی، اور وہ عنصر تھا: وہ زندہ اور متحرک عقیدہ جو دلوں کو بھر دیا کرتا تھا، یہ ہے وہ دلیل جس پر ہم اس جگہ ان دعویٰ جات کے برعکس توجہ مرکوز کریں گے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ بنو امیہ کے انحرافات نے دین کے آغاز کار میں ہی اس کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ ہم اس نکتہ پر ذرا تفصیل سے گفتگو کرنا چاہیں گے۔ اس دوران ہم قارئین کے ذہنوں سے یہ خبیث تاثر دور کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلام خلافت راشدہ کے اختتام کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا اور اس کا وجود باقی نہیں رہا تھا اور ایسا ہم پوری امانت داری اور باریک بینی کے ساتھ اسلام کے امر واقع کی روشنی میں کرنا چاہیں گے۔
اموی دور حکومت میں انحرافات و استقامات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انحراف کے باوجود بھی حقیقی دین اسلام سے جو کچھ بچ رہا وہ بھاری بھر کم تھا اور یہ دین حنیف کی شان و شوکت کی قوی دلیل ہے اور یہ کہ اس کی جڑیں بڑی گہری اور مضبوط ہیں، بایں طور کہ حاصل کردہ بھاری بھر کم حصہ باقی رہا اور اس کی وجہ سے تر و تازگی سلامت رہی جو روئے زمین میں پورے جوش و خروش اور شجاعت و بسالت کے ساتھ دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے کوشاں تھی اور جو ذمہ داری خاص طور پر عہد اموی میں اہل اسلام نے نبھائی۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 122)
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے کے بارے میں آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کے زیادہ تر افراد میں انحطاط تنزلی آ گئی مگر آپ اسے انحراف سے تعبیر نہیں کر سکتے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں اور لوگوں کے نفوس سے اس نئی اٹھان کے اثر کے زوال کے بعد اس معاشرے میں اس کی توقع کی جا سکتی تھی، مگر یہ وہی نسل تھی جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ((خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ))
(بخاری)
’’تم میں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر وہ لوگ جو اُن کے بعد آئیں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔‘‘ بنو امیہ کا زمانہ فضیلت کا حامل زمانہ تھا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کے بعد (اس کے مقابلے میں)کسی بھی انسان کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں۔
(ایضاً: صفحہ 123)
یہ درست ہے کہ ہم اس وقت اسلام کے عادی معیار کے سامنے کھڑے ہیں اور اگرچہ یہ معیار وہ اعلیٰ ترین معیار نہیں ہے جس تک قبل ازیں کی نسل نفیس نے رسائی حاصل کی تھی مگر ذاتی طور سے یہ معیار رفیع الشان تھا اور وہ اس وقت بھی لوگوں میں وہ بھلائیاں بانٹ رہا تھا جو کسی اور نظام کے بس کا روگ نہیں تھا۔
(ایضاً: صفحہ 123)
حقیقت تو یہ ہے کہ اموی معاشرے میں کئی افراد خوبصورت اور قابل رشک معیار پر فائز تھے اور مسلمانوں کی تمام نسلوں میں سے کوئی نسل بھی حتیٰ کہ انحطاط کے زمانوں میں بھی اس بلند تر معیار سے محروم نہیں رہی۔ البتہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کے متفرق نمونوں میں کمی ضرور آتی گئی۔ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں تحریک جہاد کا ازسر نو آغاز ان کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھی، انہوں نے بلاد شام پر اپنی ولایت کے دوران اس حوالے سے بڑی شہرت پائی تھی اور اعزازی مقام حاصل کیا تھا، شام بڑا وسیع جہادی محاذ تھا، ایک مجاہد کی حیثیت سے ان کی شہرت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انہیں سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار خلافت میں بری اور بحری دونوں طرح کے دشمن کے خلاف برسرپیکار ہونے کی توفیق سے نوازا گیا اور انہیں شام کے شمالی ساحل پر بڑی بڑی فتوحات حاصل ہوئیں، مزید برآں انہیں اسلامی بحریہ کی تأسیس کرنے، رومیوں کو سمندری شکست سے دوچار کرنے اور مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی بار ان سے قیادت و سیادت چھین لینے کا شرف عظیم حاصل ہوا۔
(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 123)
الغرض دولت امویہ میں جہاد فی سبیل اللہ کو مسلمانوں کی زندگی میں اصل الاصول کی حیثیت حاصل رہی۔ جہاد اور فتوحات کے حوالے سے مسلمان قیادت کے لیے اموال غنیمت کا حصول اصل محرک نہیں تھا، اگرچہ بعض افراد کے بارے میں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر ان لوگوں سے کوئی بھی لشکر خالی نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس قسم کے چند افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھے: ﴿وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا﴾(سورۃ اٰل عمران آیت 152)
ترجمہ: ’’اور تم میں سے کوئی دنیا کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔‘‘
مگر یہ صورت حال نہ تو مسلمانوں کی فتوحات کے درمیان ان کے نکتہ نظر کی عکاسی کرتی ہے اور نہ اس فکری قیادت کی جسے خلیفہ اور دیگر قائدین ترتیب دیتے اور اسے سپاہِ اسلام نافذ کرتی ہے۔ مزید برآں اس سے امت کے نکتہ نظر اور اس کی عمومی رائے کی بھی عکاسی نہیں ہوتی۔
(الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین: صفحہ 239)
اس کی دلیل یہ ہے کہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم نہ صرف یہ کہ ان فتوحات میں شریک رہے بلکہ وہ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب بھی دلاتے رہے جس کی حوادثات جہاد اور جنگی محاذوں پر امویوں کی کوششوں سے وضاحت ہوتی ہے؛ مثلاً رومی محاذ جہاں مجاہدین اسلام کو شجاعت و دلیری کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا تھا وہ بیت المال پر ایک بوجھ تھا اس لیے کہ وہاں کے حملوں میں کوئی خاص پیش قدمی نہیں ہو رہی تھی،
(الفتوحات بین دوافعہاد الاسلامیۃ و دعاوی المستشرقین: صفحہ 78)
خصوصاً جب ہم قسطنطنیہ پر ان تین بڑے حملوں کا ذکر کرتے ہیں جن پر بڑے بھاری اخراجات اٹھے تھے۔
(الدولۃ الامویۃ: یوسف العیشی: صفحہ 346)
اموی عہد حکومت کے مجاہدین نے قربانی، شجاعت بہادری اور اخلاص نیت کے بڑے خوبصورت اور یادگار واقعات چھوڑے۔ ان مجاہدین کا تعلق قائدین اور امراء کے ساتھ ہو یا عام سپاہ اسلام کے ساتھ، یا ان کا شمار علماء و زاہدین کی جماعتوں کے ساتھ جنہوں نے عبادتِ جہاد کا فہم حاصل کیا اور پھر عملاً اس میں حصہ لیا۔ اخلاص و نیک نیتی اور قربانی کے یہ واقعات تمام جہادی محاذوں پر اور جہاد کے تمام مراحل میں دیکھے جا سکتے ہیں اور یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ عہد اموی میں اسلامی فتوحات کے دوران مسلمانوں کے دلوں میں اسلامی جذبہ بڑا گہرا تھا اور اس سے ان شکوک و شبہات کی نفی ہوتی ہے جسے منحرفین بنوامیہ کے ان افعال کے بارے میں پیدا کرتے ہیں جن کا شمار ان کے قابل فخر کارناموں میں ہوتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اموی عہد حکومت میں فتوحات پر اسلامی رنگ غالب تھا۔
اس دور کی فتوحات کی تحریک کا تاریخی اور آخری نتیجہ یہ تھا کہ عالم اسلام دور دراز علاقوں تک پھیل گیا جس دوران اس نے زمین بھی کمائی اور انسان بھی، اور ساتھ ہی ساتھ فتوحات کی اس تحریک کی پہلی لہر کی کامیابیوں کو محفوظ بنا لیا جس کی قیادت خلفائے راشدینؓ نے کی تھی۔ فتوحات کی دوسری لہر کا آغاز خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ہوا، بعد ازاں یہ تسلسل کے ساتھ جاری رہیں یہاں تک کہ ولید کے عہد حکومت میں اپنی وسعتوں کی انتہاء کو پہنچ گئیں۔
(فی التاصیل الاسلامی للتاریخ: صفحہ 92، 93 )