فتوحات دولت اسلامیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتوحات دولت اسلامیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

 وَرَهۡبَانِيَّةَ ابۡتَدَعُوۡهَا مَا كَتَبۡنٰهَا عَلَيۡهِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا‌ فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ‌ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ الحديد آیت 27)

ترجمہ: اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہی، پھر اس کی ویسی رعایت نہ کرسکے جیسے اس کا حق تھا۔ غرض ان میں سے جو ایمان لائے تھے، ان کو ہم نے ان کا اجر دیا، اور ان میں سے بہت لوگ نافرمان ہی رہے۔

اس کے ساتھ ایسا انہوں نے دین پروان چڑھا جسے کنیسہ اور اس کے رجال کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے اور جن کی قیادت پاپا(پوپ) کے ہاتھ میں ہے جو زندگی کے تمام گوشوں میں سنگین قسم کی سرکشی کے مختلف رنگ متعارف کرواتا، عقل و فکر سے عداوت رکھتا، ان کے استعمال پر پابندیاں لگاتا، علماء پر ظلم ڈھاتا اور انہیں علمی بحث و مباحثہ سے روکتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں زندگی ہر پہلو سے پیچھے رہ گئی، مگر اس کا جو ردّعمل ہوا وہ بہت ہی برا تھا جس کا مشاہدہ الحاد و بے دینی، دین سے دوری بلکہ دین سے عداوت کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں کنیسہ کے ہاتھوں آسمانی رسالت اپنے نزول کے مقاصد سے ہاتھ دھو بیٹھی، اور اصلاح کی جگہ فساد کا دور دورہ ہو گیا، عیسائیت کے پہلے دور میں بھی یہی کچھ ہوا اور دوسرے دور میں بھی۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 120)

اس کے برعکس زمین میں اسلامی پھیلاؤ انسانی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے، وہ اس شہنشاہیت کی وسعت پذیری سے بالکل ہٹ کر ہے جس کی جاہلیت قدیمہ و جدیدہ مشق کرتی رہی ہے۔ وہ اس تباہ کن طغیان و سرکشی سے بالکل مختلف ہے جس کی تحریف شدہ نصرانیت مشق کرتی چلی آئی ہے۔ تاریخ عالم کی اس انوکھی تحریک کے دوران مسلمان گمراہی کی جگہ ہدایت، تاریکیوں کی جگہ روشنی اور حکمرانوں، کاہنوں اور بتوں کی پرستش کی جگہ صحیح عبودیت پھیلاتے رہے، زمین میں زیردستوں کو آزادی کے پروانے عطا کرتے رہے، لوگوں کو ان کی گم شدہ انسانیت واپس کرتے رہے اور انہیں انسان کے شایانِ شان مقام پر فائز کرتے رہے۔ وہ عدل و انصاف، اخوت و مودت، رواداری اور برداشت کی ایسی قدروں کو عام کرتے رہے جن کی اسلام کے علاوہ کہیں مثال نہیں ملتی۔ مسلمان ایسی عالی شان اور ہمہ گیر حقیقی تہذیب کی اشاعت کرتے تھے جسے وہ صرف اپنے لیے ہی پسند نہیں کرتے تھے بلکہ انہوں نے اس کے دروازے زمین میں رہنے والے ہر مسلمان کے لیے کھول رکھے تھے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اندلس، مشرقی یورپ کے نصاریٰ اور عالم اسلام کے مختلف شہروں اور علاقوں میں رہنے والے یہودی بھی اس کے سایہ عاطفت میں راحت محسوس کرتے تھے، ہندوستان میں گائے کے پجاری اور بت پرست تک بھی اس اسلامی تہذیب کے گھنے سائے میں پرلطف زندگی گزارتے تھے۔ اہل اسلام نے مفتوحہ ممالک کی دولت کو کبھی نہیں لوٹا اور نہ اپنی حکومتی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کے باسیوں کو دبانے کی کوشش کی۔ وہ سب سے پہلے انہیں مجسمہ خیر دین اسلام کی دعوت دیتے اگر وہ اسے قبول کر لیتے تو وہ دینی اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی بن جاتے اور اگر وہ اس سے انکار کرتے تو مسلمان ان سے جزیہ کا مطالبہ کرتے اور اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے تو پھر فریقین میں جنگ ہوتی۔ مگر یاد رہے کہ یہ جنگ کسی کو قبول اسلام کے لیے مجبور کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ قوت کے ان مراکز کے خاتمہ کے لیے ہوتی جو حق کو لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ تھے، پھر جب سرکشی کے مراکز کا خاتمہ کر دیا جاتا اور انسانی نفوس سے ان کی تاثیر زائل ہو جاتی تو لوگوں کو اسلام کے سایہ عاطفت میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تاکہ وہ جس دین کو چاہیں اسے اپنا سکیں۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی : صفحہ 121)

مذموم مقاصد کے حامل بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلامی فتوحات کی تحریک کا اصل سبب مال و زر کا حصول تھا، مگر اس دعویٰ کا بودا پن اس امر سے واضح ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو اقتصادی مقاصد متحرک کرتے ہیں وہ اس طرح گھروں سے نہیں نکلتے کہ سب سے پہلے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں اور اگر وہ مشرف باسلام ہو جائیں تو اپنے ہتھیار پھینک کر انہیں بھائیوں کی طرح گلے لگا لیں اور پھر انہیں اسلامی تعلیمات سے فیض یاب کرنے لگ جائیں تاکہ وہ بھی اس خیر ربانی میں ان کے شراکت دار بن جائیں جو رب کائنات نے انہیں پہلے سے عطا کر رکھی ہے، اس قسم کے جھوٹے لوگ تاریخ پر جھوٹ باندھنے کے مرتکب ہوتے اور بہت بڑی علمی خیانت سے روسیاہ ہوتے ہیں۔

(ایضاً)

اصل بات یہ ہے کہ امت اسلامیہ کے نفوس میں اسلامی وجود کی گہرائی ہی وہ اصل قوت تھی جس کی وجہ سے امت مسلمہ متحرک ہوئی، اگر اسلامی وجود اس کی گہرائی میں نہ اتر چکا ہوتا اور وہ اس کی تعلیمات کی کماحقہٗ نمائندگی نہ کر رہی ہوتی تو وہ اس قدر برق رفتاری کے ساتھ اتنی موثر اور فعال تحریک برپا کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکتی، یہ امت، دین اسلام کے لیے بڑی حریص تھی اور اس پر پختہ ایمان رکھتی تھی اور اسے اس بات میں بڑی دلچسپی تھی کہ وہ اسے زمین کے گوشہ گوشہ میں عام کرے اور بنی نوع انسان کو اس سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرے، فتوحات اسلامیہ کی اس تحریک کے دوران جس قسم کے عجیب و غریب واقعات پیش آئے ان کا صدور محض قوت کی وجہ سے ممکن نہیں تھا کتنی ہی سرکش اور متمرد قوتوں نے اپنی طاقت کو زمین میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے اندھا دھند استعمال کیا مگر وہ تاریخ عالم کے صفحات پر وہ عجائب رقم نہ کر سکی جو تحریک اسلامی کے حصے میں آئے۔

صفحہ 2 از 4