فتوحات دولت اسلامیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتوحات دولت اسلامیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

تلوار کے ذریعے زمین کو فتح کرنا تو ممکن ہے مگر وہ دلوں کو فتح نہیں کر سکتی، اسلامی فتوحات کی تحریک کے دوران جو کچھ ہوا وہ محض توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے ممکن نہیں تھا، دلوں کو فتح کرنے کا مقصد انہیں اسلام کے فیوض و برکات سے مستفید کرنا تھا اور وہ ان سے اس حد تک مستفید ہوتے کہ اکثر علاقوں میں مفتوحہ اقوام اپنی مادری زبانوں کو بھول گئیں اور دین اسلام کی زبان (عربی) کو سرکاری زبان کے طور پر اپنا لیا یہاں تک کہ غیر مسلم اقوام نے بھی۔ اگر فاتحین حقیقی مسلمان نہ ہوتے تو ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، اور اگر وہ عقیدہ و عمل میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہوتے تو اسلامی فتوحات کے دوران ان عجائبات کا ظہور نہیں ہو سکتا تھا۔

اس قوت سے متعلق ایک اور بات بھی انتہائی قابل توجہ ہے کہ وہ اکثر اوقات اپنی تعداد، تیاری اور جنگی تجربہ کے اعتبار سے بڑی نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے مدمقابل فریق ان حوالوں میں ان سے کہیں بڑھ کر ہوتا تھا مگر وہ پھر بھی مسلمانوں کی قوت کے سامنے ڈھیر ہو جاتا۔ اگر فاتحین کے پاس مادی عنصر کے علاوہ کوئی اور عنصر نہ ہوتا تو وہ اس دشمن پر غلبہ حاصل نہ کر پاتے جو حربی فنون میں بھی ان پر فوقیت رکھتے تھے اور تعداد اور تیاری میں بھی، اور وہ عنصر تھا: وہ زندہ اور متحرک عقیدہ جو دلوں کو بھر دیا کرتا تھا، یہ ہے وہ دلیل جس پر ہم اس جگہ ان دعویٰ جات کے برعکس توجہ مرکوز کریں گے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ بنو امیہ کے انحرافات نے دین کے آغاز کار میں ہی اس کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ ہم اس نکتہ پر ذرا تفصیل سے گفتگو کرنا چاہیں گے۔ اس دوران ہم قارئین کے ذہنوں سے یہ خبیث تاثر دور کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلام خلافت راشدہ کے اختتام کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا اور اس کا وجود باقی نہیں رہا تھا اور ایسا ہم پوری امانت داری اور باریک بینی کے ساتھ اسلام کے امر واقع کی روشنی میں کرنا چاہیں گے۔

اموی دور حکومت میں انحرافات و استقامات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انحراف کے باوجود بھی حقیقی دین اسلام سے جو کچھ بچ رہا وہ بھاری بھر کم تھا اور یہ دین حنیف کی شان و شوکت کی قوی دلیل ہے اور یہ کہ اس کی جڑیں بڑی گہری اور مضبوط ہیں، بایں طور کہ حاصل کردہ بھاری بھر کم حصہ باقی رہا اور اس کی وجہ سے تر و تازگی سلامت رہی جو روئے زمین میں پورے جوش و خروش اور شجاعت و بسالت کے ساتھ دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے کوشاں تھی اور جو ذمہ داری خاص طور پر عہد اموی میں اہل اسلام نے نبھائی۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 122)

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے کے بارے میں آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کے زیادہ تر افراد میں انحطاط تنزلی آ گئی مگر آپ اسے انحراف سے تعبیر نہیں کر سکتے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں اور لوگوں کے نفوس سے اس نئی اٹھان کے اثر کے زوال کے بعد اس معاشرے میں اس کی توقع کی جا سکتی تھی، مگر یہ وہی نسل تھی جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ((خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ)) 

(بخاری)

’’تم میں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر وہ لوگ جو اُن کے بعد آئیں گے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔‘‘ بنو امیہ کا زمانہ فضیلت کا حامل زمانہ تھا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کے بعد (اس کے مقابلے میں)کسی بھی انسان کی شہادت کا کوئی اعتبار نہیں۔

(ایضاً: صفحہ 123)

یہ درست ہے کہ ہم اس وقت اسلام کے عادی معیار کے سامنے کھڑے ہیں اور اگرچہ یہ معیار وہ اعلیٰ ترین معیار نہیں ہے جس تک قبل ازیں کی نسل نفیس نے رسائی حاصل کی تھی مگر ذاتی طور سے یہ معیار رفیع الشان تھا اور وہ اس وقت بھی لوگوں میں وہ بھلائیاں بانٹ رہا تھا جو کسی اور نظام کے بس کا روگ نہیں تھا۔

(ایضاً: صفحہ 123)

حقیقت تو یہ ہے کہ اموی معاشرے میں کئی افراد خوبصورت اور قابل رشک معیار پر فائز تھے اور مسلمانوں کی تمام نسلوں میں سے کوئی نسل بھی حتیٰ کہ انحطاط کے زمانوں میں بھی اس بلند تر معیار سے محروم نہیں رہی۔ البتہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کے متفرق نمونوں میں کمی ضرور آتی گئی۔ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں تحریک جہاد کا ازسر نو آغاز ان کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھی، انہوں نے بلاد شام پر اپنی ولایت کے دوران اس حوالے سے بڑی شہرت پائی تھی اور اعزازی مقام حاصل کیا تھا، شام بڑا وسیع جہادی محاذ تھا، ایک مجاہد کی حیثیت سے ان کی شہرت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انہیں سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار خلافت میں بری اور بحری دونوں طرح کے دشمن کے خلاف برسرپیکار ہونے کی توفیق سے نوازا گیا اور انہیں شام کے شمالی ساحل پر بڑی بڑی فتوحات حاصل ہوئیں، مزید برآں انہیں اسلامی بحریہ کی تأسیس کرنے، رومیوں کو سمندری شکست سے دوچار کرنے اور مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی بار ان سے قیادت و سیادت چھین لینے کا شرف عظیم حاصل ہوا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 123)

الغرض دولت امویہ میں جہاد فی سبیل اللہ کو مسلمانوں کی زندگی میں اصل الاصول کی حیثیت حاصل رہی۔ جہاد اور فتوحات کے حوالے سے مسلمان قیادت کے لیے اموال غنیمت کا حصول اصل محرک نہیں تھا، اگرچہ بعض افراد کے بارے میں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر ان لوگوں سے کوئی بھی لشکر خالی نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس قسم کے چند افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھے: ﴿وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا﴾(سورۃ اٰل عمران آیت 152)

ترجمہ: ’’اور تم میں سے کوئی دنیا کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔‘‘

مگر یہ صورت حال نہ تو مسلمانوں کی فتوحات کے درمیان ان کے نکتہ نظر کی عکاسی کرتی ہے اور نہ اس فکری قیادت کی جسے خلیفہ اور دیگر قائدین ترتیب دیتے اور اسے سپاہِ اسلام نافذ کرتی ہے۔ مزید برآں اس سے امت کے نکتہ نظر اور اس کی عمومی رائے کی بھی عکاسی نہیں ہوتی۔

(الدولۃ الامویۃ: حمدی شاہین: صفحہ 239)

صفحہ 3 از 4